’اس بار بلاول بھٹو کا لیاری کی نشست سے انتخابات لڑنے کا دل نہیں تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بلاول بھٹو کو لیاری میں انتخابی مہم کے دوران احتجاجی مظاہرے کا سامنا کرنا پڑا

پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی گڑھ لیاری کی نشست این اے 246 سے بلاول بھٹو زرداری اس بار صرف 39325 ووٹ حاصل کر سکے۔

بلاول بھٹو زرداری کے مدمقابل پاکستان تحریکِ انصاف کے شکور شاد کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ تحریکِ لبیک پاکستان دوسرے نمبر پر ہےـ فی الحال تو پیپلز پارٹی نے نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا ہےـ لیکن علاقے سے منسلک لوگوں کا کہنا ہے کہ لیاری سے پی پی پی کا ہارنا حیران کن اس لیے نہیں ہے کیونکہ لیاری کی عوام نے اب جا کر پی پی پی کو چھوڑا ہے جبکہ پی پی پی کی قیادت نے بہت پہلے ہی لیاری سے ہاتھ اٹھا لیا تھاـ

پی پی پی اور آزاد امیدوار

پی پی پی کے سابق کارکن اور پی ایس 108 سے آزاد امیدوار حبیب حسن نے کہا کہ ’اس بار بلاول بھٹو کا لیاری کی نشست سے انتخابات لڑنے کا دل نہیں تھاـ اور ان کو اس بارے میں یہ کہہ کر منایا گیا کہ یہ ان کی آبائی نشست ہے جس کو کسی اور کے لیے نہیں چھوڑ سکتےـ لیاری میں زیادہ تر افراد کا دل تھا کہ آصفہ بھٹو انتخابات لڑیں جو انشااللہ ہو گاـ‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

الیکشن 2018: بی بی سی کا خصوصی ضمیمہ

الیکشن 2018 کے نتائج کا انٹرایکٹو نقشہ

انتخابات 2018: کب کیا ہوا؟

لیاری میں فٹبال ورلڈ کپ کی سکریننگ کے دوران بھی جب ان سے ملاقات ہوئی تو ان کا خیال یہی تھا کہ ’اب لیاری میں لوگ اندھا اعتماد نہیں کریں گے اور سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالنے کو اہمیت دیں گےـ‘

خود کو پیپلز پارٹی کا جیالہ کہنے والے حبیب حسن نے خود پی ایس 108 سے ایک آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات لڑنے کو ترجیح دی کیونکہ ان کے بقول انھیں پارٹی ٹکٹ نہیں دیا گیا تھاـ

2013 کے انتخابات میں بھی پی ایس 109 میں رفیق انجینیئر کی نشست سے کئی امیدواروں کی امیدیں وابستہ تھیں، جن میں سے ایک حبیب حسن تھے، لیکن اُس وقت عزیر بلوچ کے منتحب کردہ نمائندوں میں سے ثانیہ ناز کو منتخب کیا گیاـ انہیں میں شاہ جہاں بلوچ بھی شامل ہیں جو پچھلی بار عزیر بلوچ کے منتخب کردہ لوگوں میں سے ایک تھےـ لیکن دونوں اپنی نشستیں تحریکِ لبیک پاکستان اور متحدہ مجلسِ عمل کے امیدواروں سے ہار گئےـ

لیاری میں مذہبی جماعتوں کی کارکردگی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انتخابات کے روز متحدہ مجلسِ عمل اور تحریکِ لبیک پاکستان کے کیمپ میں سب سے زیادہ گہما گہمی دیکھنے میں آئی ـ ایم ایم اے کو ووٹ دینے والوں میں زیادہ تر تعداد خواتین کی تھی جن میں سے ایک فاطمہ بی بی نے کہا کہ ’یہاں کام صرف مذہبی جماعتیں کرتی ہیں پانی کی فراہمی کو چند علاقوں میں یقینی بنانے میں انہیں کا ہاتھ ہےـ باقیوں کو کئی بار آزمایا ہےـ‘

