تحریکِ لبیک کہاں سے آئی، متحدہ مجلسِ عمل کہاں گئی؟

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مختلف مسالک کی دینی جماعتوں کے انتخابی اتحاد کے باوجود متحدہ مجلس عمل 2018 کے الیکشن میں خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکھی

پاکستان میں سولہ برس قبل جب پہلی مرتبہ ایک بڑی تعداد میں ملک کی مذہبی جماعتوں نے انتخابی اتحاد کیا تو انہیں ایک صوبے میں حکومت ملی اور ساتھ ساتھ وہ مرکز میں 60 سے زائد نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

لیکن اس دور کے بعد یہ انتخابی اتحاد زیادہ نہ چل سکا اور پھر متعدد بار کوششوں کے باوجود دوبارہ بن نہ پایا۔

تاہم حالیہ انتخابات سے قبل جمیعتِ علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی کوششوں سے ایک مرتبہ پھر دینی جماعتیں متحدہ مجلسِ عمل کی انتخابی چھتری کے نیچے متحد ہو گئیں البتہ اس بار نتائج سنہ 2002 کے بالکل برعکس رہے۔

2017: مذہبی جماعتوں کی مقبولیت کا سال، انتخابی کارکردگی کیسی ہوگی؟

کراچی میں مذہب اور مسلک کی بنیاد پر ووٹ

ملی مسلم لیگ کا ملک بھر سے انتخابات لڑنے کا اعلان

متحدہ مجلس عمل جس میں دو بڑی جماعتوں جمیعتِ علما اسلام ف اور جماعتِ اسلامی کے علاوہ تمام مسالک سے تعلق رکھنے والی کئی دیگر جماعتیں بھی شامل تھیں، ان کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر سے محض 26 لاکھ ووٹ حاصل کر پائیں۔

اتحاد کے بانی اور قائد مولانا فضل الرحمٰن اپنے آبائی حلقوں سے قومی اسمبلی کی دونوں جبکہ ان کے نائب جماعتِ اسلامی کے سربراہ سراج الحق بھی اپنی آبائی نشست سے ہار گئے۔

مجموعی طور پر قومی اسمبلی میں متحدہ مجلسِ عمل 12، خیبر پختونخواہ میں 10، بلوچستان میں 9، سندھ میں ایک اور صوبہ پنجاب میں ایک بھی نشست نہیں جیت پائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمیعت علما اسلام ف کے قائد مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کے قائد سراج الحق دونوں اپنی اپنی قومی نشستوں پر ہار گئے

نئی ابھرنے والی مذہبی جماعتیں

دوسری جانب اس اتحاد سے باہر دو نئی مذہبی جماعتیں سامنے منظر عام پر آئیں اور موازنے میں انہوں نے مجموعی طور پر ایم ایم اے سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔

ان میں تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے مجموعی طور پر 22 لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ صوبہ پنجاب میں ان کے ووٹوں کی تعداد 18 لاکھ کے لگ بھگ رہی۔ صوبہ سندھ سے ان کی جماعت نے 4 لاکھ سے زائد ووٹ لیے اور ان کے دو امیدوار سندھ اسمبلی کے لیے منتخب بھی ہوئے۔

کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 لیاری میں تحریکِ لبیک کے امیدوار نے دوسری پوزیشن حاصل کی اور حاصل کیے گئے ووٹوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صوبہ سندھ میں ٹی ایل پی نے دو صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے

ٹی ایل پی کے علاوہ کالعدم مذہبی تنظیم جماعت الدعوتہ کی غیر رجسٹر شدہ سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کی حمایت یافتہ ملک بھر سے اللہ اکبر تحریک نامی جماعت کے توسط سے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے 251 امیدواروں نے 4 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے۔

ملی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ندیم احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایسے 61 آزاد امیدوار تھے جنہوں نے جماعت الدعوتہ کے سربراہ حافظ سعید کی تصویر یعنی 'ان کی حمایت کے ساتھ الیکشن میں حصہ لیا۔ ان امیدواروں نے مجموعی طور پر 10 لاکھ وولٹ حاصل کیے۔'

