پمز ہسپتال میں نواز شریف کا ’صدارتی کمرہ‘

نواز شریف، مریم نواز تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف اس وقت پمز ہسپتال کے 'صدارتی کمرے' میں زیر علاج ہیں۔ گو کہ اب کوئی وہ سرکاری عہدرے رکھنے کے اہل نہیں ہیں لیکن ہسپتال کی منتقلی کے بعد انھیں خصوصی پروٹوکول مل رہا ہے۔

نواز شریف اڈیالہ جیل میں قید کاٹ رہے ہیں اور دل کے مریض تو وہ جیل آنے سے پہلے ہی سے ہیں۔ ایسے میں اپنے ذاتی معالج کے مشورے کے بعد وہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل ہو گئے ہیں۔

وزیراعظم نہ صحیح لیکن ایک لیڈر تو ہیں اسی لیے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں اُن کی آمد پر خصوصی انتظامات کیے گئے۔ خوب صفائی ستھرائی ہوئی اور سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی۔

ہسپتال کے ذرائع کے مطابق نواز شریف کے ہسپتال میں قیام کے لیے اُس کمرے کو منتخب کیا گیا تھا جو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بچے کی پیدائش کے لیے خصوصی طور پر بنوایا گیا تھا۔ اگرچہ بے نظیر بھٹو ڈیلیوری کے لیے اس کمرے میں نہیں آئیں لیکن اُن کے شوہر اور سابق صدر آصف علی زرداری نے دورانِ اسیری اسی کمرے میں کئی مرتبہ قیام کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف اڈیالہ جیل سے پمز میں ’خصوصی کمرے‘ میں منتقل

’نواز شریف کے دل کی حالت تسلی بخش نہیں ہے‘

’نواز شریف کو مناسب سہولیات فراہم کی جائیں‘

جب آصف زرداری بدعنوانی کے مقدمات میں جیل میں قید تھے اور ناسازی طبع کے باعث انھیں پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تو اسی کمرے کو زرادری کے لیے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔ آصف زاردی کو جیل اور سب جیل سے رہائی کے بعد جو عہدہ ملا وہ صدرِ پاکستان کا تھا۔

آصف زرادی کے بعد نواز شریف کو بھی سیدھے اڈیالہ جیل سے اسی کمرے میں منتقل ہونا تھا۔ تمام انتظامات بھی مکمل تھے لیکن سکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر انھیں اس کمرے میں منتقل ہونے سے روک دیا گیا۔

پمز کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ نواز شریف کو کارڈیولوجی کے پرائیوٹ وارڈ میں ’صدرِ پاکستان کے لیے مخصوص کمرہ‘ دیا گیا ہے۔

یہ ہسپتال کا کمرہ عام پرائیوٹ رومز کی طرح نہیں ہے بلکہ اسے ہسپتال میں 'صدارتی سویٹ' کہا جا سکتا ہے۔ اس بڑے کمرے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ساتھ کئی دوسرے کمرے ہیں جہاں ممکنہ طور سکیورٹی عملہ قیام کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ہسپتال کے جس حصے میں نواز شریف موجود ہیں وہاں سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور پولیس کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار بھی موجود ہیں۔

سابق وزیراعظم کی آمد سے قبل بم ڈسپوزل سکوڈ اور ایجنسیوں کے اہلکاروں نے بھی خوب اچھی طرح جانچ پڑتال کی ہے۔

کسی کو بھی نواز شریف سے ملنے کی اجازت نہیں ہے اور صرف وہی افراد ہسپتال کے 'صدارتی سویٹ' میں آ سکتے ہیں جنھیں خصوصی کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں