'کیلاش قبیلے کو اکثر اوقات شیڈول کاسٹ میں شمار کیا جاتا ہے'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پہلے کیلاش ایم پی اے: عمران خان نے ہمیں ایک الگ شناخت دی ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں کیلاش برادری سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو پہلی مرتبہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اقلیتوں کی مخصوص نشست پر نامزد کیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزیر زادہ کیلاش قبیلے کے پہلے خوش نصیب ہیں جو خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن بنیں گے۔

اس سے پہلے عیسائی، ہندو اور سکھ برادریوں کے نمائندے متعدد بار مخصوص نشستوں پر نامزد کیے جاتے رہے ہیں تاہم اقلیتوں کے لیے مخصوص نشست کیلاش قبیلے کے حصے میں پہلی مرتبہ آئی ہے۔

وزیرزادہ کی مخصوص نشست پر نامزدگی کی تصدیق کے بعد وادی کیلاش میں ہر طرف جشن کا سماں ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے۔ اس جشن میں کیلاش قبیلے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے نامزد رکن وزیرزادہ کا کہنا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد سے لے کر آج تک کسی سیاسی جماعت نے کیلاش قبیلے کو یہ موقع نہیں دیا کہ ان کے کسی فرد کو صوبائی یا قومی اسمبلی کی مخصوص نشست پر نامزد کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ 'اس کا تمام کریڈٹ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو جاتا ہے جنھوں نے دیگر اقلیتوں کی طرح کیلاش قبیلے کو بھی ایک الگ شناخت دے دی اور اس قابل سمجھا کہ ان کے نمائندے بھی اسمبلی جاکر دیگر اقلیتوں کی طرح اپنے حق کےلیے آواز بلند کرسکیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Wazirzada

ان کے مطابق انہیں یقین نہیں تھا کہ اقلیتوں کی نشست پر اتنی آسانی سے ان کی نامزدگی ہوجائیگی لیکن صوبے میں پارٹی کی غیر معمولی کامیابی نے یہ کام آسان کردیا۔

کیلاش برادری کے مسائل کے ضمن میں بات کرتے ہوئے نامزد رکن نے کہا کہ کیلاش قبیلے کی ثقافت ہزاروں سال پرانی ہے اور یہ دنیا اپنے طرز کی انوکھی ہے لیکن اس قبیلے کو ماضی کی حکومتوں نے مکمل طورپر نظر انداز کیے رکھا۔

Image caption وزیر زادہ کو یقین نہیں تھا کہ اقلیتوں کی نشست پر آسانی سے ان کی نامزدگی ہوجائیگی

'ہمیں مکمل اقلیت کا درجہ بھی حاصل نہیں بلکہ ہمیں اکثر اوقات شیڈول کاسٹ میں شمار کیا جاتا ہے لیکن یہ ناانصافیاں اب مزید نہیں چل سکتی۔'

34 سالہ وزیرزادہ کا تعلق وادی کیلاش کے علاقے رمبور سے ہے۔ انھوں نے پشاور یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس کے مضمون میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی ہے۔انھوں نے دو ہزار آٹھ میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی اور ضلعی سطح پر پارٹی میں متعدد عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

وزیر زادہ چترال میں گزشتہ کئی سالوں سے غیر سرکاری تنظیموں سے بھی منسلک رہے ہیں اور انھیں صحت اور تعلیم کے شعبے میں کافی تجربہ حاصل ہے۔

وزیر زادہ نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی کہ وادی کیلاش میں جبری طورپر تبدیلی مذہب کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

'اگر کوئی اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اس پر کوئی پابندی نہیں لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں کہ لوگوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔'

Image caption کیلاش قبیلہ اپنی مخصوص روایات اور ثقافت کےلیے پوری دنیا میں مقبول سمجھا جاتا ہے

ان کے مطابق 'وادی کیلاش میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور وہاں ہم نے ایک بھائی چارے کی فضا قائم کی ہوئی ہے جہاں ہم ایک گھر کے افراد کی طرح رہ رہے ہیں۔'

وادی کیلاش میں صحافیوں کے جانے پر پابندی کے بارے میں نامزد رکن نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے وہاں سرحد پار سے کچھ ایسے واقعات ہوئے جس سے امن عامہ کے مسائل پیدا ہوئے لیکن اب حالات کافی حد تک بہتر ہوگئے ہیں اور امید ہے کہ یہ پابندی جلد ہی اٹھائی جائیگی۔

خیال رہے کہ چترال میں ہزاروں سالوں سے رہائش پزیر کیلاش قبیلہ اپنی مخصوص روایات اور ثقافت کے لیے پوری دنیا میں مقبول سمجھا جاتا ہے اور یہ قبیلہ صرف چند ہزار آبادی پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں