نواز شریف: مجھے واپس جیل بھجوا دیں یہاں سکون نہیں ہے

  • حمیرا کنول
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
نواز شریف

،تصویر کا ذریعہReuters

سابق وزیراعظم نواز شریف کو اسلام آباد کے پمز ہسپتال سے دوبارہ اڈیالہ جیل شفٹ کر دیا گیا ہے اور طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے جیل واپسی کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

نواز شریف کو بکتر بند گاڑی میں منگل کی شام ساڑھے سات بجے پمز ہسپتال کے شعبہ امراض قلب کے عقبی دروازے سے جیل واپس رخصت کیا گیا۔

پمز ذرائع کی جانب سے موصول ہونے والی نواز شریف کی حالیہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق ان کے بلڈ ٹیسٹ نارمل ہیں اور ان کا بلڈ پریشر 130/80 تھا۔

رپورٹ میں ’انھیں سٹیبل‘ یعنی ان کی حالت کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔ تاہم یہ بھی لکھا گیا ہے کہ مریض بار بار واپسی کے لیے کہہ رہا تھا۔

ان کا معائنہ کرنے والے ایک کارڈیالوجسٹ نے بتایا کہ نواز شریف کو اتوار کو ساڑھے آٹھ بجے شفٹ کیا گیا اور پھر گیارہ بجے ان کا معائنہ ہوا تھا۔

’نواز شریف کو ساڑھے آٹھ بجے شفٹ کیا گیا تھا۔ گیارہ بجے تک معائنہ ہوا۔ ساڑھے گیارہ صبح معائنہ کیا گیا۔ اس وقت ان کا بلڈ پریشر قدرے زیادہ 180/110 تھا۔ شوگر بھی ہائی تھی۔‘

مزید پڑھیے

ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ شدید دباؤ اور ٹینشن لینے کی وجہ سے ان کا فشار خون بلند ہوا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ اتوار کی صبح ساڑھے دس بجے سے ڈاکٹرز نے انھیں پمز شفٹ کرنے کا پروگرام بنایا تھا لیکن نواز شریف مسلسل انکاری تھے۔

’ڈاکٹرز بھی کنفیوز تھے کہ ایسی حالت میں کیا کیا جائے اگر سابق وزیراعظم کو کچھ ہو جاتا تو بات پھر ڈاکٹرز اور حکام پر آتی اور میڈیا انھیں کو ذمہ دار ٹھہراتا۔ ہوتے ہوتے شفٹ کرنے میں رات ہو گئی۔‘

ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں دوسری صبح یعنی منگل کو جب نواز شریف کا معائنہ کیا گیا اور خون کے نمونے لیے گئے تو رزلٹ بہت بہتر ملے۔ ان کا الٹراساؤنڈ رزلٹ بھی ٹھیک تھا، نبض کی رفتار اور سینے کی حالت کو بھی درست قرار دیا گیا۔‘

نواز شریف کا رویہ کیسا تھا اور کیا وہ اب بھی سٹریس کا شکار تھے؟

طبی ٹیم کے ڈاکٹر نے بتایا کہ نواز شریف تو بہت نرم لہجے میں بات چیت کرتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ’میں ٹھیک ہوں اب مجھے واپس جیل بھجوا دیں میں یہاں کمفرٹیبل (پرسکون) محسوس نہیں کرتا۔‘

ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ پمز کے شعبہ کارڈیالوجی کی ایک پوری منزل جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا میں نواز شریف کو چلنے پھرنے کی اجازت تھی۔

’وہ راہداری میں بھی جا سکتے تھے اور ان کا کمرہ 20 بائے 30 کا تھا ان کے ٹخنوں میں سوجن تھی جس کی وجہ سے انھیں کہا گیا تھا کہ وہ چہل قدمی بھی کریں۔‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

’اب ان کے ٹخنوں پر سوجن تو نہیں تھی لیکن ان کو تجویز کیا گیا ہے کہ وہ شوگر اور بلڈ پریشر روزانہ مانیٹر کریں اور روٹین کا معائنہ دو ہفتے بعد کروائیں۔ جو جیل میں بھی ہو سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر کے مطابق نواز شریف کو اب بازو یا سینے میں درد تو نہیں ہے لیکن دل کے مریض ہونے کی وجہ سے ان کی ای سی جی کی رپورٹ کرنٹ فلو کا مسئلہ شو کرتی رہے گی۔

ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ یہ خبریں بے بنیاد ہیں کہ نواز شریف کو بیرون ملک علاج تجویز کیا گیا تاہم یہ ضرور بتایا گیا کہ ان کی بیماری کا سارا ریکارڈ انگلینڈ میں موجود ہے۔

’عموماً ایسی حالت میں ہم عام مریض کو چار سے پانچ روز کے لیے داخل کرتے ہیں۔ نواز شریف کی حالت تسلی بخش تو تھی لیکن وہ مسلسل جیل واپسی کا کہہ رہے تھے اس لیے انھیں جانے دیا گیا۔‘

’وہ جانے کی بات شاید اس لیے بھی کرتے ہوں کیونکہ یہاں وہ بالکل تنہا تھے اور شاید جیل میں ان سے ملاقاتی یہاں کی نسبت آسانی سے مل سکتے ہوں۔ تاہم ڈاکٹر ان کا معائنہ کرنے کے لیے جیل کی بیرک تک نہیں جاتے ڈاکٹرز ان کا معائنہ الگ کمرے میں کرتے ہیں۔‘

اس سارے عرصے میں نواز شریف کے ذاتی کارڈیالوجسٹ بھی پمز ہسپتال کے ڈاکٹرز کی ٹیم کے ساتھ رابطے میں رہے۔ جیل میں بھی انھیں ڈاکٹر دستیاب ہو گا جو جیل کے عملے میں شامل ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل نواز شریف نے ڈاکٹرز کو معائنے کے دوران بتایا تھا کہ انھیں ایک غذائی ماہر کی نگرانی میں کم پروٹین والی مناسب خوراک دی جارہی ہے جس میں مرغی کا گوشت اور سبزیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ دہی کا استعمال باقاعدگی سے کر رہے ہیں۔