عمران کی کابینہ میں تبدیلی کا عنصر ناپید

  • فراز ہاشمی
  • بی بی سی اردو سروس لندن
عمران خان

،تصویر کا ذریعہAnadoula

،تصویر کا کیپشن

عمران خان کی کابینہ زیادہ پرانے چہرے ہیں

تبدیلی کے نعرے کے ساتھ وجود میں آنے والی تحریک انصاف کی حکومت میں 16 وزرا اور پانچ مشیروں پر مشتمل کابینہ نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

اس کابینہ پر اگر نظر ڈالی جائے تو اس میں مشکل سے چند ہی چہرے ایسے نظر آتے ہیں جن کو پاکستانی عوام ماضی میں بننے والی سیاسی اور فوجی حکومتوں میں نہ دیکھ چکے ہوں۔

تبدیلی کا عنصر کابینہ کی حد تک تو نہ ہونے کے برابر ہے اور اس میں تحریک انصاف کے اصل، نظریاتی کارکنوں کو بھی خاطر خواہ نمائندگی نہیں ملی سکی۔

مزید پڑھیے

البتہ حکومت سازی کے لیے سیاسی مصلحت پسندی کا عنصر اس کابینہ کی تشکیل پر حاوی نظر آتا ہے۔ ماضی میں بھی اکثر جمہوری حکومتیں ایسی مصلحتوں کا شکار ہو کر اتحادی جماعتوں یا سیاسی گروہوں کی سیاسی بلیک میلنگ کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔

اسد عمر

کابینہ کا سب سے اہم اور سب سے زیادہ مشکل قلمدان تحریک انصاف کے نظریاتی رکن اسد عمر کے حصے میں آیا ہے۔ عمران کی کابینہ میں اسد عمر کا شمار ان دو یا تین ارکان میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز تحریک انصاف سے کیا اور اب تک اس سے ہی وابستہ ہیں۔

اسد عمر دو مرتبہ اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔

اسد عمر جنرل ریٹائرڈ غلام عمر کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں اور سیاست میں قدم رکھنے سے قبل وہ اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکل کمپنی کے سربراہ تھے۔

شاہ محمود قریشی

کابینہ کا دوسرا اہم قلمدان وزارت خارجہ کا ہے جس کو عمران خان نے اس وزارت کا تجریہ رکھنے والے منجھے ہوئے سیاست دان شاہ محمود قریشی کوسونپا ہے۔

ملتان کے ایک اہم مذہبی خاندان سے تعلق رکھنے والے مخدوم شاہ محمود قریشی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی اور اس سے قبل مسلم لیگ میں رہ چکے ہیں۔ ان کے والد مخدوم سجاد حسین قریشی ضیا دور میں پنجاب کے گورنر تھے۔

پرویز خٹک

دفاع کا قلمدان اس نئی کابینہ میں خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے حصے میں آیا ہے۔ پرویز خٹک بھی سیاست میں نئے نہیں ہیں اور تحریک انصاف سے قبل وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں رہ چکے ہیں۔

تحریک انصاف کی حالیہ کامیابی کا ایک اہم عنصر خیبر پختونخوا میں پارٹی کی کارکردگی کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس کارکردگی کا سہرا بڑی حد تک پرویز خٹک کے سر ہی جاتا ہے اور شاید اسی بنا پر صوبے اور مرکز میں حکومت سازی میں ان کی رائے کو بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔

فواد چوہدری

اطلاعات و نشریات کا قلمدان فواد چوہدری کے حوالے کر دیا گیا۔ فواد چوہدری پنجاب کے ضلع جہلم سے کامیابی حاصل کر کے پہلی مرتبہ قومی اسمبلی میں پہنچنے ہیں۔ انھوں نے اپنا سیاسی سفر سنہ دو ہزار دو میں آزاد حیثیت میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لے کر کیا تھا۔ ان انتخابات میں وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے تھے جس کے بعد انھوں نے سنہ دو ہزار دس میں آل پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ لیکن جلد ہی اس جماعت کو چھوڑ کر وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔

بیرسٹر فروغ نسیم

وزارت انصاف اور قانون کی اہم وزارت کراچی سے متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر بیرسٹر فروغ نسیم کے حوالے کیا گیا ہے۔ بیرسٹر فروغ نسیم سندہ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ایم بی احمد کے صاحبزادے ہیں۔ انھوں نے برطانیہ کی مشہور درس گاہ لندن سکول آف اکنامکس سے ایل ایل ایم اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری یونیورسٹی آف لندن سے حاصل کی۔

شیخ رشید

شیخ رشید عمران خان کی کابینہ میں سب سے جانا پہچانا چہرہ ہیں۔ راولپنڈی شہر سے تحریک انصاف کی مدد سے قلم دوات کے نشان پر الیکشن جیتنے کے بعد انھیں کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔

شیخ رشید کو ریلوے کی وزارت دی گئی ہے جسے چلانے کا انھیں ماضی میں بھی تجربہ ہے۔ شیخ رشید سنہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں پہلی مرتبہ کامیابی حاصل کر کے قومی اسمبلی میں پہنچے تھے۔ 1985 کے ہی غیر جماعتی انتخابات میں اس فرزندے راولپنڈی نے صوبائی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا تھا جس میں انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے ناقدین کے مطابق اتنے طویل سیاسی سفر کے بعد بھی وہ آزاد حیثیت میں کسی سیاسی جماعت کی بیساکھیوں کے بغیر انتخاب میں راولپنڈی کے عوام کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتے۔

