عمران خان کا سفر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عمران خان نے نیا نیا ورلڈ کپ جیتا تھا اور مُصر تھے کہ سیاست میں نہیں آئیں گے۔ اسی زمانے میں کراچی میں دماغی امراض کے ماہر ایک بزرگ ڈاکٹر نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے منشیات کے استعمال اور سگریٹ نوشی کے خلاف منصوبے بناتے رہتے تھے۔

انھوں نے ایسا ایک زبردست آئیڈیا بتایا کہ اگر حکومت کسی طرح انھیں عمران خان دے دے تو وہ ایک اشتہار ایسا بنائیں گے جسے دیکھنے کے بعد ملک کے نوجوان منشیات بھی چھوڑ دیں گے اور سگریٹ نوشی بھی۔

اشتہار میں آ کر عمران خان کو صرف اتنا کہنا ہو گا کہ سگریٹ نوشی سے مرد نامرد ہو جاتا ہے۔

نہ اشتہار بنا، نہ کچھ بدلا۔ سگریٹ پینے والے سگریٹ پیتے رہے، اور منشیات بھی اچھی اور سستی ہوتی گئیں۔ ڈاکٹر صاحب کو نئے نئے آئیڈیاز آتے گئے لیکن اس عرصے میں عمران خان نے خود کو بہت بدلا۔

کرکٹ کے تاریخ دان بتاتے ہیں کہ عمران خان دنیا کی تاریخ کے وہ پہلے فاسٹ بولر ہیں جنھوں نے بیچ کریئر کے اپنا بولنگ ایکشن بدلا اور پہلے سے بہتر بولر بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں!

عمران خان کی زندگی کے سنگِ میل

44 سال کا سفر: پہلی وکٹ سے پہلی بار وزیراعظم بننے کا سفر

منفی کوریج کے باوجود انڈیا میں عمران کی اچھی شبیہہ

جنگ اخبار کے پرانے قارئین کو یاد ہو گا کہ عمران خان نے اپنی نظریاتی جنگ کا آغاز کالم لکھ کر شروع کیا تھا جس میں انھوں نے اپنی براؤن صاحب والی تھیوری پیش کی تھی جس میں ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ انگریز تو چلا گیا لیکن اس کے لے پالک دیسی انگریز ابھی تک ہمارے حکمران ہیں۔

ان کے خیالات ایک معصوم انقلابی کے تھے۔ ایسا ایک آدھ معصوم انقلابی ہر گلی محلے میں ہوتا ہے۔ ایک سے دو باتیں ہو جائیں تو انقلابی پارٹی اتنے ہی دھڑوں میں بٹ جاتی ہے۔

عمران خان کو انقلابی سے وہابی بنانے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ انھوں نے قرونِ اولیٰ کے قصے سنا کر ہمارا دل گرمایا اور ولایت میں اپنی جوانی کی فتوحات کی جھلکیاں دکھا کر ہمارا ایمان تازہ کیا۔ جب اس سے بھی بات نہیں بنی تو انھوں نے پاکستان کے پرانے گرگوں سے ٹیوشن پڑھی اور اتنے اچھے نمبروں سے پاس ہوئے ہیں کہ یار لوگ ابھی تک گنتی کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمران خان واحد بولر ہیں جو ایکشن تبدیل کر کے زیادہ خطرناک بولر بن گئے

عمران خان نے اپنے اس سفر میں وہ سب کچھ کیا جو ان کو کرنا پڑا۔ اور وہ سب کچھ کہنا پڑا۔

ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ ختم نبوت۔

آپ کا سیاسی مخالف کون ہے؟ غدار اور مودی کا یار۔

یہ صحافی کچھ مشکل سوال پوچھ رہا ہے، یہ کیا چاہتا ہے؟ لفافہ۔

یہ لوگ جو آپ کو ووٹ نہیں دے رہے، یہ کون ہیں؟ گدھے کے بچے۔

عمران خان نے ایسا کچھ نہیں کیا جو سیاست دان طاقت میں آنے کے لیے نہیں کرتے۔

طاقت حاصل کرنے اور اسے اپنے پاس رکھنے کی کچھ مقبول تھیوریاں ہیں۔ بعض دفعہ گاؤں کو بچانے کے لیے گاؤں پر بم گرانے پڑتے ہیں۔ بعض دفعہ ایک سسٹم کو تباہ کرنے کے لیے سسٹم کا حصہ بننا پڑتا ہے۔ ٹھگوں کو ختم کرنے کے لیے ٹھگ کا بھیس بدلنا پڑتا ہے۔ کرپشن اور چوری ختم کرنے کے لیے چوروں سے یاری کرنی پڑتی ہے۔