تاہم ان کا حمایت یافتہ کوئی بھی امیدوار کہیں سے بھی کوئی بھی نشست نہیں جیت پایا۔ پرانی اور نئی مذہبی جماعتوں کی کارکردگی کے اس موازنے سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حافظ سعید کی حمایت یافتہ اللہ اکبر تحریک نے بھی ملک بھر سے چار لاکھ ووٹ حاصل کیے

نسبتاً نئی سامنے آنے والی ان دو مذہبی سیاسی جماعتوں کو اس تعداد میں ووٹ کیوں ملے؟ کیا وہ اتنے یا اس سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتیں تھیں؟

اسی تناظر میں دہائیوں پر محیط سیاسی تاریخ اور انتظامی ڈھانچہ رکھنے والی متحدہ مجلسِ عمل میں شامل منجھی ہوئی مذہبی جماعتوں کی کارکردگی اس قدر خراب کیوں رہی؟ اس کا فائدہ کسے پہنچا؟

ایم ایم اے کا کیا ہوا؟

متحدہ مجلسِ عمل کے قائد مولانا فضل الرحمٰن اس نتیجے کو پہلے ہی 'بد ترین انتخابی دھاندلی' کی پیداوار قرار دے چکے ہیں۔

اب مولانا کی سربراہی میں بظاہر ایم ایم اے آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے ہونے والے احتجاج کا حصہ ہے اور اس میں شامل دیگر جماعتوں کے ساتھ حزبِ اختلاف کی صفوں میں شامل ہوتے دکھائی دیتی ہے۔

تاہم اس مذہبی اتحاد کو جتنی بھی نسشتیں مل پائیں ان میں جماعتِ اسلامی کی شراکت محض دو نشستوں کی ہے جس میں ایک قومی اور ایک صوبائی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جماعتِ اسلامی کے سربراہ سراج الحق کہتے ہیں کہ الیکشن آزادانہ نہیں ہوئے

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے سربراہ سراج الحق اس کارکردگی کی وجوہات کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کی دلیل کے حامی نظر آئے۔

'آزادانہ الیکشن نہیں ہوا۔ ہمارے حلقوں میں بے انتہا مداخلت کی گئی۔ ایک لحاظ سے ہماری کامیابی کو ریاستی زور کی بنیاد پہ چھین لیا گیا ہے۔'

تاہم اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی اور تجزیہ نگار سبوخ سید جو مذہبی جماعتوں اور ان کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں، ان کا ماننا ہے کے متحدہ مجلسِ عمل کی ناکامی کی ایک سے زیادہ وجوہات تھیں۔

'ایک تو اتحاد کا قیام ہی مصلحت کے تحت ہوا، سیکیولر اور لبرل قوتوں کے خلاف جہاد کے جس نعرے پر انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا اس میں اور ان کے عمل میں تضاد پایا جاتا تھا اور کئی بڑے معاملات پر جمیعتِ علما اسلام ف اور جماعت اسلام میں اختلافات بھی موجود تھے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم ایم اے کو ملک بھر سے 26 لاکھ ووٹ ملے

سنہ 2002 میں تو تمام مذہبی ووٹ اکٹھا ہو گیا تھا۔ اس بار تاہم تحریکِ لبیک پاکستان اور اس جیسی مذہبی جماعتیں سامنے آئیں تو اس کا چیلنج جہاں دوسری سیاسی جماعتوں کو تھا، وہیں ان مذہبی جماعتوں کے خلاف بھی تھا۔

'تو ان جماعتوں کو ضرورت محسوس ہوئی کہ اب بھی انہوں نے اگر ایک دوسرے کے خلاف امیدوار کھڑے کر دیے تو جو امکانات ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔ اس لیے ان کو اس خوف نے اکٹھا کیا۔'

