اسلام آباد میں جنسی زیادتی کا مقدمہ، ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

ایف-9 پارک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایک شخص، جس نے اپنا تعلق سی ڈی اے سے ظاہر کیا، نے پولیس بلانے کی دھمکی دی اور دونوں کو 'بلیک میل' کرنے کی کوشش کی۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کے حکام نے ایف-9 پارک میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں ملوث دو اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کر دیا ہے۔

جن اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کیا گیا ہے ان میں شیراز کیانی اور عمر شہزاد شامل ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق اس مقدمے میں ملوث دیگر دو ملزمان جن میں مراد اور عبیداللہ شامل ہیں کا تعلق آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کے ذیلی ادارے عسکری گارڈز سے بتایا جاتا ہے۔

تفتیشی افسرکے مطابق ان ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے تاہم متعلقہ عدالت میں اُنھیں دوبارہ پیش کر کے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔

بدھ کو اسلام آباد پولیس نے ایک خاتون کو اجتماعی طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں پارک کے چار ملازمین کو گرفتارتھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’پاکستان میں ہر روز 9 بچے جنسی زیادتی کا شکار‘

’روزانہ 11 بچے جنسی زیادتی کا نشانہ‘

ملتان : 12 سالہ لڑکی کے ریپ کا بدلہ، 17 سالہ لڑکی کا ریپ

وہ علاقہ جہاں ’ہر تیسرا شخص ریپ میں ملوث ہے‘

ایک 22 سالہ خاتون نے تھانہ مارگلہ میں ایف آئی آر درج کروائی ہے جس میں انھوں نے مقامی پارک میں تعینات سی ڈی اے کے اہلکاروں پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا ہے۔

ایف آئی آر میں خاتون نے اسلام آباد کے ایف-9 پارک میں تعینات سی ڈی اے کے چار اہلکاروں پر جنسی طور پر ہراساں کرنے اور تشدد کا الزام لگایا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق خاتون نے ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ وہ جمعرات دو اگست کو اپنے ایک دوست کے ہمراہ ایف نائن پارک میں داخل ہوئیں تو وہاں موجود کچھ اہلکاروں نے ان کا پیچھا کیا اور ان کے ساتھ مبینہ طور پر غلط حرکات کیں۔

ایف آئی آر کے مطابق ایک شخص، جس نے اپنا تعلق سی ڈی اے سے ظاہر کیا، نے پولیس بلانے کی دھمکی دی اور دونوں کو 'بلیک میل' کرنے کی کوشش کی۔

تھانے میں درج ابتدائی رپورٹ کے مطابق جب وہاں موجود اہلکاروں نے اس خاتون اور ان کے دوست کو پریشان کرنا شروع کیا تو خاتون کے دوست نے انھیں پیسوں کی پیشکش کی اور جانے کو کہا جس پر ایف آئی آر کے مطابق ان اہلکاروں نے پیسے لینے کے بعد ان کے دوست کو پارک کے الگ گیٹ سے جانے کو کہا اور اس خاتون کو اپنے ساتھ لے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے جب دوسرے سی ڈی اے اہلکار اور گارڈ سے مدد مانگی تو وہ ان سے دور ہوگئے۔ 'میں چیختی روتی رہی لیکن وہ سب کچھ جان کر بھی نہیں آئے مدد کو۔'

خاتون کی جانب سے دیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اہلکار انھیں پارک میں موجود ہی ایک جنگل میں لے گئے اور وہاں ان کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی۔

خاتون کے مطابق اس اہلکار نے 'مجھے بولا نیچے بیٹھ جاؤ اور میرے ساتھ غلط حرکتیں کرنے لگا۔'

ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے جب دوسرے سی ڈی اے اہلکار اور گارڈ سے مدد مانگی تو وہ ان سے دور چلے گئے۔ 'میں چیختی روتی رہی لیکن وہ سب کچھ جان کر بھی مدد کو نہیں آئے۔'

خاتون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان اہلکاروں نے انھیں دھمکی دی کہ اگر انھوں نے اس بارے میں کسی سے ذکر کیا تو وہ انھیں جان سے مار دیں گے۔

ایف آئی آر کے مطابق وہ کچھ دن تک اسی 'ٹرومہ' میں رہیں، لیکن اس غرض سے مقدمہ درج کروایا تاکہ کسی اور لڑکی کے ساتھ ایسا نہ ہو۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر محمد حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں نامزد کیے گئے چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والے ملزمان میں مراد، شیراز، عمر شہزاد اور عرفان شامل ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ان ملزمان کو ایف نائن پارک میں تعینات دیگر سکیورٹی گارڈز اور ان کے سروس ریکارڈ کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق دوران تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ اُنھوں نے خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملزمان کو مقامی عدالت میں پیش کر کے ان کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا جائے گا۔

خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کی گونج سپریم کورٹ میں بھی سنائی دی۔

سپریم کورٹ کے جج عمر عطا بندیال نے اس واقعے پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر پارک میں سٹریٹ لائٹس لگ جاتیں تو شائد یہ واقعہ رونما نہ ہوتا۔

اسی بارے میں