صدارتی انتخاب: ’ن لیگ کو دیکھنا ہو گا کہ عمران کا امیدوار سوٹ کرتا ہے یا اعتزاز احسن‘

اعتزاز تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں صدر کے عہدے کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف کے عارف علوی کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیے ہیں تاہم پیپلز پارٹی کے علاوہ مسلم لیگ ن سمیت دیگر جماعتوں نے مولانا فضل الرحمن کو امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اپوزیشن کی بڑی جماعتوں میں اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے پی ٹی آئی کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کروانے والے عارف علوی کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے بعد پیپلز پارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما ’پرویز رشید کا بطور امیدوار مجھ پر اعتراض ان کی انفرادی رائے ہے یہ ان کی جماعت کی رائے نہیں ہے۔ ‘

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ میرے نام پر پارٹی کے اندر اتفاق رائے ہوا تھا تاہم ابھی مجھے باقاعدہ نامزد نہیں کیا گیا تھا لیکن میڈیا میں یہ بات بطور خبر چلا دیی گئی۔

ان کے بقول پرویز رشید کا اعتراض کرنے کا انداز جاگیردارانہ تھا۔ انھوں نے کہا ’میں توقع ہی نہیں کرتا تھا کہ پرویز رشید ایسا اعتراض کریں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اگر اپوزیشن کے دو امیدوار ہوئے تو یقیناً پی ٹی آئی کو فائدہ ہو گا۔۔۔۔ وہ سینیٹرز ایم این اے اور ایم پی اے جو مسلم لیگ ن کے ساتھ کڑے وقت میں کھڑے ہیں میں ان کی عزت کرتا ہوں۔ آپ نے دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کا امیدوار سوٹ کرتا ہے یا پیپلز پارٹی کا اعتزاز احسن۔‘

مزید پڑھیے

’اپوزیشن کا مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر اتفاق‘

مسلم لیگ ن کے امیدوار مولانا فضل الرحمن

مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی سے مشترکہ صدارتی امیدوار پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن کو نامزد کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیال ہے مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی سے مشترکہ صدارتی امیدوار پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن کو نامزد کیا ہے

مسلم لیگ ن کے امیدوار احسن اقبال کا کہنا تھا ’ہم نے پیپلز پارٹی سے کہا تھا کہ تین نام دیں جس سے سے کوئی ایک پر اتفاق کر لیں گے۔ ‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ن لیگ حزبِ مخالف کی سب سے بڑی جماعت ہے ہمارے پاس تمام جماعتوں سے زیادہ ووٹ ہیں۔ ہم نے پاکستان کے لیے قربانی دیتے ہوئے کہا کہ کسی ایک غیر متنازع شخصیت کو نامزد کریں ہم اس پر اتفاق کریں گے۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لیے بغیر اعتزاز احسن کو نامزد کر دیا گیا۔ ‘

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن نے ان کی پارٹی اور خصوصاً کلثوم نواز کی بیماری کو بھی سیاست کا نشانہ بنایا جس سے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے جذبات مجروح ہوئے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا ’ہم نے کل رات بھی پیپلز پارٹی سے درخواست کی کہ آپ کے پاس بے شمار ایسے قائدین ہے جس پر ہمیں اعتراض نہیں ہو سکتا لیکن پارٹی کی قیادت بضد رہی کہ وہ اعتزاز احسن کے علاوہ کسی کا نام نہیں دیں گے۔ ‘

جس کے بعد مسلم لیگ ن سمیت حزبِ مخالف نے مولانا فضل الرحمن کو صدارتی امیدوار نامزد کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption عارف علوی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی صدارتی انتخابات میں ان کی جماعت کے پاس اکثریتی حمایت موجود ہے

تاہم حزبِ مخالف کا اتحاد دوبارہ جائے گا اور انہیں مولانا فضل الرحمن کے لیے قائل کریں گے جن کی زرداری صاحب بھی عزت کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کے بینر تلے انتخابات میں حصل لیا لیکن انھیں ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقہ این اے 38 اور 39 سے تحریک انصاف کے رہنماؤں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس مری میں نواز شریف کی رہائش گاہ پر منعقد کی گئی تھی جس میں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل، نیشنل پارٹی (این پی) اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے وفود نے شرکت کی تھی۔

اسی بارے میں