13 اگست کو حکومت سازی کا پہلا مرحلہ شروع ہوگا، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تیرہ اگست کو بلوائے گئے اجلاس میں اراکین کی حلف برداری ہو گی۔

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے پہلے مرحلے میں قومی اسمبلی کا اجلاس 13 اگست کو طلب کر لیا گیا ہے۔

تحریک انصاف نے اسد قیصر کو سپیکر قومی اسمبلی اور چوہدری محمد سرور کو گورنر پنجاب کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔

اس اجلاس میں نو متخب اراکینِ قومی اسمبلی حلف اٹھائیں گے اور اس کے بعد سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہو گا۔

قومی اسمبلی کے نو منتخب سپیکر کی نگرانی میں قائدِ ایوان یا وزیراعظم کا انتخاب ہو گا۔

صدرِ پاکستان ممنون حسین نے نگران وزیراعظم ناصرالملک کی سفارش پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلوانے کی سمری کی منظوری دی ہے۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے 25 جولائی کے انتخابات میں کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے بعد اب 13 اگست کو قومی اسمبلی اجلاس طلب کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں!

کامیابی کے بعد وزارت عظمیٰ کی شیروانی تک کا سفر

الیکشن 2018: بی بی سی کا خصوصی ضمیمہ

عمران خان کی وکٹری سپیچ: ’سب اداروں کو مضبوط کروں گا‘

یاد رہے کہ 18ویں ترمیم میں اس قانون کی منظوری دی گئی تھی کہ الیکشن کے بعد 21 روز کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلوایا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 13 اگست کو بلوائے گئے اجلاس میں اراکین کی حلف برداری ہو گی۔

الیکشن کے بعد بلوائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں نو منتخب اراکین کی رہنمائی کے لیے خصوصی استقبالیہ کاؤنٹر قائم کیے ہیں۔

ان خصوصی کاؤنٹرز پر نو منتخب اراکین کے کارڈز کے اجرا کے لیے تصاویر بنائی جائیں گی۔

عموماً اراکین کی حلف برداری کے بعد اگلے ہی دن سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوتا ہے لیکن گذشتہ اسمبلی میں اراکین کی حلف برداری اور سپیکر کا انتخاب ایک ہی روز میں مکمل ہو گیا تھا۔

Image caption الیکشن کمیشن نے انتخابات میں کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے

ذرائع کا کہنا ہے کہ 13 اگست کو بلوائے گئے اجلاس میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب بھی اُسی روز مکمل ہو جائے گا۔

جس کے بعد امکان ہے کہ 15 اگست کی صبح وزیراعظم کے انتخاب کا شیڈول جاری ہو گا اور شام میں قومی اسمبلی قائد ایوان کو منتخب کرے گی۔

اسمبلی سے منتخب ہونے کے بعد ایوان صدر میں ایک تقریب کے دوران صدر ممنون حسین نو منتخب وزیراعظم سے حلف لیں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے حکومت سازی کو وقت پر مکمل کرنے کے لیے صدر سے اپنا دورہِ برطانیہ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

صدرِ پاکستان ممنون حسین نے 15 سے 19 اگست تک برطانیہ کا دورہ کرنا ہے۔

تحریک انصاف کا سپیکر قومی اسمبلی اور گورنر پنجاب کے نام کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں سپیکر کے عہدے کے لیے ان کی جماعت کے امیدوار صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اسد قیصر ہیں۔

انھوں نے اسلام آباد میں پارٹی اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ پنجاب میں چوہدری محمد سرور کو گورنر پنجاب نامزد کرنے کا اعلان بھی کیا۔

شاہ محمود قریشی نے اسد قیصر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے حکومت کے دوران پانچ سال تک صوبائی اسمبلی کے سپیکر رہے اور اس دوران انھوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ایوان کو سنبھالا اور چلایا اور اس کے ساتھ حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کیے اور انھیں ساتھ لے کر چلنے کی بھرپور کوشش کی۔

چوہدری محمد سرور کے بارے میں بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارٹی نے انھیں پنجاب کا گورنر نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چوہدری محمد سرور وہ پہلے گورنر رہ چکے ہیں اور وہ آئینی تقاضوں اور اپنے آئینی کردار سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس کے ساتھ وہ پنجاب میں تحریک انصاف سے پوری طرح واقف ہیں اور پارٹی کے نومنتخب صوبائی امیدوارں میں سے تقریباً سبھی کو جانتے اور پہچانتے ہیں۔

خیال رہے کہ جنوری 2015 میں چوہدری محمد سرور نے گورنر پنجاب کے عہدے سے مستعفی ہوگئےتھے۔

گورنر کے عہدے پر تعیناتی سے قبل چوہدری سرور کا مسلم لیگ ن سے براہ راست تو تعلق نہیں تھا اس لیے ان کی تعیناتی کو نوازشریف کی جانب سے ذاتی تعیناتی کے طور پر لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں