عمران خان: مذاکرات سے تنازعات کا حل اور باہمی تجارت برصغیر کے عوام کی زندگیوں میں بہتری کا آسان نسخہ

عمران خان اور سدھو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں جو لوگ سدھو کے خلاف تلواریں سونتے ہوئے ہیں وہ حقیقت میں برصغیر کے امن پر حملہ آور ہیں

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مستقبل کی جانب پیش قدمی کے لیے انڈیا اور پاکستان کو مذاکرات کرنا ہوں گے اور کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کا حل نکالنا ہو گا۔

انھوں نے یہ بات منگل کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہی۔

یہ بھی پڑھیے

اگر دعوت نامہ آتا تو مودی کیا کرتے؟

’پاکستان کی خارجہ پالیسی دفتر خارجہ ہی میں بنے گی‘

’جنرل باجوہ صرف ایک لائن میں مجھے اتنا کچھ دے گئے‘

عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’غربت مٹانے اور برصغیر کے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کا آسان ترین نسخہ ہے کہ بات چیت کے ذریعے تنازعات حل کیے جائیں اور باہمی تجارت کا آغاز کیا جائے۔‘

عمران خان نے الیکشن جیتنے کے بعد اپنی وکٹری سپیچ میں بھی کہا تھا کہ باہمی رشتوں میں بہتری کے لیے انڈیا اگر ایک قدم آگے بڑھائے گا تو وہ دو قدم آگے بڑھائیں گے۔

منگل کو پاکستانی وزیراعظم نے اپنی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے پاکستان آنے والے انڈین کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو انڈیا واپسی پر تنقید اور دھمکیوں کا نشانہ بنائے جانے پر بھی ردعمل دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان آنے پر سدھو کے مشکور ہیں۔ ’وہ امن کا پیامبر بن کرآیا جسے پاکستانی عوام نے بےپناہ محبت اور پیار دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ @ImranKhanPTI

عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’بھارت میں جو لوگ سدھو کے خلاف تلواریں سونتے ہوئے ہیں وہ حقیقت میں برصغیر کے امن پر حملہ آور ہیں جس کے بغیر ہمارے لوگوں کی ترقی ممکن نہیں۔‘

خیال رہے کہ وزیراعظم کی تقریبِ حلف برداری میں سدھو نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے معانقہ بھی کیا جس پر انھیں انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے انھیں ایک خط بھی تحریر کیا ہے اور پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس میں انھوں نے مذاکرات کے حوالے سے مثبت تاثر دیا ہے۔

پیر کو وزیرِ خارجہ کا حلف اٹھانے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں شاہ محمود قریشی نے بھی کہا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کو مسلسل اور بغیر کسی رکاوٹ کے بات چیت کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ @ImranKhanPTI

وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ انڈیا کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان ’نہ صرف ہمسائے ہیں بلکہ ہم دو ایٹمی قوتیں ہیں۔ ہمارے درمیان دیرنیہ مسائل ہیں اس سے آپ بھی واقف ہیں اور میں وبھی واقفیت رکھتا ہوں۔ ہمارے پاس گفتگو کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔'

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان اور انڈیا دونوں کسی مہم جوئی کے متحمل ہی نہیں ہو سکتے اور مشکلات کو جانتے ہوئے اور یہ جانتے ہوئے کہ مسئلے پیچیدہ ہیں، بات کرنا ہو گی۔ یہ دونوں ملک روٹھ کر ایک دوسرے سے منہ نہیں موڑ سکتے۔

کشمیر کے بارے میں نو منتخب وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ 'ہم چاہیں یا نہ چاہیں، کشمیر ایک مسئلہ ہے جس کا دونوں ملکوں نے اعتراف کیا ہوا ہے۔۔۔ واجپئی یہاں آئے، انھوں نے پاکستان کی حقیقت کو تسلیم کیا تھا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں