کراچی میں کچرے میں بیلٹ پیپرز، ریٹرننگ افسران سے رپورٹ طلب کر لی گئی

الیکشن تصویر کے کاپی رائٹ PPP
Image caption ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ بیلٹ پیپر اصلی ہیں یا نقلی

پاکستان الیکشن کمیشن نے کراچی میں کچرے کے ڈھیر سے بیلٹ پیپر ملنے کی اطلاعات کے بعد ریٹرننگ افسران سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور اب ریٹرننگ افسران کی رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات کی نوعیت طے کی جائے گی۔

کورنگی کے علاقے قیوم آباد سے سنیچر کی شب کچرے کے ڈھیر سے جلے ہوئے اور بعض ثابت بیلٹ پیپر ملے تھے، جو قومی اسمبلی کے حلقے 241 سے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ دونوں نے اس حلقے اور صوبائی حلقے پی ایس 97 میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اس حلقے سے الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے امیدوار فہیم خان کو کامیاب قرار دیا ہے جنھوں نے 26 ہزار 706 ووٹ حاصل کیے ہیں۔

دوسرے نمبر پر ایم کیو ایم کے محمد معین عامر پیرزادہ رہے جن کے حصے میں 23 ہزار 873 ووٹ آئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار معظم علی قریشی نے 9 ہزار 367 ووٹ حاصل کیے تھے۔

مزید پڑھیئے

’صرف وہی حلقے کھلوا لیں جہاں عمران خان جیتے ہیں‘

قومی اسمبلی کی 14 نشستوں پر دوبارہ گنتی کا اعلان

مارکیٹ میں سستے ڈالر کا فائدہ کس کو ہوا؟

صوبائی حلقے پی ایس 96 سے متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار وقار شاہ کا دعویٰ ہے کہ صوبائی حلقے کے بھی بیلٹ پیپر جلنے والے بیلٹ پیپرز میں شامل تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ بیلٹ پیپر کی برآمدگی اور آگ لگنے کی اطلاع پر فوری طور جائے وقوع پر پہنچے اور ریٹرننگ افسر کے فوکل پرسن کو اس سے آگاہ کیا۔

’فوکل پرسن نے تجویز دی کہ آپ اپنا وائس میسج بھیجیں میں ریٹرننگ افسر کو اطلاع دیتا ہوں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ویڈیو بھیجیں وہ بھی بھیجی گئی لیکن آر او نے یہ زحمت نہیں کی کہ وہاں کا دورہ کرتے یا متعلقہ اداروں کو ہدایت دیتے۔‘

وقار شاہ کا کہنا ہے کہ اتوار کی تعطیل ہونے کی وجہ سے وہ پیر کو ریٹرننگ افسر کے دفتر گئے اور انھیں تحریری درخواست دی لیکن انھوں نے یہ کہہ کر درخواست وصول کرنے سے انکار کردیا کہ یہ میرا دائرہ اختیار نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’سکیورٹی انتظامات کے باوجود یہ بیلٹ پیپر کس طرح باہر گئے اور اس میں کون ملوث ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہیے‘

’ہم سمجھتے ہیں کہ پی ایس 97 اور این اے 241 میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے، جس میں ریٹرننگ اور پرزائیڈ نگ افسران ملوث ہیں۔ ہمارے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالا گیا اور سادے کاغذ پر رزلٹ دیے گئے اور جب ہم ان نتائج کا فارم 45 سے موازانہ کرتے ہیں تو دونوں نتائج مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار معظم علی قریشی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اور الیکشن کمیشن کو درخواست دے دی ہے، اس کے علاوہ پولیس کے پاس بھی رپورٹ درج کرائی ہے جس میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

’صرف قومی اسمبلی کے حلقے کے بیلٹ پیپر ملے ہیں اور زیادہ تر بیلٹ پیپر پر تیر پر ٹھپے لگئے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ پتنگ اور چیل اور شیر کے بیلٹ پیپر بھی تھے۔ کچھ پیپر علاقے کے بچے لے گئے کچھ لوگوں نے اٹھا لیے اور کچھ میڈیا والوں نے اٹھائے۔ میرے حلقے میں دھاندلی ہوئی ہے اور ہزاروں ووٹ غائب کردیے گئے جس میں میری پوری برادری کا ووٹ شامل ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالیہ انتخابات میں پولنگ سٹیشن کے اندر اور باہر فوج کے اہلکار تعینات تھے جبکہ پولنگ کے کمروں میں کیمرے بھی نصب کیے گئے تھے۔

حالیہ انتخابات میں پولنگ سٹیشن کے اندر اور باہر فوج کے اہلکار تعینات تھے جبکہ پولنگ کے کمروں میں کیمرے بھی نصب کیے گئے تھے۔

ایم کیو ایم کے امیدوار وقار شاہ سوال کرتے ہیں کہ سکیورٹی انتظامات کے باوجود یہ بیلٹ پیپر کس طرح باہر گئے اور اس میں کون ملوث ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

پاکستان تحریک انصاف کے کامیاب امیدوار فہیم خان تحقیقات کا خیرمقدم کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ حیرت کی بات ہے کہ کچرے سے جو بیلٹ پیپر ملے ہیں وہ اتنے صاف کیسے ہیں۔ انھوں نے تحقیقات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معلوم ہو کہ یہ بیلٹ پیپر اصلی ہیں کہ نہیں۔ یہ کس طرح وہاں پہنچے ان میں کون ملوث ہیں یا جو یہ پروپیگنڈہ کر رہا ہے اسے سزا تو ملے۔

’فوج کی نگرانی میں بالکل شفاف انتخابات ہوئے ہیں، مخالفین کا جو دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ ہے اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔‘

اسی بارے میں