ہم دیکھیں گے کہ یہ ایوان کیسے چلاتے ہیں، یہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ہے: مولانا فضل الرحمن

مولانا فضل الرحمن/ شہباز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مولانا فضل الرحمن کے بقول تمام جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ان کے منتخب نمائندگان ایوان میں جاکر حلف نہیں اٹھائیں گے۔

پاکستان میں سابق حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی جماعتوں نے 25 جولائی کے انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں جمعیت علما اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ’تمام سیاسی جماعتیں پورے اتفاق رائے کے ساتھ منعقدہ انتخابات کو مسترد کرتی ہیں، کیونکہ یہ عوام کا مینڈیٹ نہیں بلکہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اُن (پاکستان تحریک انصاف) کی اکثریت کے دعوے کو تسلیم نہیں کرتے، اسے چیلنج کرتے ہیں‘۔

سیاسی جماعتوں کے اجلاس شہباز شریف نے کی جس میں ایم ایم اے،اسفندیار ولی، حاصل بزنجو، محمود خان اچکزئی، فاروق ستار، آفتاب خان شیرپاؤ، مصطفیٰ کمال نے شرکت کی۔

اسی بارے میں

الیکشن 2013 کے انتخابی نتائج کا نقشہ

خیبر پختونخوا سے پارٹی سربراہان کیوں ہار گئے؟

انتخابات میں جیپ چلی نہ شیر دھاڑا

مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ تمام جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ان کے منتخب نمائندگان ایوان میں جاکر حلف نہیں اٹھائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’دھاندلی کے خلاف سیاسی جماعتیں متحد ہیں دوبارہ انتخابات کے انعقاد کے لیے تحریک چلائیں گے۔ احتجاج کریں گے۔ جس کا طریقہ کار ایک دو دن میں طے کیا جائے گا۔ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہباز شریف نے کہا کہ وہ ایوان میں نہ جانے کے حوالے سے اپنی پارٹی کا فیصلہ پارٹی مشاورت کریں گے

مسلم لیگ کا فیصلہ مشاورت کے بعد

تاہم اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف نے کہا کہ وہ ایوان میں نہ جانے کے حوالے سے اپنی پارٹی کا فیصلہ پارٹی مشاورت کے بعد سنائیں گے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا ’جہاں تک حلف نہ اٹھانے کی بات ہے، مجھے اس کے لیے وقت چاہیے۔ تاہم تحریک چلانے اور جلسے کرنے پر ہم متفق ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی سے مشاورت کے بعد ہی اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بلاول بھٹو نے نے الیکشن کمیشن کے مستفعی ہونے کا مطالبہ بھی کیا

پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابات کے نتائج مسترد کیے لیکن ایوان میں جائیں گے

حالیہ انتخابات میں تیسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آنے والی پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی انتحابی نتائج کو مسترد کردیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت بار بار سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے سنہ 2013 کے انتخابی نتائج کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا لیکن اب برداشت نہیں کریں گے۔ ہم ان انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہیں۔‘

انتخابی نتائج مسترد کیے جانے کے باوجود پیپلز پارٹی نے ایوان میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وہ اے پی سی میں شامل دیگر جماعتوں سے بھی بات کریں گے اور انہیں بھی پارلیمان میں جا کر احتجاج پر قائل کریں گے۔

بلاول بھٹو نے نے الیکشن کمیشن کے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن استعفی دے دے کیونکہ انھوں نے آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کا اپنا فرض پورا نہیں کیا۔‘

مولانا فضل الرحمن نے بھی الیکشن کمیشن پر ایسے ہی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے پارلیمان میں الیکشن کمیشن کے لیے اربوں روپے مختص کروائے لیکن پھر بھی ادارے کا نتائج پر اختیار نہیں رہا۔‘

اسی بارے میں