بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے بی اے پی کو واضح برتری، متحدہ مجلسِ عمل دوسرے نمبر پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی اے پی کو 15 نشستیں ملی تھیں اور اب تین آزاد اراکین کی حمایت کے بعد یہ تعداد 18 ہوگئی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کو واضح برتری حاصل ہوگئی ہے۔

خود کش حملے میں ہلاکت کے باعث بلوچستان اسمبلی کی 51 نشستوں میں سے ایک نشست پر انتخاب ملتوی کیا گیا تھا۔

باقی 50 نشستوں میں سے بی اے پی کو 15 نشستیں ملی تھیں۔ تین آزاد اراکین کی حمایت کے بعد بی اے پی کے اراکین کی تعداد 18 ہوگئی ہے۔

نو اراکین کے ساتھ متحدہ مجلس عمل بلوچستان اسمبلی میں دوسری جبکہ سات نشستوں کے ساتھ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) تیسری بڑی جماعت بن گئی ہے۔

پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی میں تحریک انصاف کو چار نشستیں ملی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان: اتحادی حکومت گرانے والی جماعتیں کامیاب

’انتخابی مہم میں غالب رنگ بےیقینی اور تقسیم کا رہا‘

عوامی نیشنل پارٹی نے تین، ہزارہ ڈ یموکریٹک پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) نے دو دو اور پشتونخوا میپ، نواز لیگ اور جمہوری وطن پارٹی نے ایک ایک نشست حاصل کی ہے۔

آزاد اراکین کی تعداد شروع میں پانچ تھی لیکن بے اے پی کے سربراہ جام کمال خان کا کہنا ہے کہ ان میں سے تین نے بے اے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔

بلوچستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی میں تحریک انصاف کو چار نشستیں ملی ہیں

بلوچستان اسمبلی میں سادہ اکثریت سے حکومت سازی کے لیے 33 اراکین کی ضرورت ہوتی ہے۔

تین آزاد اراکین کی شمولیت کے بعد بلوچستان اسمبلی میں بی اے پی کے اراکین کی تعداد 18 ہوگئی ہے۔ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ملنے کے بعد بی اے پی کے اراکین کی تعداد کم از کم 23 تک ہو سکتی ہے۔

اب تک عوامی نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے حکومت سازی کے لیے بی اے پی کی باقاعدہ حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شفیق مینگل: ’دہشت کی علامت‘ سے انتخابات تک

بلوچستان میں نئی سیاسی پارٹی کا اعلان

سیاسی مبصرین کے مطابق تحریک انصاف اور بی این پی (عوامی) کی حمایت بھی بے اے پی کو مل سکتی ہے جس کے بعد وہ متحدہ مجلس عمل اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے بغیر بھی حکومت بنا سکتی ہے۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ جام کمال کا کہنا ہے کہ حکومت سازی کے لیے ان کی جماعت کی پوزیشن سب سے زیادہ مستحکم ہے اور اکثریت حاصل ہونے کے باعث حکومت سازی ان کی جماعت کا حق ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیاسی مبصرین کے مطابق بی این پی اس صورت میں حکومت بنا سکتی ہے جب وہ اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت متحدہ مجلس عمل، عوامی نیشنل پارٹی اور بعض دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے

اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل ) بھی حکومت سازی کی خواہشمند ہے۔

کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ جو جماعتیں پارلیمانی سیاست کرتی ہیں وہ حکومت بھی بناتی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بی این پی اس صورت میں حکومت بنا سکتی ہے جب وہ اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت متحدہ مجلس عمل، عوامی نیشنل پارٹی اور بعض دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔

تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق چونکہ عوامی نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے حکومت سازی کے لیے پہلے ہی بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت کی ہے جس کے باعث بی این پی (مینگل ) کے لیے حکومت بنانا مشکل ہو گا۔

اسی بارے میں