پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی عہدے سے مستعفی، احسان مانی نئے چیئرمین نامزد

نجم سیٹھی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نجم سیٹھی نے اپنے استعفی کا اعلان ایک ٹویٹ کے ذریعے کیا

پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی اور پاکستان سپر لیگ شروع کرا کے پاکستانی کرکٹ میں نئی روح پھونکنے والے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے پیر کو اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹ کے ذریعے احسان مانی کو نئے چئیرمین کی حیثیت سے نامزد کر دیا ہے۔

نجم سیٹھی نے وزیراعظم عمران خان کو بھیجے گئے استعفے کے عکس کے ساتھ ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس بات کا انتظار کررہے تھے کہ نئے وزیراعظم اپنے عہدے کا حلف لیں تاکہ وہ اپنا استعفیٰ پیش کرسکیں۔

نجم سیٹھی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے اور عید مبارک اور پاکستان زندہ باد پر ٹویٹ کا اختتام کیا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

کیا نجم سیٹھی کا جانا طے ہو چکا ہے ؟

نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب

نجم سیٹھی کی ٹویٹ کے کچھ دیر بعد وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ٹویٹ کے ذریعے اعلان کیا کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سابق صدر احسان مانی کو پی سی بی کا چئیرمین نامزد کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کے تحت ملک کا وزیراعظم بورڈ کا پیٹرن انچیف ہوتا ہے اور پی سی بی کے آئین مطابق وزیراعظم اپنے دو نمائندے بورڈ آف گورنرز میں نامزد کرسکتا ہیں جس کے بعد وہ دس ارکان بورڈ کے نئے چئیرمین کا باضابطہ طور پر انتخاب کریں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا بورڈ آف گونرز اسوقت دس نمائندوں پر مشتمل ہے جن میں چار اداروں کے اور چار ریجنز کے نمائندے ہیں جبکہ دو نمائندے حکومت کے ہوتے ہیں جن کے نام وزیراعظم کی طرف سے دیے جاتے ہیں جن میں سے ایک چییرمین منتخب ہوتا ہے۔

احسان مانی کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ ICC
Image caption احسان مانی ماضی میں آئی سی سی کے بھی صدر رہ چکے ہیں

73سالہ احسان مانی بین الاقوامی کرکٹ کی جانی پہچانی شخصیت ہیں۔

وہ ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں جنہوں نے کافی عرصے تک انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی ) میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ وہ 1996میں آئی سی سی کی فنانس اور مارکیٹنگ کمیٹی کے چیرمین بنے ۔ 2002 ء میں وہ آئی سی سی کے ایگزیکٹیو بورڈ کے نائب صدر بنے۔

وہ جون 2003 میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی ) کے صدر بنے اور تین سال تک یہ ذمہ داری نبھائی۔

احسان مانی نے چار سال پہلے آئی سی سی میں بننے والے بگ تھری کی سخت مخالفت کی تھی اور اسے تین ملکوں کے کرکٹ بورڈ کی اجارہ داری سے تعبیر کیا تھا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ نجم سیٹھی اس بگ تھری کے حامی تھے۔

احسان مانی اور عمران خان کی دوستی بڑی پرانی ہے۔ احسان مانی شوکت خانم کینسر ہسپتال کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی شامل ہیں ۔ وہ ان دنوں خیبر پختونخوا میں گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے گلیات میں شجرکاری اور سیاحت کے منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔

عمران خان اور نجم سیٹھی کے اختلافات

حالیہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد یہ بات طے ہوگئی تھی کہ عمران خان اور نجم سیٹھی کا ساتھ چلنا ممکن نہیں ہوگا۔

اس کا ایک بڑا سبب عمران خان اور نجم سیٹھی کے درمیان شدید اختلافات ہیں جو سال 2013 کے عام انتخابات کے موقع پر شروع ہوئے تھے جب نجم سیٹھی پنجاب کے نگراں وزیراعلی تھے اور عمران خان نے ان پر مبینہ طور پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے لیے 35 پنکچر کی اصطلاح استعمال کی تھی۔

جواباً نجم سیٹھی نے عمران خان کے خلاف ہرجانے کا دعوی دائر کیا تھا اور یہ مقدمہ اب بھی زیرسماعت ہے۔

حالیہ انتخابات کے بعد نجم سیٹھی نے اپنے اخباری اداریوں اور ٹوئٹر پیغامات میں عمران خان پر کھل کر تنقید کرتے آئے ہیں جبکہ دوسری جانب عمران خان کے قریبی ساتھی نجم سیٹھی کو مستعفی ہونے کا مشورہ دے رہے تھے۔

گذشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی شکست کے بعد چوہدری ذکا اشرف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین کے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا تھا اور نواز شریف کے قریبی خیال کیے جانے والے نجم سیٹھی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔

لیکن ذکا اشرف نے اپنی برطرفی کو عدالت میں چیلنج کیا اور یہ معاملہ کافی عرصے تک عدالت میں زیرسماعت رہا جس کا ڈراپ سین یہ نکلا کہ نجم سیٹھی نےعدالت میں یہ حلف نامہ داخل کرایا کہ وہ اب چئیرمین کے انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نجم سیٹھی کے کریڈٹ پر سب سے اہم بات پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی اور پاکستان سپر لیگ کا آغاز ہے

اس تمام تر صورتحال میں شہریارخان کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا چئیرمین بنوایا گیا اور نجم سیٹھی نے اپنے لیے ایگزیکٹیو کمیٹی کے چئیرمین کا نیا لیکن زیادہ بااختیار عہدہ حاصل کرلیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیرمین بننے سے پہلے نجم سیٹھی نے اپنا نام آئی سی سی کے صدر کے عہدے کے لیے بھی پیش کردیا تھا لیکن بعدازاں وہ واپس لے لیا۔

نجم سیٹھی اور شہریارخان کے درمیان متعدد معاملات پر اختلافات بھی رہے تاہم بورڈ کے تمام اہم فیصلے نجم سیٹھی ہی کرتے رہے۔

شہریارخان کے جانے کے بعد نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین بن گئے۔

نجم سیٹھی کے کریڈٹ پر سب سے اہم بات پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی اور پاکستان سپر لیگ کا آغاز ہے تاہم ان کے مخالفین ان پر ہمیشہ سے یہ اعتراض کرتے آئے ہیں کہ وہ پاکستان سپر لیگ کا مکمل آڈٹ کرانے میں ناکام رہے ہیں۔

نجم سیٹھی پر بورڈ کے سوشل میڈیا اور مارکیٹنگ کے شعبوں میں نئی تقرریوں اور اپنی پسند کے لوگوں کو نوازنے کے الزامات بھی ان کے مخالفین کی طرف سے سامنے آتے رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں