اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج: عدلیہ مخالف نعرے بازی پر دہشت گردی کا مقدمہ

احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس احتجاجی مظاہرے میں ملک کے دو سابق وزرائے اعظم جن میں سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف بھی شامل تھے

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاج کے دوران عدلیہ مخالف نعرے لگانے پر متعدد افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے گذشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بدھ کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں!

’یہ الیکشن تمام دھاندلی زدہ الیکشنز کی ماں ہے‘

'50 لاکھ خواتین نے حق رائے دہی کا استعمال نہیں کیا'

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے لیے محمود خان نامزد

’صرف وہی حلقے کھلوا لیں جہاں عمران خان جیتے ہیں‘

مظاہرے کے دوران ان جماعتوں کے کارکنوں نے نہ صرف چیف جسٹس کا نام لے کر اُن کے خلاف نعرے لگائے بلکہ فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی تھی۔

اس احتجاجی مظاہرے میں ملک کے دو سابق وزرائے اعظم جن میں سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف شامل سمیت جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور متعدد سابق وفاقی وزرا نے شرکت کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مقامی پولیس کے مطابق پولیس حکام ابھی اس مقدمے پر کارروائی کرنے اور لوگوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا

تھانہ سیکرٹریٹ کے انچارج اور اس مقدمے کے تفتیشی افسر محمد محبوب نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں صرف دو افراد کو نامزد کیا گیا ہے اور دونوں کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔

ان ملزمان میں پیپلز پارٹی کی خاتون کارکن شہزادہ کوثر گیلانی کے علاوہ راجہ امتیاز علی شامل ہیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق اس مقدمے میں دیگر نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے اور ویڈیو فلم کے ذریعے دیگر ملزمان کی نشاندہی کرکے اُنھیں گرفتار کیا جائے گا۔

پولیس انسپکٹر محبوب کے مطابق ملزمان کے خلاف مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات کے علاوہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 228 کے تحت درج کیا گیا ہے جو کہ عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر اور نعرے بازی کرنے سے متعلق ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق پولیس حکام ابھی اس مقدمے پر کارروائی کرنے اور لوگوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تاہم اس کا فیصلہ آنے والی حکومت کو چھوڑا جائے گا کہ آیا وہ مقامی پولیس کو عدلیہ مخالف اور دیگر اداروں کے خلاف نعرے بازی کرنے والوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیتی ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں