بلوچستان: مسلم لیگ ن کی اتحادی حکومت گرانے والی جماعتیں کامیاب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسلم لیگ نون کے باغی اراکین نے حکومت کے خاتمے کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے نئی جماعت بنائی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں عام انتخابات میں ان جماعتوں کو زیادہ نشستیں ملیں جنھوں نے اس سال کے اوائل میں بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت کو ختم کرانے میں کردار ادا کیا تھا۔

اس سال کے اوائل تک بلوچستان میں نون لیگ کی قیادت میں مخلوط حکومت قائم تھی۔ مخلوط حکومت میں مسلم لیگ ن کی دو اتحادی جماعتیں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی شامل تھیں۔

جن جماعتوں نے اس حکومت کو ختم کرنے میں کردار ادا کیا تھا ان میں مسلم لیگ ن کے باغی اراکین، جمیعت علمائے اسلام(ف)، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) شامل تھیں۔ مسلم لیگ ن کے باغی اراکین نے حکومت کے خاتمے کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے نئی جماعت بنائی۔

یہ بھی پڑھیں!

کامیابی کے بعد وزارت عظمیٰ کی شیروانی تک کا سفر

’انتخابی نتائج پر تحفظات‘، دوبارہ گنتی کے مطالبات

’تحریک لبیک کا ڈینٹ، فائدہ تحریک انصاف کو‘

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے نتائج کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کو بلوچستان اسمبلی کی 51نشستوں میں سے 50 پر ہونے والے انتخابات میں 15نشستیں ملی ہیں۔ اس لحاظ سے وہ بلوچستان اسمبلی میں بڑی پارٹی بن گئی ہے۔

جمیعت علمائے اسلام (ف) متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے بعد اس کا حصہ ہے۔ صوبائی انتخابات میں ایم ایم اے نو نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل سات نشستوں کے ساتھ تیسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے لیے پانچ اراکین آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے ہیں۔ پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی میں تحریک انصاف کو چار نشستیں ملی ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کو بلوچستان اسمبلی کی تین نشستوں پر کامیابی ملی ہے جبکہ پہلی مرتبہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی قوم پرست جماعت ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کو بھی دو نشستیں ملی ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) نے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ نون اور جمہوری وطن پارٹی کو ایک ایک نشست پر کامیابی ملی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی میں تحریک انصاف کو چار نشستیں ملی ہیں

25جولائی کو ہونے عام انتخابات میں بلوچستان سے نون لیگ اور اس کی دو اتحادی قوم پرست جماعتیں پشتونخوا ملی پارٹی اور نیشنل پارٹی ناکامی سے دوچار رہیں۔

نون لیگ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو بمشکل ایک ایک نشست پر کامیابی ملی لیکن نیشنل پارٹی کوئی نشست حاصل نہیں کرسکی۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن صاف اور شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا ہے ۔

محمود خان اچکزئی خود قومی اسمبلی کی دو نشستوں سے انتخاب لڑ ے لیکن ان کو کسی بھی نشست پر کامیابی نہیں ملیں ۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی۔

سنہ 2013 کے عام انتخابات کی طرح سنہ 2018 کے عام انتخابات کے نتائج پر بھی بلوچستان میں عدم اطمینان کی فضا ہے ۔

جہاں ہارنے والی جماعتیں نتائج سے مطمئن نہیں وہاں زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعتیں بھی ان پر معترض ہیں۔

بلوچستان اسمبلی میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے بھی دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں ۔ کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ایم اے کے رہنما مولانا غفور حیدری نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ’بلوچستان میں جو دھاندلی کی گئی ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔‘