نیوٹریشن سروے: حکومت کی توجہ حل سے زیادہ تشخیص تک محدود

Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سروے سے صحت کے قومی پروگرام کی کارکردگی کا بھی تعین ہوگا

’میں آپ سے کچھ سوالات کروں گی برا نہیں منائیے گا گذشتہ ایک سال میں کس بھی کمی بیشی کی وجہ سے آپ نے اپنا کھانا چھوڑ تو نہیں دیا تھا‘، یہ منظر ہے کراچی میں مسیحی آبادی کے علاقے عیسیٰ نگری کا جہاں پاکستان نیوٹریشن سروے کی ٹیم ایک خاندان سے ابتدائی معلومات حاصل کر رہی ہے۔ ان خواتین سے ماں اور بچے کی صحت اور خوراک کے بارے میں سوالات پوچھے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں ایک لاکھ 20 ہزار گھرانوں سے یہ تفصیلات جمع کی جائیں گی، کراچی کے ساتھ سابق فاٹا، کشمیر اور گلگت سمیت چاروں صوبوں کے کئی اضلاع میں گھر گھر جاکر یہ ٹیمیں انٹرویوز کے ساتھ خون کے نمونے بھی حاصل کریں گی۔

اسی بارے میں

’گھی لگا کر بچوں کو روٹی دیں تو بچے بیمار ہو جاتے ہیں‘

’چٹائیوں سے اتنے پیسے نہیں ملتے کہ علاج کرائیں‘

’پاکستان میں مزید پانچ لاکھ بچے لاغر ہو سکتے ہیں‘

خوراک، پانی اور صابن کا استعمال

کراچی میں فیلڈ ریسرچ کی انچارج ڈاکٹر زینب دانش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خواتین سے فوڈ ان سکیورٹی کے علاوہ تولیدی صحت اور ہاتھ دھونے کی مشق کے بارے میں معلوم کرتے ہیں کہ صابن کا استعمال ہوتا ہے یا نہیں۔ گھر میں موجود نمک کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے کہ آیا اس میں آئیوڈین شامل ہے کہ نہیں۔ اس کے علاوہ پینے کے پانی خون اور پیشاب کے نمونے حاصل کیے جاتے ہیں۔

گھروں سے حاصل کیے جانے والے پانی، خون اور پیشاب کے نمونوں کا تجزیہ آغا خان یونیورسٹی کی لیبارٹریوں میں کیا جاتا ہے۔ ان نمونوں سے غذائیت کے علاوہ وٹامن اے اور پینے کے پانی میں فضلے اور معدنیات کی موجودگی کا پتہ لگایا جاتا ہے۔

فیلڈ ریسرچ کی انچارج ڈاکٹر زینب دانش کہتی ہیں کہ بعض ٹیسٹوں کےنتائج تو موقع پر ہی بتا دیے جاتے ہیں۔

Image caption سروے میں ماں اور بچے کی صحت ، غذائیت کے علاوہ پینے کے پانی کے معیار کا بھی پتہ لگایا جائے گا

’جن میں خون میں ہیموگلوبین کی موجودگی کےعلاوہ نمک میں آئیوڈین کی دستیابی ماں اور بچے کا وزن اور قد کی پیمائش سے بھی آگاہ کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ لیبارٹری ٹیسٹ میں شک و شبہات سامنے آتے ہیں تو متعلقہ لوگوں کو ان سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔‘

کراچی کے رجحانات

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں روزگار کے مواقع زیادہ موجود ہیں جبکہ کئی فلاحی ادارے مستحق لوگوں کو کھانا بھی فراہم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر زینب دانش کا کہنا ہے کہ نمک میں آئیوڈین کی موجودگی کا رجحان سامنے آ رہا ہے۔

عام نمک جس کے بارے میں لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اس میں آئیوڈین نہیں اس میں بھی آئیوڈین موجود ہے، خواتین میں ہیموگلوبین کی کمی نظر آرہی ہے جبکہ بعض علاقوں میں پانی میں بیکٹیریا کی موجودگی ہے لیکن یہ ابھی غیر حتمی معلومات ہے۔

Image caption ڈاکٹر زینب دانش کے مطابق کم آمدنی والے علاقوں میں بھرپور تعاون ملتا ہے جبکہ زیادہ آمدنی والے علاقوں میں لوگ تعاون نہیں کرتے۔