وہ اپنے آبائی حلقے سے ایک مرتبہ کونسلر کا الیکشن بھی ہار چکے ہیں۔ راولپنڈی کے ہی قومی اسمبلی کے حلقے سے انھیں مسلم لیگ نواز کے ایک نوجوان کارکن شکیل اعوان بھی دھول چٹا چکے ہیں۔

زبیدہ جلال

بلوچستان کے دورافتادہ علاقے چاغی سے تعلق رکھنے والی معلمہ زبیدہ جلال کو عمران خان نے دفاعی پیداوار کی وزارت دی ہے۔ زبیدہ جلال سنہ دو ہزار دو میں اس وقت ملک کے سیاسی منظر پر نمودار ہوئی تھیں جب انھیں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کی کابینہ میں وزیر تعلیم بنایا تھا۔ اس مرتبہ وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کر کے ایوان میں پہنچی ہیں۔

فہمیدہ مرزا

پیپلز پارٹی کی حکومت میں سپیکر کے اہم عہدے پر فائز رہنے والی فہمیدہ مرزا تحریک انصاف کی حمایت کرنے والے اتحاد گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی رکن ہیں۔ انھیں صوبائی رابطے کی وزارت دی گئی ہے۔ فہمیدہ مرزا پاکستان پیپلز پارٹی سے اختلاف کے بعد عام انتخابات سے کچھ ماہ قبل پارٹی سے علیحدہ ہو گئی تھیں۔

ڈاکٹر شیریں مزاری

تحریک انصاف کے ٹکٹ پر خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری حکمران جماعت کی سینیئر رکن ہیں۔ وہ عمران خان کی کابینہ میں انسانی حقوق کی وزارت سنبھالیں گی۔ پاکستان جہاں گمشدہ افراد اور بچوں کے ساتھ زیادتی جیسے جرائم ایک چینلج بن گئے ہیں وہاں انسانی حقوق کی وزارت خاصی اہمیت کی حامل ہے اور وزارت کا تجربہ نہ رکھنے والی شیرین مزاری کا کام آسان نہیں ہو گا۔

شفقت محمود

شفقت محمود کو بھی سیاسیت کی صحرا نوردی میں کئی دہائیاں بیت گئی ہیں۔ وہ بھی گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکے ہیں۔ انھوں نے اپنے تجربے اور مسلم لیگ ن کے گڑھ لاہور سے دو مرتبہ انتخابی میدان مار کر تحریک انصاف میں اپنی جگہ اور مقام بنا لیا ہے۔ انھیں عمران خان نے تعلیم اور قومی ورثے کی وزارت سونپی ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم کی وزارت صوبوں کو منتقل ہوگئی ہے لیکن عمران خان نے جس طرح سے ملک میں تعلیم کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے اس کے تناظر میں تعلیم کی وزارت بھی تحریک انصاف کی حکومت میں مرکز نگاہ رہے گی۔

خالد مقبول صدیقی

خالد مقبول صدیقی کے حصہ میں مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت آئی ہے۔ وہ بھی متحدہ قومی موومنٹ کے رکن ہیں اور کراچی سے منتخب ہو کر قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں۔ وہ اس سے قبل بھی رکنِ قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔

دیگر وزرا

عامر محمود کیانی تحریک انصاف کے ٹکٹ پر راولپنڈی سے پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ انھیں وزیر صحت بنایا گیا ہے۔ صحت کا شعبہ بھی عمران خان کی ترجیحات میں شامل ہے۔

چوہدری طارق بشیر چیمہ کو ریاستی امور اور شمالی علاقہ جات کی وزارت دی گئی ہے۔ طارق بشیر چیمہ بھی تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر جنوبی پنجاب کے علاقے بھاولپور سے جیت کر آئے ہیں۔

نور الحق قادری عمران کی کابینہ میں وزیر مذہبی امور ہوں گے۔ وہ سنہ دو ہزار دو اور سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔ اس مرتبہ وہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی میں آئے ہیں۔

غلام سرور چیمہ کو پیٹرولیم کا وزیر بنایا گیا ہے۔ غلام سرور ماضی میں متعدد مرتبہ انتخابی معرکوں میں ٹیکسلہ سے اپنے روایتی حریف چوہدری نثار علی خان کو شکست سے دوچار کرتے رہے ہیں۔ اس مرتبہ انھوں نے چوہدری نثار کو ان کے اپنے سیاسی گڑ سے بھی پچھاڑ دیا۔

مخدوم خسرو بختیار کو پانی کی اہم وزارت سونپی گئی ہے۔ مخدوم خسرو جنوبی پنجاب سے منتخب ہوئے ہیں۔ ماضی میں وہ مسلم ن اور اس کے بعد مسلم ق میں رہ چکے ہیں۔ وہ وزیر مملکت برائے خارجہ امور بھی رہ چکے ہیں۔