آپس کے اختلافات

سبوخ سید کا کہنا تھا کہ لوگوں نے اس لیے بھی ان جماعتوں کو ووٹ نہیں دیے کہ انتخابی مہم میں انہوں نے نعرہ لگایا کہ وہ سیکیولر اور لبرل قوتوں کے خلاف متحد ہوئے ہیں۔

دوسری جانب جماعتِ اسلامی گزشتہ حکومت میں پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی تھی اور جمیعتِ علما اسلام ن لیگ سے تعاون کر رہی تھی۔ یہاں تک کہ کئی نشستوں پر انہوں نے ن لیگ کے امیدواروں کے حق میں اپنے امیدوار ہٹا لیے، جیسا کہ سوات میں ن لیگ کے صدر شہباز شریف کے خلاف۔

'تو لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ آج آپ جن کے خلاف ہمارے سامنے کھڑے ہو کر تقریریں کر رہے ہیں، انہی کے ساتھ آپ نے سارا وقت گزارا۔'

علاوہ ازیں انتخابات سے قبل ہی جماعتِ اسلامی اور جمیعتِ علما اسلام ف کئی معاملات پر انتہائی مختلف درجے کی سوچ رکھتے تھے جیسا کہ فاٹا کا خیبرپختونخواہ میں ضم ہونے کا معاملہ تھا جس کی مولانا فضل الرحمٰن نے کھل کر مخالفت کی تھی۔

'دوسری جانب پاناما کیس کے مسئلے پر مولانا فضل الرحمٰن نواز شریف کا دفاع کر رہے تھے تو جماعتِ اسلامی ان کی مخالفت کر رہی تھی۔'

سبوخ سید کا کہنا تھا کہ 'دونوں جماعتوں میں نسشتوں کی تقسیم پر بھی اختلافات سامنے آئے تھے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماہرین کے مطابق ایم ایم اے کی ناکامی کی ایک وجہ کئی بڑے معاملات پر جمیعتِ علما اسلام ف اور جماعت اسلامی میں اختلافات تھے

کیا اتحاد جماعتِ اسلامی کو لے ڈوبا؟

یاد رہے کہ گزشتہ دورِ حکومت میں جماعتِ اسلامی خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کا حصہ تھی۔ تو کیا اتحاد میں شامل ہونا غلطی تھا؟ کیا انفرادی حیثیت سے جماعتِ اسلامی بہتر کارکردگی دکھا سکتی تھی؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے سربراہ سراج الحق یہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'دراصل جس طرح الیکشن کو سلیکشن بنایا گیا اس میں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ایم ایم اے بنانا غلطی تھا یا نہیں؟ مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح تشدد کیا گیا اس سے یہ حال بنا ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریکِ لبیک پاکستان اور اس جیسی نئی آنے والی مذہبی جماعتوں نے بھی ایم ایم اے پر زیادہ اثر نہیں ڈالا۔

تاہم سبوخ سید کا ماننا تھا کہ جماعت اسلامی کو اس اتحاد کا سیاسی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوا اور اس حوالے سے جماعت کی حالیہ شورٰی میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

'اگر وہ تحریکِ انصاف کے ساتھ ہی اتحاد میں رہتے تو شاید ان کو کچھ مل بھی جاتا۔'

اس سوال کے جواب میں کہ کیا ان کی جماعت اس کے بعد بھی اتحاد کا حصہ رہے گی، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ 'فی الحال تو ہمارا یہ اتحاد ہے اس لیے کہ ہم ایک نشان پر موجود ہیں۔ باقی بعد میں دیکھا جائے گا، بہرحال فی الحال تو ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹی ایل پی کی سربراہ خادم حسین رضوی نے خود کسی نشست پر انتخاب نہیں لڑا

تحریکِ لبیک کو ووٹ کیوں ملے؟

تحریکِ لبیک پاکستان نے بھی الزام لگایا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ورنہ ان کی جماعت زیادہ نشستیں حاصل کر سکتی تھی۔