کراچی میں 60 فیصد سروے مکمل ہوچکا ہے، لیکن بعض علاقوں میں سروے ٹیموں کو دشواری کا سامنا ہے۔ ڈاکٹر زینب دانش اس کو امن امان کی صورتحال سے منسلک سمجھتی ہیں۔

’لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس ہے ابتدائی دنوں میں ہماری ٹیموں کے پاس اپنا شناختی کارڈ موجود ہونے کے باوجود لوگ سمجھتے تھے ڈاکو وغیرہ نہ ہو جہاں پولیس ساتھ لے کر جاتے ہیں وہاں لوگ تعاون کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ خون اور پیشاب کے نمونے لینے میں بھی دشواری ہوتی ہے کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جب وہ لیباٹری جاکر ٹیسٹ کرا سکتے ہیں تو وہ گھروں میں کیوں ٹیسٹ کرائیں؟ معلوم نہیں یہ محفوظ ہوگا یا نہیں؟ کوئی بیماری نہ لگ جائے لوگوں کو یہ خدشات ہوتے ہیں۔

Image caption لوگ سروے میں شامل ہونے سے گھبراتے ہیں

ڈاکٹر زینب دانش کے مطابق کم آمدنی والے علاقوں میں بھرپور تعاون ملتا ہے جبکہ زیادہ آمدنی والے علاقوں میں لوگ تعاون نہیں کرتے، کئی تو ایسے ہوتے ہیں کہ دروازے سے ہی چوکیدار کو کہہ کر واپس کر دیتے ہیں لیکن ہم متبادل حکمت عملی اپناتے ہیں اور سینیئر ممبران کی ٹیمیں جاکر ان سے ملاقات کرتی ہیں۔

قومی پروگرام کی افادیت پر سوال

حکومت پاکستان کے اس قومی سروے کی فیلڈ ریسرچ آغا خان یونیورسٹی کر رہی ہے جبکہ اس کے تکینکی معاونت اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف اور مالی مدد برطانوی حکومت کے ترقیاتی پروگرام نے فراہم کی ہے۔

آغا خان یونیورسٹی کے محقق پروفیسر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ اس سروے سے صحت کے قومی پروگرام کی کارکردگی کا بھی تعین ہوگا۔ ’پاکستان میں خواتین میں گذشتہ پچاس برسوں میں خون کی کمی میں تخفیف نہیں ہوئی اور ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں ہو رہا کہ اتنے قومی پروگرام شروع کرنے کے باوجود اس میں تخفیف کیوں نہیں ہوئی؟‘

Image caption 2011 کے نیوٹریشن سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 40 فیصد بچے ذہنی اور جسمانی طور پر اپنی عمر سے بہت چھوٹے ہیں

’پاکستان میں وٹامن اے کا پروگرام بھی گذشتہ بیس پچیس سالوں سے جاری ہے، یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس کی افادیت ہے کہ نہیں۔ اگر وٹامن اے اور ڈی گھی اور تیل میں شامل ہے اور لوگ استعمال بھی کر رہے ہیں تو پھر اس میں اتنی کمی کی شرح کیوں ہے۔‘

سنگین صورتحال کی نشاندہی

2011 کے نیوٹریشن سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 40 فیصد بچے ذہنی اور جسمانی طور پر اپنی عمر سے بہت چھوٹے ہیں۔ پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں بھی ان بچوں کا ذکر کیا اور اپنی اولیت ترجیح میں شامل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

آغا خان یونیورسٹی کے محقق پروفیسر ذوالفقار بھٹہ صورتحال کو اس سے بھی زیادہ سنگین سمجھتے ہیں۔

’ہمارے یہاں دس سے پندرہ فیصد وہ بچے ہیں جو فاقہ زدہ ہیں یعنی ایمرجنسی کی حالت میں ہیں۔ پاکستان میں دونوں چیزوں کا امتزاج ہے وہ بچے بھی ہیں جو اپنی فطری صلاحیت اور گنجائش سے کہیں کم ہیں اور ایسے ہیں جو غذائی کی شدید قلت کی وجہ سے ہنگامی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

اقوام متحدہ نے ملینیئم ڈویلپمنٹ گول کے تحت 2030 تک رکن ممالک کو غذائی قلت ختم کرنے کا کہا ہے۔ پاکستان میں اس سے قبل بھی دو نیوٹریشن سروے ہو چکے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے تشخیص کی طرف تو توجہ دی ہے، تاہم اس کا حل نکالنے پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں