شاہ محمود قریشی: ’کلبھوشن یادیو کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور امید ہے کہ ہم یہ مقدمہ جیت لیں گے‘

شاہ محمود قریشی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود کہا کہ ’قوم تیار رہے کیونکہ ہمیں کچھ تلخ فیصلے کرنے پڑیں گے‘

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امید ظاہر کی کہ پاکستان انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمہ جیت لے گا۔

ملتان میں جمعرات کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارے پاس انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور امید ہے کہ ہم یہ مقدمہ جیت لیں گے۔

وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا ’ہم پوری کوشش کریں گے کہ عالمی عدالتِ انصاف کے سامنے اپنا موقف بھر پور طریقے سے پیش کریں‘۔

شاہ محمود قریشی کا یہ بیان عالمی عدالتِ انصاف کی جانب سے کلبھوشن یادیو کے مقدمے کی سماعت فروری سنہ 2019 میں کرنے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

وزیر خارجہ نے مزید کہا ’ہم وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ قوم تیار رہے کیونکہ ہمیں کچھ تلخ فیصلے کرنے پڑیں گے‘۔

کلبھوشن یادیو کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن

کلبھوشن یادیو نے ایک ویڈیو بیان میں اتعراف کیا تھا کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس ملاز ہیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پاکستان کے خفیہ اداروں نے انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو کو تین مارچ سنہ 2016 کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے گرفتار کیا تھا۔

پاکستانی فوج نے گرفتار ہونے والے انڈین جاسوس کا ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا جس میں کلبھوشن یادو نامی شخص نے اعتراف کیا تھا کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور وہ انڈیا کی ایجنسی را کے لیے کام کر رہے تھے۔

ویڈیو کے آغاز میں ہی انڈیا کے مبینہ جاسوس کلبھوشن یادیو نے بتایا کہ انھوں نے 1991 میں انڈین بحریہ میں شمولیت اختیار کی۔

چھ منٹ کے دورانیے پر مشتمل ویڈیو میں کلبھوشن یادیو نے بتایا کہ انھوں نے سنہ 2013 میں را کے لیے کام شروع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کراچی اور بلوچستان میں را کی جانب سے بہت سی کارروائیاں کرتے آئے ہیں اور وہاں کے حالات کو خراب کرتے رہے۔

انھوں نے بتایا کہ تین مارچ سنہ 2016 کو پاکستانی حکام نے انھیں اس وقت گرفتار کیا جب وہ ایران سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا مقصد پاکستان میں داخل ہو کر بی ایس این (بلوچ سب نیشنلسٹس) کے اہلکاروں سے ملاقات کرنی تھی جو آنے والے دنوں میں بلوچستان میں کوئی کارروائی کرنا چاہتے تھے۔