الیکشن کے بعد ڈالر کی قیمت میں ’وقتی‘ کمی سے عوام کے بجائے سرمایہ داروں کو منافع

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مارکیٹ میں 115 روپے میں خریدا گیا ڈالر اب بھی دس روپے فائدہ کمانے کے بعد 125 روپے میں بک رہا ہے

پاکستان میں نگران حکومت کے دور میں الیکشن کے انعقاد سے قبل امریکی ڈالر 118 روپے سے بڑھ کر 130 تک پہنچ گیا تھا لیکن الیکشن کے بعد ملک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر اب 122 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

بظاہر لگتا ایسا ہے کہ الیکشن کے بعد ملک میں ڈالر بہت زیادہ آ گئے ہیں یا پھر ’نئے پاکستان‘ میں کوئی بھی اب ڈالر خریدنا نہیں چاہتا۔

کرنسی ڈیلرز سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ ڈالر کو بیچنے والے تو بہت ہیں لیکن خریدار کوئی نہیں ہے۔

پاکستان میں ڈالر ’تاریخ کی بلند ترین سطح پر‘ پہنچ گیا

پاکستانی روپیہ بھارتی اٹھنّی کے برابر

شاید یہی وجہ ہے کہ اب ڈالر بیچنے والا نقصان میں ہے اور وہی ڈالر جو الیکشن سے قبل 129 روپے میں بک رہا تھا اور ہاتھوں ہاتھ خریدا جا رہا تھا آج اُسے 115 میں خریدا جا رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر بدقسمتی سے آپ ڈالر کے خریدار ہیں تو آپ کو ڈالر 122 روپے سے 125 روپے میں مل رہا ہے یعنی 115 میں خریدا گیا ڈالر اب بھی دس روپے فائدہ کمانے کے بعد 125 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

اس ساری صورتحال میں عام آدمی کو تو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے، اگر منافع کما رہے ہیں تو وہ کرنسی مارکیٹ میں موجود سرمایہ کار، جو 115 پر خرید کر 125 روپے میں اسے بیچ رہے ہیں۔

ڈالر نیچے کیوں آ رہا ہے؟

گذشتہ چھ ماہ کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تقریباً 20 فیصد کمی آئی ہے اور ڈالر 105 روپے سے بڑھ کر 131 روپے تک فروخت ہوا ہے لیکن الیکشن کے ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد روپے کی قدر میں تقریباً ساڑھے چار فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کی معیشت کو اس وقت جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ خسارے بڑھ رہے ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔

ان حالات میں پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر 10 سے 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق چین اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک پاکستان کو کچھ رقم دینے کو تیار بھی ہیں۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ انھی خبروں کی وجہ سے روپے کی قدر ’وقتی طور‘ پر مضبوط ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں

کرنسی کا کاروبار کرنے والی ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ ملک میں نئی حکومت کے آنے سے جو استحکام آیا ہے اُس سے بھی روپے کی قدر بڑھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کے پرامن انعقاد کے لیے افغان باڈر بند ہونے کی وجہ سے بھی کرنسی کی سمگلنگ نہیں ہوئی ہے اور اس وجہ سے بھی مارکیٹ میں کافی ڈالر موجود ہیں۔

ڈالر کی قدر میں ’وقتی کمی‘

الیکشن کے بعد انٹر بینک یعنی بینکوں کے مابین ڈالر کی خرید و فروخت کے ریٹ بھی کم ہوئے ہیں۔ انٹر بینک میں ڈالر 124 روپے میں خریدا جا رہا اور 126 روپے میں بک رہا ہے۔

ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر انٹر بینک سے کم قیمت پر فروخت ہو رہا ہے اور ایک دو دن میں مارکیٹ میں بھی ڈالر انٹر بینک کے ریٹ تک پہنچ جائے گا۔

اُن کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ کو زیادہ دیر تک انٹر بینک سے کم نہیں رکھا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ دوست ممالک سے ملنے والی رقم اتنی نہیں ہو گی کہ تمام اقتصادی خسارا پورا کیا جا سکے اور اُن کے خیال پاکستان کو اقتصادی صورتحال سے نکلنے کے لیے آئی ایم ایف کا پروگرام لینا پڑے گا۔

ماہرین کے مطابق اگر حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام میں جاتی ہے تو روپے کی قدر کو مزید کم کرنا پڑے گا۔

ماضی میں بھی آئی ایم ایف کا اصرار رہا ہے کہ حکومت ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر کو کم کرے۔

اسی بارے میں