پاکستان کی خارجہ پالیسی دفتر خارجہ ہی میں بنے گی: شاہ محمود قریشی

شاہ محمود قریشی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کا پاکستانی ہم منصب عمران خان کے نام خط جس میں بات چیت کے آغاز کے لیے کہا ہے‘

نومنتخب وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی دفترِ خارجہ ہی میں بنے گی، تاہم دنیا بھر میں یہ رواج ہے کہ آپ نیشنل سکیورٹی کے اداروں سے 'ان پٹ' لیتے ہیں اور وہ اہم ہوتی ہے۔

وزیرِ خارجہ کا حلف لینے کے تھوڑی ہی دیر بعد دفترِ خارجہ میں پریس کانفرنس دوران فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے نامہ نگار نے وزیر خارجہ شاہ ممحود قریشی سے سوال کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کنٹرول کرتی ہے اور کیا آپ کس طرح اپنی خارجہ پالیسی پر عمل کرنے میں آزاد ہوں گے؟

اس سوال کے جواب میں پہلے شاہ محمود قریشی نے نامہ نگار کا نام پوچھا اور نام معلوم کرنے کے بعد جواب دیتے ہوئے کہا کہ مغرب میں آپ کے پاس پہلے سے طے شدہ خیالات ہوتے ہیں کہ خارجہ پالیسی کہاں مرتب کی جاتی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے اپنے سامنے رکھے ڈائس پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ’میں آپ کو واضح کر دوں کہ ملک کی خارجہ پالیسی یہاں بنائی جائے گی۔۔۔۔ یہاں دفتر خارجہ۔۔۔ اب۔‘

شاہ محمود قریشی نے اس کے ساتھ مزید کہا کہ دنیا بھر میں یہ پریکٹس ہوتی ہے کہ آپ دوسروں سے رائے لیتے ہیں جس میں اپنی قومی سکیورٹی کے اداروں سے بھی رائے لیتے ہیں جو کہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور ایک چیز جسے اداروں کی یادداشت کہا جاتا ہے، ہمیں اس یادداشت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور میں اس میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کروں گا اور میں ان کو انگیج کروں گا پاکستان کی بہتری کے لیے کیونکہ میری پالیسی ’پہلے پاکستان‘ ہے۔‘

شاہ محمود قریشی نے امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’کیا آپ وہاں سی آئی اے اور پینٹاگون سے رائے نہیں لیتے؟‘

مزید پڑھیے

بھائی صاحب آپ نے نہیں کیا!

’انڈیا پاکستان میں جارحانہ کارروائی کر سکتا ہے‘

انڈیا ہندو پاکستان بن سکتا ہے!

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوالات سے ہہلے خارجہ پالیسی کی ترجیحات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ہماری سوچ کا محور پاکستان کا عام شہری ہے۔ اس خطے کے بے پناہ چیلینجز ہیں لیکن ہمارا پیش رفت کرنے کا ارادہ ہے۔ کچھ قوتیں کچھ عرصے سے پاکستان کو متواتر تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور کیوں نہ ہو ملک میں چار سال سے وزیر خارجہ ہی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی ایک ایسی پالیسی ہے جس پر میری کوشش ہے کہ قومی اتفاق رائے ہو۔

’آج اسی سوچ کو بڑھاتے ہوئے میں اپوزیشن کو دعوت دے رہا ہوں۔ حنا ربانی کھر، خواجہ محمد آصف اور ایم ایم اے، جس کو مناسب سمجھیں میں ان سے رجوع بھی کروں گا اور دعوت بھی دوں گا ۔۔۔ میں ان کے خیالات سے مستفید ہونا چاہتا ہوں۔‘

انھوں نے نام لیے بغیر کہا کہ دو اہم ممالک جن سے ہمارے خارجہ تعلقات اہم ہیں، میں توقع کرتا ہوں کہ مستقبل قریب میں ان سے بات ہو گی، اور آگے بڑھے گی۔ جہاں اعتماد کی کمی ہے میں اس پر بھی بات کروں گا۔‘

مودی کا بات چیت کے آغاز کے لیے عمران خان کو خط

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کا وزیراعظم عمران خان کے نام خط آیا ہے اور انھوں نے بات چیت کے آغاز کے لیے کہا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’دوسرا پیغام ہندوستان کی وزیرخارجہ کے لیے ہے۔ ان سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہم دو نہ صرف ہمسائے ہیں ہم دو ایٹمی قوتیں ہیں۔ ہمارے درمیان دیرنیہ مسائل ہیں اس سے آپ بھی واقف ہیں اور میں وبھی واقفیت رکھتا ہوں۔ ہمارے پاس گفتگو کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہمارے پاس میری رائے میں گفتگو شنید کے علاوہ کوئی اور حل نہیں ہے۔ ہم کوئی مہم جوئی، کوئی حادثاتی مہم جوئی، جہاں ری ایکشن ٹائم اتنا مختصر ہو، اس کے متحمل ہی نہیں ہو سکتے۔ مشکلات کو جانتے ہوئے، جانتے ہوئے کہ مسئلے پیچیدہ ہیں جانتے ہوئے کہ ہو سکتا ہے کہ ان کا کوئی فوری اور آسان حل نہیں ہے، لیکن ہمیں بات کرنا ہو گی۔ ہم روٹھ کر ایک دوسرے سے منہ نہیں موڑ سکتے۔'

نو منتخب وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’ہم چاہیں یا نہ چاہیں، کشمیر ایک مسئلہ ہے جس کا دونوں ملکوں نے اعتراف کیا ہوا ہے۔۔۔ واجپئی یہاں آئے، انھوں نے پاکستان کی حقیقت کو تسلیم کیا تھا۔۔۔۔ اسلام آباد ڈیکلریشن ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔‘

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کو مسلسل اور بغیر کسی رکاوٹ کے بات چیت کی ضرورت ہے۔

سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ سی پیک کے منصوبے سے آگاہ ہیں اور جلد چینی سفیر سے اس کے حوالے سے حالیہ تفصیلات جاننے کے لیے ملاقات بھی کریں گے۔

’افغانستان کے لیے دوستی اور نئے دور کا پیغام‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہم ایک دوسرے کی ضرورت ہیں: شاہ محمود قریشی کا اشرف غنی کو پیغام

نو منتخب وزیر خارجہ نے دورۂ افغانستان کی خواہش کا اظہار کیا۔

’میں افغانستان کے لوگوں کے لیے ٹھوس پیغام لے کر جانا چاہتا ہوں۔ ہمارا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ ہم ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ ہم نے ماضی کی روش سے ہٹ کر ایک نئے سفر کا آغاز کرنا ہے۔ اپنا پختہ ادارہ اور سوچ وہاں کی قیادت کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ایک دوسرے کی مشکلات کو نہ صرف سمجھنا ہے بلکہ ان کا حل تلاش کرنا ہے۔‘

انھوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت کی موجودہ کوششوں کی بھی تعریف کی۔

اسی بارے میں