لیاری میں رہائش پذیر ایک صحافی ابو بکر کے مطابق اس بار لیاری میں مذہبی جماعتوں کو ووٹ ملنا ہی تھاـ ’پی پی پی نے اپنی دو نشستیں اس بار تحریک لبیک (پی ایس 107) پاکستان اور ایم ایم اے (پی ایس 108) سے ہاری ہیں جس کے بعد ان کو لیاری میں اپنے کارکردگی کے باری میں سوچنا چاہیےـ‘

گینگ وار اور کچھی برادری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لیاری میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس کا آپریشن

جُونا مسجد روڈ کلری کے علاقے کی ملی جلی آبادی پی ایس 107 کے حلقے میں آتی ہےـ اس آبادی میں کچھی برادری کے ہنگورو، سومرا اور سونارا کمیونٹی کے علاوہ زکری اور بلوچ بھی رہتے ہیں۔ یہاں سے ہر بار پی پی پی کے ایک کچھی نمائندے کو نشست دی جاتی ہےـ پچھلے انتخابات میں یہاں سے جاوید ناگوری کامیاب ہوئے تھے جو کہ اس بار اپنی نشست تحریکِ لبیک کے امیدوار کے ہاتھوں گنوا بیٹھے۔

حالانکہ زیادہ تر الزامات کا رُخ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی پر لگایا جا رہا ہے، ابوبکر کے مطابق یہاں پی پی کے لیے غصہ اس وقت پیدا ہوا جب یہاں پر گینگ کے نمائندوں کو کھلا چھوڑ دیا گیاـ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ’جب 2009 میں تقریباً 900 کچھی خاندانوں نے یہاں سے پناہ لینے کے لیے بدین کا رُخ کیا تھاـ اس کی ایک بڑی وجہ خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات تھے جو قومی میڈیا تک پہنچنے سے پہلے دم توڑ جاتی تھی۔‘

کلری کی رہائشی رشیدہ نے بتایا کہ’گینگ کے لڑکوں کی طرف سے مطالبہ آتا تھا کہ فلاں لڑکی سے نکاح کی تیاریاں شروع کرو اور پیسوں کی پرواہ مت کرناـ پھر ایک ہفتہ یا دو مہینے گزرنے کے بعد ان لڑکیوں کو ان کے گھر واپس بھیج گیا جاتا تھاـ اس طرح سے ہماری برادری کے جو لوگ ان کے خلاف تھے وہ چپ ہوجاتے تھےـ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لیاری کی عوام پولیس آپریشن کے خلاف احتجا

جہاں بہت سے لوگ لیاری میں پی پی پی کی شکست کو ہنگورہ برادری کا انتقام سمجھ رہے ہیں وہیں بہت سے ایسے بھی ہیں جو انتخابات کے نتائج کو دھاندلی سمجھتے ہیں۔

پی پی پی نے سنہ 1970 سے لیاری کی نشستیں جیتی ہیں۔ لیکن پچھلے 10 سالوں میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے لیاری کی مختلف برادریوں میں غم و غصہ بھی تھاـ

لیاری میں پہلی بار پاکستان تحریکِ انصاف کے لیے حمایت وہاں پر رہائش پذیر اور امن کمیٹی کے سربراہ عزیر جان بلوچ نے 2012 میں کی تھی جب ان کے اور پی پی پی کے تعلقات خراب ہو گئے تھےـ تعلقات خراب ہونے کی وجہ پی پی پی سے منسلک اویس مظفر ٹپی تھے جو اس وقت عزیر بلوچ کے کہنے پر لیاری سے گڑھی خدا بخش تک جانے والے قافلے کو روکنے کے خلاف تھےـ

حالانکہ اس وقت لیاری کے مکینوں نے پی ٹی آئی کو تسلیم نہیں کیاـ ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ پی پی پی کی قیادت نے کبھی بھی عزیر بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو قبول نہیں کیا ہےـ ان کو اس لیے استعمال کیا جاتا رہا تاکہ لیاری میں ان کی ساخت قائم رہے حالانکہ چند پی پی پی رہنما پیپلز امن کمیٹی کے سخت مخالف بھی رہے ہیں۔

اسی بارے میں