عمران خان نے اپنے سیاسی سفر میں ایسا کچھ نہیں کیا جو سیاست دان طاقت حاصل کرنے کے لیے نہیں کرتے۔ ہمسایہ ملک میں ایک شخص نے وزارت عظمیٰ حاصل کرنے کے لیے قتل عام کروایا تھا۔

اس عظیم سفر کے اختتام پر عمران خان کی نپی تلی اور دردمندانہ تقریر سن کر باقی قوم کی طرح میری آنکھیں بھی نمناک ہوئیں اور یہ پچھتاوا بھی کہ ہم نے اپنے مسیحا کو 22 سال تک سیاست کی تاریک اور بدبودار گلیوں میں کیوں بھٹکنے دیا۔

پھر انھوں نے حضرت عمر فاروق کا فرات کے کنارے بھوکے کتے اور بادشاہ کی ذمہ داری والا قول سنایا تو میرے آنسو تھم گئے۔ میں یہ قول جنرل ضیا الحق سے لے کر مصطفیٰ کمال تک سب سے سن چکا ہوں۔

یہ حکمران اور عوام کے رشتے کے لیے ایک خوبصورت اور شاعرانہ استعارہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں نے کراچی کے سمندر کے کنارے کبھی کوئی بھوکا کتا نہیں دیکھا، میرا بہت سا وقت اسی شہر کے آزاد اور آوارہ کتوں کو دیکھتے ہوئے گزرتا ہے۔ ہاں کبھی چھاؤں نہیں ملتی، گرمی میں پانی کی تلاش میں دور تک چلنا پڑتا ہے لیکن خوراک کی کوئی فکر نہیں۔

ہم پر خدا کی رحمت ہے یا ہماری گندی عادتوں کا ثمر ہے کہ بچا ہوا کھانا ہر جگہ پھینک دیتے ہیں کہ ہمارے فرات کے کنارے کوئی کتا بھوکا نہیں سوتا۔

عمران خان نے اپنی تقریر میں پینے کے آلودہ پانی کا ذکر کیا تو یاد آیا کہ جب وہ ورلڈ کپ جیت کر آئے تھے تو اوکاڑہ کے 36 چک سے لے کر کراچی کے ناتھا خان گوٹھ تک ہر کوئی نلکا چلا کر یا ٹوٹی کھول کر بےفکر ہو کر پانی پیتا تھا۔ بوتل میں بند پانی صرف پرانے سیٹھوں، نو دولتیوں یا براؤن صاحبوں کا شوق تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

آج یہ حالت ہے کہ کراچی کی غریب سے غریب تر کچی آبادی میں بھی ہر کوئی اپنے بچوں کو نلکے کا پانی پلانے سے ڈرتا ہے۔ کھوتی ریڑھی پر چھوٹی ٹینکی رکھ کر لوگ پانی بیچتے ہیں اور لوگ اپنا پیٹ کاٹ کر خریدتے ہیں۔ ناظم آباد، گلشن اور کورنگی کے بازاروں میں دکانیں کھلی ہیں جہاں پر چھوٹے چھوٹے فلٹر پلانٹ لگے ہیں۔ جو لوگ منرل واٹر کی بوتلیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، وہ یہاں سے خریدتے ہیں۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ کابینہ سے لے کر کور کمانڈروں کے اجلاس تک ہر افسر ہر وزیر کے آگے ایک منرل واٹر کی بوتل پڑی ہوتی ہے۔ ہم جیسے کم ذات صحافی بھی کہیں جاتے ہیں تو میزبان سلام بعد میں کرتے ہیں پہلے ایک منرل واٹر کی بوتل پکڑا دیتے ہیں۔

عمران خان کروڑ نوکریاں دے سکیں نہ دے سکیں، ٹیکس کے پیسوں کی چوکیداری کریں نہ کریں، کشمیر آزاد ہو نہ ہو، ان کی کی بات سن کر ان کے نوجوان پرستار سگریٹ نوشی اور ماں بہن کی گالیاں دینا بند کریں نہ کریں، اگر وہ ہماری جان اس منرل واٹر کی بوتل سے چھڑوا دیں تو مان لیں گے کہ ان کا 22 سالہ سفر رائیگاں نہیں تھا۔

اس کام کے لیے انھیں ورلڈ بینک یا چین سے بھیک مانگنے کی بھی ضرورت نہیں۔ کراچی سے دیسی ساخت کے دو چھوٹے فلٹر پلانٹ منگوائیں، ایک اپنے گھر میں لگوائیں، ایک جی ایچ کیو کو تحفے میں پیش کریں۔ اور منرل واٹر کی اس وبا سے ہماری جان چھڑوائیں۔

اور آوارہ کتوں کی زیادہ فکر نہ کریں، آرام سے سوئیں کیوں کہ دریا کے کنارے آزاد گھومتا کتا اپنے رزق کے لیے بادشاہ کا انتظار نہیں کرتا۔

اسی بارے میں