الیکشن 2018:’مقصد جیت نہیں بلکہ بتانا تھا کہ عورت سیاست کر سکتی ہے‘

الیکشن دیر
Image caption دیر میں خواتین نے پہلی مرتبہ ووٹ ڈال کر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا

'میرا مقصد جیت نہیں بلکہ عورتوں کو بتانا تھا کہ وہ سیاست کر سکتی ہیں'، یہ الفاظ حمیدہ شاہد کے ہیں جو خیبرپختونخواہ کے علاقے دِیر سے الیکشن لڑنے والی پہلی خاتون تھیں۔ انہیں انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس علاقے میں خواتین پہلی بار ووٹ ڈال رہی تھیں۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کی اور کہا کہ انھوں نے ہزاروں ووٹ لیے ہیں اور 'ان میں سب سے زیادہ خواتین کے ووٹ ہیں'۔

'دِیر میں انتخابی مہم چلانے کا تجربہ بہت اچھا رہا، پہلے دن میرے ساتھ صرف دو خواتین تھیں جو کچھ دن بعد دو سو خواتین کا مجمع بنا اور مہم کے آخر میں میرے سامنے دو ہزار خواتین بیٹھی تھیں، یہ لمحہ میرے لیے بہترین تھا اور یہی میرا مقصد تھا کہ خواتین ووٹ کی اہمیت کو پہچانیں کہ یہی اِن کی طاقت ہے'۔

خیال رہے کہ دِیر پاکستان کے ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں خواتین کو الیکشن لڑنا تو درکنار ووٹ ڈالنےکی اجازت بھی نہیں تھی۔

اسی بارے میں

دیر: خواتین کے ویران پولنگ سٹیشن سے طویل قطاروں تک

پاکستانی ووٹر کن چیزوں پر ووٹ دیتا ہے؟

پاکستان میں ووٹ خواتین کے لیے کیوں نہیں؟

’نادرا کے چکر کاٹتے چار برس ہو گئے، اب تھک گئی ہوں‘

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے پاکستان میں 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات سے متعلق جاری رپورٹ میں کہا ہے کہ انتخابات میں مردوں کا ووٹر ٹرن آؤٹ 58 اعشاریہ 3 فیصد اور خواتین کا 47 فیصد رہا۔ جو 2013 کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔

دوسری جانب ان انتخابات میں 171 خواتین نے قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے عام انتخابات میں حصہ لیا جو ملکی تاریخ میں خواتین کے براہِ راست انتخابی عمل کا حصہ بننے کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

تاہم ان میں سے چند خواتین ہی مضبوط مرد امیدواروں کے سامنے کامیابی حاصل کر پائی ہیں۔ جن میں سے بیشتر کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ جیتنے والی ان خواتین میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا بھی شامل ہیں، وہ ملک میں عام انتخابات میں ایک ہی نشست سے مسلسل پانچویں بار کامیابی حاصل کرنے والی پہلی خاتون رہنما ہیں۔

انھوں نے بدین سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 230 سے پاکستان پیپلزپارٹی کے حاجی رسول بخش چانڈیو کو شکست دی۔

خیال رہے کہ ان انتخابات میں 105 خواتین کو مختلف سیاسی جماعتوں نے ٹکٹ دیئے تھے۔ جبکہ 66 نے بطور آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ 19 خواتین کو پارٹی ٹکٹ دیئے تھے جن میں سندھ میں 05، پنجاب میں 11 اور خیبر پختونخواہ میں تین خواتین امیدوار تھیں۔

پاکستان میں انتخابی عمل کا جائزہ لینے کے لیے آئے یورپی یونین کے مبصرین کے مطابق خواتین امیدواروں کی تعداد تو زیادہ ہوئی لیکن ان امیدواروں کو میڈیا میں کوئی خاص جگہ نہیں دی گئی۔ جبکہ سرکاری اور نجی میڈیا نے بڑے پیمانے پر ایسی تشہیر بھی نہیں کی جس سے انہیں اس تمام عمل میں خواتین کی شرکت کے لیے حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے 2013 کے مقابلے میں خواتین امیدواروں کی تعداد میں تو نو فیصد اضافہ ہوا لیکن یہ بھی معلوم ہوا کہ بیشتر سیاسی جماعتوں نے ان حلقوں میں خواتین کو ٹکٹ دیے تھے جہاں سے ان کے جیتنے کے امکانات نہایت کم تھے۔ دوسری جانب خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے کم از کم آٹھ حلقوں میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ ملنے کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق متعدد خواتین امیدواروں نے انتخابی مہم کے دوران جسمانی اور زبانی ہراساں کیے جانے کے الزامات بھی لگائے ہیں۔

Image caption سخت گرمی اور انتخابی عمل میں سست روی کے باوجود خواتین کی بڑی تعداد پولنگ سٹیشنوں پر موجود تھی

جھنگ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 115 سے تحریک انصاف کی غلام بی بی بھروانہ آزاد امیدوار محمد احمد لدھیانوی کے مقابلے میں بڑی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے احمد لدھیانوی کے 68 ہزار 616 ووٹوں کے مقابلے میں 91 ہزار 343 ووٹ جیتے۔ وہ اس سے پہلے مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کے ٹکٹس پر بھی دو بار قومی اسمبلی کی رکن رہ چکی ہیں۔

ڈیرہ غازی خان سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 191 سے پاکستان تحریک انصاف کی زرتاج گل نے ن لیگ کے مضبوط امیدوار سردار اویس احمد خان لغاری کو شکست دی۔ انہوں نے اویس لغاری کے 54 ہزار ووٹوں کے مقابلے میں 79 ہزار ووٹ حاصل کیے۔

اسی طرح ٹھٹھہ سے شمس النسا نے ارسلان بخش بروہی کو شکست دی جبکہ نفیسہ شاہ نے خیر پور سے کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح این اے 216 سے شازیہ جنت مری نے بھی کامیابی حاصل کی ہے۔

اسی بارے میں