قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 131 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم معطل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سپریم کورٹ نے ملک کے متوقع وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے قومی اسمبلی کے حلقے میں دوبارہ گنتی کروانے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔

اس عدالتی حکم کے بعد قومی اسمبلی کے حلقے این اے 131 میں دوبارہ گنتی کا عمل روک دیا گیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر بدھ کے روز اس حلقے کے تمام پولنگ سٹیشن پر ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہونا تھی۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ایک مرتبہ جب کسی حلقے کا نتیجہ فائنل ہو جائے تو پھر کیسے دوبارہ گنتی کروائی جاسکتی ہے۔

متحدہ اپوزیشن آج الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کرے گی

نئی پارلیمان میں فرینڈلی یا ایک منقسم حزب اختلاف؟

’صرف وہی حلقے کھلوا لیں جہاں عمران خان جیتے ہیں‘

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔

اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 25 جولائی کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں عمران خان نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے131 سے کامیابی حاصل کی تھی۔

درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ عمران خان نے اس حلقے میں ہونے والے انتخابات میں 84313 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کے مخالف امیدوار خواجہ سعد رفیق نے 83633 ووٹ حاصل کیے تھے۔

عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس حلقے میں رینٹرننگ افسر کے حکم پر تین بار ووٹوں کی گنتی ہوئی لیکن اس کے باوجود ان کے موکل کامیاب قرار پائے۔

اُنھوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن روکنے کا بھی حکم دے رکھا ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔

خواجہ سعد رفیق کے وکیل نے کہا کہ ریٹرنگ افسر نے دوبارہ گنتی کا حکم صرف مسترد ووٹوں کا دیا تھا جس میں اُن کے موکل کے ووٹوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پورے حلقے میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہیں ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جب ایک بار گنتی کو حتمی شکل دے دی جائے تو پھر کیسے دوبارہ گنتی کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے؟

خواجہ سعد رفیق کے وکیل نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ وہ کوئی بھی حلقہ دوبارہ کھولنے کو تیار ہیں جس پر حزب مخالف کی جماعتیں اعتراض کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں عمران خان کا یہ بیان سیاسی ہے اور عدالت سیاسی بیانات پر دھیان نہیں دیتی۔

اس سے پہلے بھی عمران خان سنہ2013 میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد صوبہ خیر پختونخوا کے کسی بھی حلقے کو دوبارہ کھولنے کا دعوی کرتے رہے تاہم بعدازاں عمران خان کو بتایا گیا کہ اُن کے پاس کوئی بھی حلقہ دوبارہ کھولنے کا اختیار نہیں ہے۔

واضح رہے کہ لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 131 میں سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد، عمران خان سے چند سو ووٹوں کے فرق ہارے تھے۔

سپریم کورٹ نے ایک اور سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی طرف سے ان کے حلقے میں دوبارہ گنتی کروانے کی استدعا مسترد کر دی۔

دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی اپنے حلقے میں دوبارہ گنتی کروانے کی استدعا مسترد کردی۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 73 سے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کامیاب ہوئے تھے۔

اسی بارے میں