خیبر پختونخوا کا وزیرِ اعلیٰ کون بنے گا؟

  • عزیز اللہ خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

اسلام آباد میں جماعت کے مرکزی قائدین کے ہمراہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ عمران خان جو بھی فیصلہ کریں گے انھیں قبول ہو گا

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد مرکز میں تو بظاہر تبدیلی آ رہی ہے لیکن یہ تبدیلی خیبر پختونخوا میں نہیں آ سکی اور وہاں پرانی تحریک انصاف کی حکومت ہی قائم ہو گی۔

تو کیا وزیر اعلیٰ بھی وہی پرویز خٹک ہوں گے یا اس مرتبہ کسی جوان اور نئے چہرے کو صوبے کی قیادت کا موقع دیا جائے گا؟

عام انتخابات کے بعد جہاں مرکز اور چاروں صوبوں میں حکومت سازی کے لیے کوششیں جاری ہیں وہیں خیبر پختونخوا ایک ایسا صوبہ ہے جہاں تحریک انصاف دوسری مرتبہ حکومت بنائے گی۔ فرق صرف اتنا ہو گا کہ پرانی حکومت اتحادی تھی جب کہ اس بار تحریکِ انصاف دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنی مرضی کی حکومت قائم کرے گی۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کامیابی کا سہرا کس کے سر جاتا ہے؟ عمران خان، جو مسلسل جدو جہد کرتے رہے یا پرویز خٹک، جن کی کارکردگی صوبے کی سطح پر اتنی بڑی کامیابی کا سبب بنی۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے اس وقت جو وزارت اعلیٰ کے امیدوار سامنے آئے ہیں وہ کھل کر اپنے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک نے نجی محفلوں میں کہا ہے انھیں اگر وزیر اعلیٰ نہ بنایا گیا تو وہ پارٹی چھوڑ دیں گے اور سیاست بھی نہیں کریں گے اور انھیں مرکز میں اہم عہدہ دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

اس بارے میں پرویز خٹک نے گذشتہ روز نو منتخب اراکین کا ایک اجلاس بھی طلب کیا تھا جس میں بڑی تعداد میں اراکین اسمبلی نے شرکت کی تھی جس کا اعلیٰ قیادت نے نوٹس لیا ہے۔

اس اجلاس میں مبینہ طور پر فتح کا جشن منایا گیا جس کے بعد مرکزی قیادت کی جانب سے یہ بیان جاری کیا گیا کہ پارٹی کا اجلاس مرکزی سیکریٹیریٹ سے طلب کیا جائے گا۔

رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق پرویز خٹک کے اس اجلاس کے طلب کرنے کا مقصد طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔ اس اجلاس میں اطلاعات کے مطابق اکتالیس نو منتخب اراکین شریک ہوئے تھے لیکن یہ ثابت نہیں ہو سکا تھا کہ یہ تمام کے تمام پرویز خٹک کے حمایتی ہیں۔

دوسری جانب منگل کو اسلام آباد میں جماعت کے مرکزی قائدین کے ہمراہ پرویز خٹک نے کہا کہ عمران خان جو بھی فیصلہ کریں گے انھیں قبول ہو گا۔

دیگر امیدواروں میں مضبوط امیدوار مردان سے تعلق رکھنے والے عاطف خان ہیں اور ایسی اطلاعات ہیں کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ نو جوان وزیر اعلی ہو اور اس کے خلاف زیادہ شکایتیں بھی نہ ہوں۔

اس کے علاوہ پرویز خٹک، اسد قیصر اور حیدر علی ایسے اراکین ہیں جنھوں نے ایک ایک صوبائی نشست کے ساتھ قومی اسمبلی کی نشستیں بھی حاصل کی ہیں۔ عمران خان مرکز میں عددی برتری کے لیے یہ بھی چاہتے ہیں کہ یہ تینوں اراکین مرکز میں رہیں اور صوبائی نشستیں چھوڑ دیں۔

،تصویر کا کیپشن

پرویز خٹک خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی کارکردگی کا سہرا اپنے سر لیتے ہیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پرویز خٹک کے پانچ سالوں میں ان کے مخالفین نے بھرپور مخالفت کی جس کے بعد پارٹی کے اندر اس وقت اختلافات پیدا ہو گئے تھے جب جماعت کے ایک وزیر ضیاءاللہ آفریدی کو احتساب کمیشن نے گرفتار کر لیا تھا۔

اس کے بعد جماعت کے اندر رکن صوبائی اسمبلی یاسین خلیل اور نسیم جاوید سمیت ایک درجن کے قریب اراکین نے پرویز خٹک پر کھلے عام تنقید شروع کر دی تھی اور ان پر بد عنوانی کے الزامات عائد کیے اور انھیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

حزب اختلاف کی جانب سے بھی پرویز خٹک کے خلاف آواز اٹھائی گئی اور سینیٹ کے انتخاب میں پی ٹی آئی کے اراکین پر ووٹ دوسرے امیدواروں کے دینے کے الزام کے بعد ان باغی اراکین کو جماعت سے نکالنے کے فیصلے تک کیے گئے لیکن پرویز خٹک مضبوط وزیر اعلیٰ رہے۔ انھیں بی آر ٹی کے معاملے پر سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔

اس کے برعکس پرویز خٹک خیبر پختونخوا میں جماعت کی کامیابی کا سہرا اپنے سر لیتے ہوئے نجی محفلوں میں یہ کہتے تھے کہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات میں ان کا کردار رہا ہے۔ صوبے میں بڑے پیمانے پر قانون سازی اور ترقیاتی منصوبوں میں وہ پیش پیش رہے ہیں جبکہ صحت اور تعلیم کے میدانوں میں اصلاحات میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔

پرویز خٹک کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں 2013 کے مقابلے میں جماعت نے دوگنی نشستیں حاصل کی ہے اور یہ صرف ان کی کوششوں سے ہوا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اب وزارت اعلیٰ کا ہما کس کے سر بیٹھتا ہے اس کا فیصلہ عمران خان کسی بھی وقت کر سکتے ہیں۔ اب عوام نے پی ٹی آئی کو صوبے میں دو تہائی اکثریت دی ہے لیکن جماعت کے اندر اختلافات ہمیشہ سے رہے ہیں اور اس سے جماعت کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