پشاور کے تندوری چکن کا دہلی تک کا سفر

  • اظہار اللہ
  • بی بی سی پشتو
،ویڈیو کیپشن

تندوری چکن پشاور سے دہلی کیسے پہنچا؟

'موتی محل پشاور میں موسیقی بجتی رہتی تھی۔ لوگ آکر قہوہ پیتے اور گھنٹہ دو گھنٹہ بیٹھ کر چلے جاتے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد یہ ہوٹل 1967,68 تک چلتا رہا اور پھر بند ہوگیا۔'

یہ کہنا ہے پشاور کے 80 سالہ رہائشی میاں اختر کا جن کی پشاور کے موتی محل ہوٹل کے سامنے کپڑوں کی دکان ہے۔ وہ پشاور کے اس ہوٹل کا ذکر کر رہے ہیں جس کی بنیاد 1920 کی دہائی میں پشاور کے گورا بازار میں رکھی گئی، یہاں پر ہی تندوری چکن متعارف کروایا گیا تھا۔

میاں اختر کو پشاور کا موتی محل یاد ہے جس کو پشاور کے ایک ہندو شہری کندن لال نے بنایا تھا۔

بی بی سی نے تقریباً دو ہفتوں کی تحقیق کے بعد اس عمارت کو ڈھونڈ نکالا جہاں موتی محل ہوٹل واقع تھا۔ اس کے سامنے تقریباً سو سال پرانا ایک درخت بھی موجود ہے۔

آج کل یہی عمارت، جو صدر بازار سے متصل گورا بازار میں واقع ہے، وہاں ٹیلر کی دکان موجود ہے جبکہ عمارت کا اوپر والا حصہ پشاور کنٹونمنٹ بورڈ کی ملکیت ہے۔

سفید داڑھی والے میاں اختر نے اپنے دکان میں بیٹھ کر موتی محل پشاور کی عمارت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا: 'مجھے یاد ہے جب اسی ہوٹل میں لوگ آتے جاتے تھے اور رات گئے تک بیٹھتے تھے۔ میری کندن لال سے ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں جو اسی شہر میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔'

اختر کے مطابق کندن لال 1947 میں اپنے خاندان سمیت تقسیم ہند کے بعد انڈیا چلے گئے۔

انھوں نے بتایا کہ کندن لال کے خاندان والے بہت عرصے تک پشاور کے چکر لگاتے تھے اور یہاں اپنے دوستوں سے ملتے تھے، لیکن اب بہت سال عرصہ ہوگیا ہے کہ وہ نہیں آئے۔

'پشاور کے موتی محل میں پہلا تندوری چکن بنا تھا'

تاریخ میں لکھا گیا ہے کہ پشاور کے اسی ہوٹل نے تندوری چکن کو پشاور میں متعارف کروایا، جو آج برصغیر سمیت پوری دنیا میں کھایا جاتا ہے۔

تقسیم ہند سے پہلے پشاور میں بہت سے ہندو خاندان آباد تھے۔

انھیں میں ایک ہندو کندن لال گجرال بھی تھے جو موجودہ پاکستان کے ضلع چکوال میں پیدا ہوئے تھے اور پشاور میں رہتے تھے۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے 2011 میں لکھا گیا ایک آرٹیکل موتی محل ہوٹل کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کندن لال 12 سال کی عمر میں یتیم ہوئے۔

آرٹیکل کے مطابق اسی چھوٹی عمر میں کندن لال نے پشاور میں موتی سویٹس نامی ایک دکان میں بطور ہیلپر کام شروع کیا تھا۔

دکان کے مالک کچھ برسوں بعد وفات پا گئے تو کندن لال نے اسی ہوٹل کو خود لے کر اس کا نام موتی محل رکھ دیا۔

موتی محل کے موجودہ مالک اور کندن لال کے نواسے نے بی بی سی کو دہلی سے فون پر بتایا کہ موتی محل پشاور کے گورا بازار میں واقع تھا۔

'کیوں نہ چکن کو تندور میں پکا کر دیکھ لیں'

موتی محل کے بانی کندل لال کے نواسے منیش گجرال آج کل ہوٹلوں کی چین کا مالک ہے اور دہلی میں مقیم ہیں۔

منیش گجرال نے بتایا کہ ان کے دادا کہتے تھے کہ ایک دن ان کا ایک استاد بیمار تھا اور انہوں نے میرے دادا سے کچھ ہلکے پھلکے کھانے کی فرمائش کی جس میں روغن کم ہوں۔

'میرے دادا نے سوچا کہ کیوں نہ چکن کو تندور میں پکا کر دیکھیں کہ کیا بنتا ہے۔ اسی طرح تندوری چکن پہلی بار میرے دادا نے پشاور کے موتی محل میں پکایا گیا۔'

منیش نے تندور کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ تندور اس سے پہلے انڈیا میں موجود تھا لیکن اس میں زیادہ تر آٹے کے نان، پراٹے اور میدے کے نان پکائے جاتے تھے، لیکن تندور کو چکن پکانے کے لیے پہلی بار ان کے دادا نے استعمال کیا۔

منیش کے مطابق ان کے دادا کے انڈیا آنے کے بعد انہوں نے دہلی میں دوبارہ موتی محل کے نام سے ایک چھوٹے ہوٹل کی بنیاد رکھی جس کی آج کل سو سے زائد شاخیں ہے۔

چکن تندوری کس طرح بنتا ہے؟

گو کہ تندوری چکن کو برصغیر میں پشاور کے موتی محل نے متعارف کرایا، لیکن آج موتی محل کی پشاور سمیت پورے پاکستان میں کوئی شاخ موجود نہیں۔

تاہم پشاور میں اس وقت دو ہوٹل ایسے ہیں جہاں وہی پرانے طریقے سے چکن کو تندور ہی میں پکایا جاتا ہے، جبکہ بہت سے دیگر ہوٹلوں میں چکن کو سیخ میں ڈال کر دہکتے کوئلوں پر پکایا جاتا ہے۔

وہ ہوٹل جہاں تندوری چکن بنایا جاتا ہے وہاں اس کے لیے مٹی سے بنا ایک بڑا تندور بنایا گیا ہے۔

پہلے چکن کو دہی، ادرک، لہسن، لیموں کے رس اور گرم مسالہ کا پیسٹ دے کر کچھ دیر کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد چکن کو سیخ میں ڈال کر اس کو تندور کے دہکتے کوئلوں پر تقریبا 35 منٹ تک رکھ دیا جاتا ہے اور اسی طرح چکن تندوری تیار ہوجاتا ہے۔

پشاور کا رہائشی رؤف خان پشاور کے ناگومان علاقے میں واقع ایک ایسے ہوٹل میں بیٹھا ہے جو تندوری چکن وہی پرانے طریقے سے بناتے ہے۔

دیگر ساتھیوں کے ساتھ میز پر بیٹھے رؤف خان نے بتایا کہ ان کا ہفتے میں ایک بار دوستوں کے ساتھ اس ہوٹل کا چکر لگتا ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا ان کو یہ معلوم کہ تندوری چکن پہلی بار پشاور میں متعارف کرایا گیا تو جواب میں انہوں نے بتایا۔ 'ہمیں پہلے کبھی بھی یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ چکن پہلی بار پشاور ہی میں متعارف کرایا گیا۔'