آر ٹی ایس کی تحقیقات سینیٹ کو کرنے دی جائے: رضا ربانی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے مطالبہ کیا ہے کہ عام انتخابات کے نتائج میں تاخیر کے لیے ذمہ دار ٹھیرائے جانے والے تکنیکی نظام یعنی آر ٹی ایس کے بارے میں تحقیقات سینیٹ کو کرنے دی جائے۔

اسلام آباد میں جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وہ 'الیکشن کمیشن کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی بنانے کے اعلان کو مسترد کرتے ہیں'۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے گذشتہ رات اس نظام میں مبینہ خرابی اور نتائج میں تاخیر کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

آر ٹی ایس کے بارے میں مزید پڑھیے

آر ٹی ایس: بظاہر آسان، تیز رفتار سہولت

الیکشن 2018: نتائج ’ناقابلِ قبول‘ اور تاخیر ’ناقابلِ معافی‘

سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے لیے طے کیا گیا ضابطہ اختیار بھی مبہم ہے اور اصل مسئلے کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق ’تحقیقات کے اعلان میں اس بات کا ذکر نہیں کہ نادرا نے اُسی وقت تکنیکی نظام کے فعال ہونے کی بات کی تھی۔ آر ٹی ایس نے انتخابات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے'۔

تاہم الیکشن کمیشن اس سے متفق نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان ندیم قاسم نے بی بی سی کو تحقیقات کے لیے طے شدہ قواعد و ضوابط سے متعلق بتاتے ہوئے کہا ہے کہ 'پراجیکٹ کے ڈیزائن، اس پر لوگوں کی تربیت، 25 جولائی کو اس ایپ کی ناکامی کی تحقیقات بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جائے گا کہ یہ نظام کیوں ناکام ہوا اور اس کی ذمہ داری کس کے سر ہے؟'

خیال رہے کہ پاکستان میں 25 جولائی کو عام انتخابات کے سلسلے میں ہونے والی پولنگ کے بعد اس وقت مایوسی پھیل گئی جب الیکشن کمیشن کی جانب سے نیا تیار کردہ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم یعنی آر ٹی ایس نے مبینہ طور پر کام کرنا بند کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ آرٹی ایس بنانے کا مقصد 'انتخابی نتائج کی ترسیل کے عمل کو تیز کرنا تھا، جب وہ تیز ہی نہیں تھا تو اس کو کیوں استعمال کیا جائے'۔

تصویر کے کاپی رائٹ ECP

ندیم قاسم کا کہنا تھا کہ 'رات 12 بجے تک صرف 14 فیصد نتائج آئے تھے، جبکہ مقامی میڈیا تو 50 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔ 13 ہزار پولنگ سٹیشن کے نتائج کے بعد یہ نظام اس قدر سست ہو گیا کہ برداشت نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جبکہ دوسرے دن دو بجے تک بھی 50 فیصد نتائج آر ٹی ایس کے ذریعے موصول نہیں ہو سکے تھے'۔

نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق ترجمان نے کہا ہے کہ 'پریزائیڈنگ افسران نے ہر صورت میں آر او کے پاس نتائج لے کر تو جانا تھا، لیکن آر ٹی ایس میں خرابی کے باعث ہم نے انہیں کہا کہ وہ آر او کے پاس نتائج پہنچائیں'۔

اس سے قبل مقامی اخبار میں ذرائع کے حوالے سے شائع خبر میں کہا گیا تھا کہ آر ٹی ایس ایپلیکیشن بنانے والے ادارے نادرا نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے نظام کی خرابی چھپانے کے لیے الزام آر ٹی ایس پر ڈال رہا ہے۔

دوسری جانب نادرا کے ایک ترجمان نے ڈان اخبار میں چھپنے والی اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ نادرا نے الیکشن کمیشن سے اس معاملے پر احتجاج کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم ایم اے سمیت ملک کی کئی سیاسی جماعتیں آر ٹی ایس میں مبینہ خرابی اور نتائج میں تاخیر پر سوالیہ نشان اٹھا رہی

ترجمان کے مطابق یہ بدقسمتی ہے کہ دونوں اداروں کو تنازع میں گھسیٹا جا رہا ہے جبکہ عام انتخابات کو غیر ضروری طور پر متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق آر ٹی ایس میں مبینہ خرابی اور نتائج کی تاخیر کی تحقیقات کے معاملے کی تحقیقات چار ہفتوں میں مکمل کی جائے گی۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم ایم اے سمیت ملک کی کئی سیاسی جماعتیں آر ٹی ایس میں مبینہ خرابی اور نتائج میں تاخیر پر سوالیہ نشان اٹھا رہی ہیں جبکہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر بھی یہ جماعتیں متحد نظر آتی ہیں۔

تاہم کیا اس نظام میں واقعی خرابی ہوئی، یا اس کی وجہ کچھ اور تھی، یہ حقیقت چار ہفتوں کے بعد اسی صورت میں منظرِ عام پر آسکتی ہے جب تحقیقاتی رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں