بی اے پی کے سربراہ جام کمال نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا حلف اٹھا لیا

  • محمد کاظم
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
جام کمال

بلوچستان عوامی پارٹی (ْبی اے پی) کے سربراہ جام کمال نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔

حلف برداری کی تقریب اتوار کو گورنر ہاؤس بلوچستان میں منعقد ہوئی جس میں گورنر بلوچستان محمد خان جوگیزئی نے جمال کمال سے حلف لیا۔

واضح رہے کہ جام کمال کو گذشتہ روز بلوچستان اسمبلی نے کثرت رائے سے وزیر اعلیٰ منتخب کیا تھا۔

انھیں بلوچستان عوامی پارٹی اور اس کی اتحادی پانچ دیگر جماعتوں نے وزیر اعلیٰ نامزد کیا تھا۔

صوبہ بلوچستان کے نئے منتخب ہونے والے وزیر اعلیٰ جام کمال خان اپنے خاندان سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے تیسرے وزیر اعلیٰ ہیں۔

وہ سنیچر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں 39 ووٹ لے کر وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔

جام کمال بلوچستان عوامی پارٹی سمیت چھ جماعتی اتحاد کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار تھے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ان کے مقابلے میں متحدہ مجلس عمل اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل پر مشتمل اتحاد کے امیدوار میر یونس عزیز زہری تھے جن کو 20 ووٹ ملے۔

بلوچستان کے انتخابات کے بارے میں مزید

نئے وزیر اعلیٰ جام کمال سنہ 1975 میں کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ وہ جام آف لسبیلہ اور سابق وزیر اعلیٰ جام یوسف مرحوم کے اکلوتے بیٹے ہیں۔

انھوں نے تیسری جماعت تک تعلیم ہیپلرز سکول کوئٹہ سے حاصل کی۔

انھوں نے سنہ 1989 میں کراچی منتقل ہونے کے بعد فالکن ہاؤس گرائمر سکول میں داخلہ لیا، جب کہ ایم بی اے گرین وچ یونیورسٹی کراچی سے کیا۔

جام کمال نے عملی سیاست کا آغاز بلدیاتی انتخابات سے کیا۔ سنہ 2001 میں وہ اپنے آبائی ضلع لسبیلہ کے ناظم بن گئے۔

وہ دوسری مرتبہ سنہ 2005 سے 2008 تک دوبارہ ضلع لسبیلہ کے ناظم بن گئے۔

ان کا تعلق عالیانی خاندان سے ہے جو قیام پاکستان سے قبل ریاست لسبیلہ کا حکمران تھا۔ سنہ 2013 میں اپنے والد جام محمد یوسف کی وفات کے بعد وہ جام آف لسبیلہ بن گئے۔

انھوں نے سنہ 2013 کے عام انتخابات میں حصہ لیا اور قومی اسمبلی کے رکن بن گئے۔

جام کمال سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دور میں وزیر مملکت برائے پیٹرولیم و قدرتی وسائل کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

اس سال جنوری میں بلوچستان میں ن لیگ میں بغاوت اور اس کی قیادت میں بلوچستان میں حکومت کے خاتمے کے بعد جام کمال نے اپریل میں کابینہ سے مستعفی ہونے کے علاوہ ن لیگ سے علیحدگی اختیار کر لی۔

انھیں حالیہ انتخابات سے ایک ماہ قبل بلوچستان کی سطح پر بننے والی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کا سربراہ منتخب کر لیا گیا۔

2018 کے عام انتخابات میں وہ ضلع لسبیلہ میں اپنے آبائی نشست سے پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

24 ارکین کے ساتھ نہ صرف ان کی جماعت بلوچستان اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی بن گئی بلکہ پانچ دیگر جماعتوں کی حمایت سے ان کے وزیر اعلیٰ بننے کی راہ بھی ہموار ہو گئی۔

وہ جام آف لسبیلہ خاندان سے بننے والے تیسرے وزیر اعلیٰ ہیں۔

اس سے قبل ان کے والد جام یوسف سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں ق لیگ سے 2002 سے2007 تک بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہے جبکہ سابق فوجی آمر ضیاء الحق کے دور میں ان کے دادا جام غلام قادر بھی 80 کی دہائی میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہے۔

وہ جام آف لسبیلہ میر غلام قادر کے پوتے ہیں جب کہ خان آف قلات میر احمد یار خان کے نواسے ہیں۔