تحریکِ لبیک کے ترجمان پیر اعجاز اشرفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 'ان کے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالا گیا اور انہیں فارم 45 نہیں دیا گیا تھا۔'

تاہم تحریکِ لبیک پاکستان کو توقعات سے زائد ووٹ کیسے اور کیوں پڑا؟ متحدہ مجلسِ عمل میں بھی تو تمام مسالک کی جماعتیں شامل تھیں۔

تجزیہ نگار عامر رانا کے مطابق اس کی بنیادی وجہ تحفظِ ختمِ نبوت کا وہ نعرہ اور اس کو استعمال کر کے پیدا کیے جانے والے جذبات تھے جس پر انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ تاہم ا س کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے ساتھ وہ لوگ بھی شامل ہو گئے جن کا انفرادی ووٹ بینک تھا۔

'خصوصاً پنجاب میں کچھ ایسے لوگ تھے جنہیں ن لیگ یا تحریکِ انصاف نے ٹکٹ نہیں دیا تو وہ تحریکِ لبیک میں شامل ہو گئے۔ ان لوگوں کا اپنا ووٹ بینک تھا جو تحریکِ لبیک کے پیغام کے ساتھ مل کر دگنا ہو گیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عامر رانا کا کہنا ہے کہ تحریکِ لبیک پاکستان سیاسی طور پر زیادہ دور نہیں چل پائے گی

'دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ بریلوی مسلک میں شامل جتنی چھوٹی جماعتیں تھیں ان کا تمام تر ووٹ تحریکِ لبیک پاکستان کی طرف مائل ہو گیا۔ کراچی میں خاص طور پر یہی دیکھنے میں آیا۔'

کراچی سے مرکزی سیاسی کردار یعنی متحدہ قومی موومنٹ کے منظر سے قدرے اوجھل ہونے کا بھی تحریکِ لبیک کو فائدہ پہنچا۔

تاہم عامر رانا کا کہنا تھا کہ تحریکِ لبیک پاکستان سیاسی طور پر زیادہ دور نہیں چل پائے گی۔

'ابھی تو ایک جذبہ پایا جاتا تھا جس پر انہوں نے اس قدر ووٹ لے لیے۔ اور پھر پوری جماعت ایک یا دو شخصیات کے سر پر چل رہی تھی۔ لیکن جب تک اس کی مکمل تنظیم سازی نہیں ہو گی تب تک اس کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہو گا۔'

کام بگاڑنے کا کردار؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ندیم احمد نے کہا کہ ان کی جماعت کو مختلف رکاوٹیں کھڑی کر کے کھل کر انتخابی مہم چلانے کا موقع نہیں دیا گیا

تحریکِ لبیک پاکستان اور اللہ اکبر تحریک جیسی جماعتوں کو بارے میں انتخابات سے قبل یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ ان کا کردار پاکستان مسلم لیگ ن یا دیگر جماعتوں کے ووٹ کو بگاڑنے کا ہو گا یا انہیں سپائلر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

عامر رانا کا کہنا تھا کہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی سائنسی طریقہ تو موجود نہیں تاہم بظاہر ایسا نظر ضرور آتا ہے۔

اللہ اکبر تحریک کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ در حقیقت انہیں ان کی اپیل سے زیادہ ووٹ موصول ہوئے۔

'ان کا ایک فرقہ وارانہ پس منظر ہے جس سے وہ باہر نہیں نکل سکتے اور وہ مستقبل میں اہلحدیث کے ووٹ ہی کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے۔'

تاہم ملی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ندیم احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'ان کی جماعت کو مختلف رکاوٹیں کھڑی کر کے کھل کر انتخابی مہم چلانے کا موقع نہیں دیا گیا۔ اس کے باوجود ہم نے اچھے خاصے ووٹ لیے۔ ویسے بھی ابھی تو یہ ہمارا آغاز ہے۔'

اسی بارے میں