’انتخابی نتائج پر شکوک و شبہات‘، ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے مطالبات

نون لیگ تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان میں عام انتخابات کے نتائج سامنے آ چکے ہیں لیکن ان نتائج پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے اور کئی حلقوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی جانب سے اپنے حلقوں میں دوبارہ گنتی کی درخواستیں دی جا رہی ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق اب تک این اے 154 ملتان، این اے 157 ملتان، این اے 131 لاہور اور این اے 13 مانسہرہ میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ این اے 131 میں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے 680 ووٹوں سے شکست ہوئی تھی۔

این اے 57 میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو تحریک انصاف کے امیدوار سے 11546 ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے این اے 57 کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن میں دوبارہ گنتی کروانے کی درخواست دائر کی ہے۔

سنیچر کو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کے لیے الیکشن کمیشن پہنچے لیکن اُن کی ملاقات نہیں ہو سکی۔

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے بات چیت میں ایاز صادق نے کہا کہ کئی پولنگ سٹیشنوں میں پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال کر گنتی کی گئی اور فارم 45 بھی نہیں دیا گیا تھا۔ ایاز صادق نے کہا کہ فارم 45 کے حوالے سے بھی چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کرنا تھا۔

جمعے کو مری میں مسلم لیگ نون کے حامیوں نے این اے 57 میں انتخابات کے دن ووٹوں کی گنتی کے دوران پولنگ ایجنٹس کو پولنگ سٹیشنز سے باہر نکالنے اور مبینہ طور پر کئی جگہوں سے فام 45 نہ ملنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔

الیکشن 2018: بی بی سی کا خصوصی ضمیمہ

الیکشن 2018 کے نتائج کا انٹرایکٹو نقشہ

’ہم دیکھیں گے کہ یہ ایوان کیسے چلاتے ہیں‘

عمران خان کی وکٹری سپیچ: ’سب اداروں کو مضبوط کروں گا‘

سپیکر اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ قانون کے تحت جس حلقے میں ہار اور جیت میں فرق صرف پانچ فیصد ووٹوں کا ہوں وہاں دوبارہ گنتی ہوتی ہے لیکن مخصوص حلقوں میں دوبارہ گنتی کی جا رہی ہے اور شہباز شریف کے حلقے میں دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان کا الیکشن کمیشن خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ بااختیار ہے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان الطاف خان نے کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد حسین سید نے سیکریٹری الیکشن کمیشن سے ملاقات میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فواد چوہدری نے کہا کہ ان تمام سیاسی جماعتوں کو اگر حلقے کھلوانے اور تحقیقات کروانے میں پاکستان تحریک انصاف سے تعاون درکار ہوگا تو وہ اس کے لیے تیار ہیں

اس سے قبل جمعے کو پاکستان میں انتخابات کو مانیٹر کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فیفن) نے انتخابات پر اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ قومی اسمبلی کی 35 نشستوں پر جہاں کانٹے کا مقابلہ تھا وہاں مسترد کیے گئے ووٹوں کی تعداد ان ووٹوں سے زیادہ تھی جن کے مارجن سے امیدوار نے کامیابی حاصل کی۔ ان میں پنجاب میں 24 حلقے، خیبر پختونخوا میں چھ، چار سندھ میں اور ایک حلقہ بلوچستان کا تھا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے انتخابی نتائج کے حوالے سے تحفظات دور کرنے میں تعاون کرنے کو تیار ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے جمعے کی رات اسلام آباد میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے بعد ان کی جانب سے انتخابات کے نتائج کو مسترد کرنے کے اعلان پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو پہلے ہی ان جماعتوں کو حلقے کھلوانے، اور تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کر چکے ہیں۔

’حلقے کھلوانے کی تحقیقات میں تحریکِ انصاف تعاون کرے گی‘

سنیچر کو فواد چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر یہ معاملہ تو الیکشن کمیشن اور ان سیاسی جماعتوں کے درمیان ہے لیکن اگر انھیں پاکستان تحریک انصاف سے ’بطور حکمران جماعت‘ کوئی مدد چاہیے ہو گی تو وہ تعاون کرنے کو تیار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جمعے کو پاکستان میں سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی جماعتوں نے 25 جولائی کے انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا تھا۔

تاہم فواد چوہدری نے کہا کہ ان تمام سیاسی جماعتوں کو اگر حلقے کھلوانے اور تحقیقات کروانے میں پاکستان تحریک انصاف سے تعاون درکار ہوگا تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔

پنجاب میں حکومت کون بنائے گا؟

پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں حکومت بنانے کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کو پنجاب میں بھی بڑی تعداد میں صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے اس لیے پنجاب میں حکومت بنانے کا حق ان کا بنتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر تو پنجاب میں نشستوں کی تعداد کی بات کی جائے تو پاکستان تحریک انصاف کو 134 جبکہ پاکستان مسلم ن کو 128 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، ان کے بقول آزاد امیدوار جن کی تعداد 27 ہے میں سے زیادہ تر پاکستان تحریک انصاف میں شریک ہونے کو تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان اعداد وشمار کو دیکھتے ہوئے پنجاب میں حکومت بنانے کا حق تو ان کا بنتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے مرکز میں حکومت بنانے اور ممکنہ کابینہ کے حوالے سے کہا کہ اس بارے میں مشاورت جاری ہے جسے جلد ہی مکمل کر لیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مختلف امیدواروں کی جانب سے اپنے حلقوں میں دوبارہ گنتی کی درخواستیں سامنے آ رہی ہیں

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما اور حکومت پنجاب کے سابق ترجمان ملک احمد علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت بھی حکومت سازی کے لیے آزاد امیدواروں سے رابطے کر رہی ہے اور ہمیں مثبت جواب مل رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’اگر تحریک انصاف کو مسلم لیگ ق کی حمایت حاصل ہے تو ہم پیپلز پارٹی سے اتحاد کی بات کر سکتے ہیں اور حکومت بنانے کا جمہوری حق ہمارا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کے نتائج کے مطابق ہماری جماعت کو برتری حاصل ہے۔‘

الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود صوبہ پنجاب کے نتائج میں اس وقت مسلم لیگ ن کی نشستوں کی تعداد 129، تحریک انصاف 123، آزاد امیدوار 29، مسلم لیگ ق کو 7 ، پیپلز پارٹی 5 نشستیں ملی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی 115 نشستوں سے برتری حاصل ہے جبکہ مسلم لیگ ن 64 نشستوں کے ساتھ دوسری اور پاکستان پیپلز پارٹی 43 نشستوں کے ساتھ تیسری جماعت کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

اسی بارے میں