کل جماعتی کانفرنس میں مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر اصولی اتفاق، ’باضابطہ اعلان آج متوقع ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر اتفاق کیا ہے۔

سنیچر کو پنجاب کے شہر مری میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے بعد ن لیگ کے سینیئر رہنما احسن اقبال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس مری میں نواز شریف کی رہائش گاہ پر منعقد کی گئی تھی جس میں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل، نیشنل پارٹی (این پی) اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے وفود نے شرکت کی۔

احسن اقبال نے کہا کہ اجلاس میں مشترکہ صدارتی امیدوار لانے کے حوالے سے قابل عمل تجاویز زیر غور آئیں جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے اپنی لیڈرشپ سے مشورہ کرنے کے لیے رات تک کا وقت لیا ہے۔

’باقی اپوزیشن کی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ تمام اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سے کل (اتوار) باضابطہ طور پر الائنس کے مشترکہ امیدوار کا اعلان کر دیں۔‘

پیپلز پارٹی کا مشاورتی اجلاس سنیچر کو رات گئے تک جاری رہا جس کے بعد پارٹی کے ایک وفد نے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور ان کو پارٹی کے موقف کے بارے میں آگاہ کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے مقامی میڈیا میں ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کا پیغام مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کو پہنچائیں گے تاکہ مشاروت کر کے اتفاق رائے سے مشترکہ صدارتی امیدوار لایا جا سکے۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع نے سنیچر کی رات گئے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت مختلف رہنماؤں سے مشاورت اور سنجیدہ بات چیت جاری ہے۔

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ڈاکٹر عارف علوی کو صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن کو صدارتی امیدوار نامزد کیا۔

تاہم پاکستان مسلم لیگ ن کو اعتزاز احسن کے نام پر تحفظات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں!

’ٹیکس دیں، آپ کے پیسوں کی حفاظت میں خود کروں گا‘

نواز شریف، مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی منظوری

انتخابات میں جیپ چلی نہ شیر دھاڑا

واضح رہے کہ صدرِ مملکت ممنون حسین کے عہدے کی میعاد آٹھ ستمبر کو ختم ہو رہی ہے، جبکہ ملک کے نئے صدر کے لیے چار ستمبر کو انتخاب ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسلم لیگ ن کو اعتزاز احسن کے نام پر تحفظات ہیں

احسن اقبال سے جب پوچھا گیا کہ کیا پیپلز پارٹی نے آج بھی اعتزاز احسن کا نام ہی تجویز کیا ہے تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ’آج( سنیچر) کی رات تک مشترکہ اپوزیشن کے امیدوار سامنے لانے کے حوالے سے ہوم ورک مکمل ہو جائے اور کل باضابطہ طور پر مشترکہ امیدوار کے نام کا اعلان کر دیا جائے گا۔‘

احسن اقبال نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے حوالے سے کہا کہ الیکشن کمیشن اس معاملے میں انتہائی عجلت کا مظاہرہ کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کل جماعتی کانفرنس نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی الیکشن میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

’انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین بھی الیکشن کمیشن کے اس آن لائن سسٹم پر اپنے خدشات ظاہر کرچکے ہیں کہ اس سسٹم کے ملک اور بیرون ملک سے ہیک ہونے کا خطرہ موجود ہے۔‘

احسن اقبال نے مزید کہا کہ اجلاس میں اس پر خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا گیا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو دھمکی آمیز کالیں موصول ہورہی ہیں۔ ’عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار حسین کو بھی شدید نوعیت کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔‘

انھوں نے حکومت سے مطابہ کیا کہ ان دھمکیوں کا فوری نوٹس لے اور اپوزیشن رہنماؤں کی سکیورٹی کا بندوبست کرے۔

اسی بارے میں