’عمران خان کے چاہنے والوں کے لیے اِس قسم کا کوئی بھی مذاق برا لگے گا‘

پاکستان

،تصویر کا ذریعہcomedy central

امریکی کامیڈین ٹریور نوح کے ٹی وی پروگرام 'دا ڈیلی شو' میں پاکستان کے نومنتخب وزیراعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسا قرار دینے پر جہاں ایک طرف عمران خان کے مخالفین نے اس کو سراہا، دوسری جانب عمران خان کے حمایتیوں نے سخت ردعمل دکھایا اور تنقید کی۔

اس رد عمل پر یہ سوال اٹھا کہ کیا پاکستانی اپنے پسندیدہ رہنماؤں کے بارے میں کسی بھی قسم کا مذاق یا تنقید سننے کے روادار نہیں ہیں؟

اس بارے میں جب ٹی وی اینکر ضرار کھوڑو سے سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ سارے پاکستانیوں کو تو برا نہیں لگا لیکن عمران خان کے حمایتیوں کو کافی گراں گزرا ہے۔

'ٹریور نوح کا پروگرام طنز و مزاح کا پروگرام ہے تو اس میں طنز و مزاح پر مبنی مواد ہی ہوگا، لیکن یہ ایک الگ بات ہے کہ حال ہی میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہم میں مذاق برداشت کرنے کی قوت کم ہو گئی ہے اور یہ کافی عجیب بات ہے کیونکہ ہمارے یہاں سیاسی طنز و مزاح کی روایت ہے جیسے ماضی کا پروگرام ففٹی ففٹی۔'

ضرار کھوڑ نے کہا کہ 'ایک جانب ہم خود مذاق اڑاتے ہیں لیکن دوسری جانب پھر ہم خود بھی حساس ہو جاتے ہیں اگر کوئی دوسرا ہمارا مذاق اڑائے۔'

،ویڈیو کیپشن

’اب برداشت کی قوت کچھ کم سی ہوگئی ہے‘

کالم نویس ندیم فاروق پراچہ سے اس بارے میں بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ پاکستانیوں کا حس مزاح زبردست ہے لیکن کبھی کبھار وہ ڈھکے چھپے مزاح کو نہیں سمجھتے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

'اس وقت عمران خان کے چاہنے والوں کے لیے اِس قسم کا کوئی بھی مذاق برا لگے گا، ان میں سے کئی وہ ہیں جو عمران خان کے کردار، جو کہ ان کی پارٹی، میڈیا اور ریاست کے چند اداروں کی جانب سے سانچا گیا ہے، وہ اُس پر یقین کرتے ہیں۔'

جب اس بارے میں سوال کیا گیا کہ سیاسی طنز و مزاح کے تناظر میں ٹریور نوح اپنے پروگرام سے کیا حاصل کرنا چاہ رہے تھے تو ندیم فاروق پراچہ نے اس بارے میں کہا کہ 'ٹریور نوح کا پروگرام ہمیشہ ایسے مواد کی تلاش میں ہوتا ہے جس کی مدد سے وہ صدر ٹرمپ کا مذاق اڑا سکیں اور عمران خان کو پروگرام میں شامل کرنا بھی اسی کی کڑی تھی۔ یہ درحقیقت صدر ٹرمپ پر طنز تھا اور عمران خان کو استعمال کر کے انھوں نے صدر ٹرمپ کے کردار کا مذاق اڑایا تھا۔'

ضراڑ کھوڑو نے بھی کہا کہ یہ بنیادی طور پر کامیڈی پروگرام ہے اور اس کو صحافت کے تناظر میں دیکھنا مناسب نہیں ہوگا۔

'اگر آپ اس پروگرام کے سکرپٹ کو دیکھیں تو میرا خیال ہے کہ ٹریور نوح صاحب نے عمران خان کے پرانے بیڈ روم کی تصویر دیکھ لی ہوگی اور کہا ہوگا کہ بس اس پر پروگرام بنتا ہے اور اگر میں بھی ان کی جگہ ہوتا تو یہی کرتا۔'

،تصویر کا ذریعہcomedy central

سیاست اور طنز و مزاح کے ملاپ کے حوالے سے سوال پر ندیم فاروق پراچہ نے کہا کہ طنز و مزاح اس وقت صحیح معنوں میں سامنے آتا ہے جب ریاست معاشرے میں انٹیلیکچوئل ماحول کو پنپنے نہیں دیتی تو لوگ مزاح کا سہارا لیتے ہیں۔

'طنز و مزاح پر مبنی مواد اسی ریاستی رویےکو نشانہ بناتی ہے اور جو لوگ ریاست کے اقدام کو درست سمجھتے ہیں ان کو سمجھ نہیں آتا کہ اس سے کیسے نپٹیں۔'

ضرار کھوڑو کہتے ہیں کہ پاکستان میں مزاح کے ذریعے بہت کچھ کہا جا سکتا ہے جو کہ براہ راست نہیں بولا جا سکتا کیونکہ اس کے کچھ ناپسندیدہ نتائج نکل سکتے ہیں۔

'مزاح کو بہت سنجیدگی سے نہیں لینے چاہیے۔ یہ مذاق ہوتا ہے اور اگر ٹریور نوح کے پروگرام پر اسی طرح حملہ کیا جائے گا جیسے ٹرمپ کے مداح کرتے ہیں تو آپ ان کے ہی نکتے کو ثابت کر رہے ہیں۔ مزاح کو مزاح ہی سمجھیں۔'