’جس کے گھر چوری ہوئی، وہ پوچھنے آیا ہی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس احتجاج میں گیارہ سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن شریک تھے

چور چور عمران چور! یہ وہ نعرے تھے جو بدھ کے روز شاہراہ دستور پر پاکستان الائنس فار فری اینڈ فئیر الیکشن کے زیراہتمام الیکشن کمیشن آفس کے سامنے سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کی خواتین چیخ چیخ کر لگا رہی تھیں۔ شاہراہ دستور بھی کیا وفاقی دارالحکومت کی سڑک ہے جہاں ہر کوئی قانون اور دستور کی خلاف ورزی کی اپنی فریاد لے کر آن پہنچتا ہے۔

اپوزیشن احتجاج:عدلیہ مخالف نعرے بازی پر دہشت گردی کا مقدمہ

’یہ الیکشن تمام دھاندلی زدہ الیکشنز کی ماں ہے‘

نیا اپوزیشن لیڈر لانے پر ایم کیو ایم اور تحریک انصاف میں اتفاق

حالیہ عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما یہ الزام لگاتے ہیں، کہ اس انتخابات میں سب سے زیادہ دھاندلی ان کے ساتھ ہوئی ہے اور ان کے مینڈیٹ پر بقول ان کے ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ احتجاج سے پہلے یہ کہا جاتا رہا کہ یہ احتجاج مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی سربراہی میں ہوگا۔ تاہم احتجاج شروع ہوتے ہی سب سے زیادہ احتجاج میں شریک مظاہرین مرد اور خواتین شہباز شریف کی غیرحاضری پر سوالات اُٹھاتے ہوئے دکھائی دیے۔ایک بوڑھے آدمی نے پوچھا ’شہبازشریف مجھے نظر نہیں آرہے‘۔ کسی نے جواب دیا ان کی پرواز موسم کے خرابی کی وجہ سے نہیں آ سکی۔ بوڑھے آدمی نے بے تکلف کہا، ’جس کے گھر سے چوری ہوئی ہے، وہ آئے ہی نہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بڑی تعداد میں سینیٹرز بھی وہاں موجود تھے۔ سکیورٹی بھی حسب توقع مناسب تھی۔

تاہم آخر تک صحافیوں سے لے کر سیاستدانوں تک ہر آنکھ ان کو ڈھونڈتی رہی۔ بعض کے خیال میں وہ شاید اس لیے بھی نہیں آئے کیونکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے تعلقات فی الحال کشیدہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ ہی ہیں کہ جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جب نواز شریف کسی مشکل میں پھنس جاتے تو وہ اپنے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ساتھ ’خفیہ‘ ملاقاتیں کر کے بلائیں ٹالا کرتے تھے۔

ایک دوسری بڑی شخصیت جو اس میدان احتجاج میں دکھائی نہیں دی وہ تھی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری۔ وہ عام انتخابات کے بعد سے پہلے ہی دن سے دیگر احتجاجی جماعتوں کے ساتھ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی عجیب سے اشارے دے رہے ہیں۔

کبھی ان کے اجلاس میں شریک ہوتے رہے ہیں اور کبھی نہیں۔ اس مرتبہ بھی خود تو نہیں آئے لیکن سینیٹر شیری رحمان، خورشید شاہ، قمرالزماں قائرہ اور یوسف رضا گیلانی کو اپنی نمائندگی کے لیے ضرور بھیج دیا۔ سیاست کے طالب علم بلاول کے لیے اچھا ہوتا کہ وہ اس قسم کے سیاسی احتجاج میں حصہ لینے کی ڈگری بھی حاصل کر لیتے۔ آج تک انھوں نے محض پیپلز پارٹی کے اپنے جلسوں میں بھی حصہ لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سیاسی جماعتوں نے اس احتجاج کے لیے صرف اپنے ٹکٹ ہولڈرز کو مدعو کیا تھا

اس احتجاج میں گیارہ سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن شریک تھے، جو جتنا غصے میں تھا وہ اُتنے ہی غصے سے نعرے لگارہے تھے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خلاف شدید نعرے لگائے۔

واضح رہے کہ ان ناراض سیاسی جماعتوں نے اس احتجاج کے لیے صرف اپنے ٹکٹ ہولڈرز کو مدعو کیا تھا لیکن بڑی تعداد میں ان کے علاوہ کارکنان اور سینیٹرز بھی وہاں موجود تھے۔ سکیورٹی بھی حسب توقع مناسب تھی۔

اس کے ساتھ دوسرے جماعتوں کے کارکنوں نے ووٹ کو عزت دو، جعلی الیکشن نامنظور، خلائی الیکشن نامنظور، یہ جو نامعلوم ہے، یہ ہمیں معلوم ہے، یہ جو افراتفری ہے، اس کے پیچھے وردی ہے اور سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت نامنظور کے نعرے لگائے گئے۔ عوامی نیشنل پارٹی کو بھی غیریقینی نتائج کا کافی دکھ تھا لہذا ان کے سرخ ٹوپیوں والے رہنما اور کارکنوں کے ہمراہ سرخ پرچم زیادہ تعداد میں دکھائی دیے۔

پشتونخوا میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے مظاہرین سے خطاب میں صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’صحافی حضرات بعض باتیں نہیں لکھ سکتے، ہم کہیں گے، باقی آپ کی مرضی‘۔ ایک نوجوان نے میری طرف دیکھا، ہنسا اور اپنے آپ سے کہا ’بے چارے صحافی‘۔