پنجاب کی صوبائی کابینہ میں پرانے کون ہیں اور نیا کیا ہے؟

پنجاب، پی ٹی آئی تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption وفاق میں حکومت کی تشکیل کے بعد تحریک انصاف کی صوبائی کابینہ کے اراکین نے کا حلف لے لیا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی نئی کابینہ کے اراکین کی حلف برداری ہو گئی ہے لیکن اس نئی صوبائی حکومت کی کابینہ کی تعداد اور اس میں موجود چہرے گذشتہ ادوار کے مقابلے میں زیادہ مختلف نہیں، تاہم اس کی ہیت میں چند تبدیلیاں ضرور آئی ہیں۔

پنجاب کی کابینہ پر دارالخلافہ لاہور کے چھاپ بدستور قائم ہے تاہم وسطی پنجاب کے ساتھ ساتھ اس مرتبہ جنوبی پنجاب کو بھی قابلِ ذکر نمائندگی دی گئی ہے۔

نئے آنے والے نوجوان چند انتہائی اہم شعبوں کو دیکھیں گے مگر محض ایک خاتون کابینہ کا حصہ ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی کابینہ میں مجموعی طور بحیثیتِ حکومتی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی شکل کم دکھائی دیتی ہے۔

مشرف دور کے تجربہ کار

نئی آنے والی کابینہ میں سات سے آٹھ وہ وزرا شامل ہیں جو سنہ 2002 سے سنہ 2007 تک سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں اس وقت کے وزیرِ اعلٰی پنجاب چوہری پرویز الٰہی کی کابینہ کا حصہ یا اسمبلی کے ممبر رہ چکے ہیں۔

ق لیگ کے رہنما پرویز الٰہی حالیہ صوبائی اسمبلی کے سپیکر ہیں جنہوں نے قائم مقام گورنر کی حیثیت میں نئی کابینہ سے حلف لیا ہے۔

ق لیگ کے دور کے وزرا میں جو نام سب سے نمایاں ہے وہ ضلع راولپنڈی سے راجہ بشارت کا ہے۔ قانون اور پارلیمانی امور کا قلمدان رکھنے والے راجہ بشارت اس سے قبل سابقہ وزرائے اعلیٰ شہباز شریف اور چوہدری پرویز الٰہی دونوں کی کابینہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔

انھوں نے رواں برس انتخابات سے چند روز قبل ہی پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان کے علاوہ چوہدری پرویز الٰہی دور کی کابینہ کا حصہ رہنے والوں میں لاہور سے علیم خان، میاں اسلم اقبال، راجن پور سے حسنین بہادر دریشک، فیصل آباد سے چوہدری ظہیرالدین اور میانوالی سے سبطین خان شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption پنجاب کی کابینہ میں ڈاکٹر یاسمین راشد واحد خاتون وزیر ہیں

’علیم خان ہی پی ٹی آئی کا چہرہ ہیں‘

صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق اگر اس کابینہ کے نام سنے جائیں اور ’اس میں اگر عبدالعلیم خان کا نام نہ ہو تو یہ شاید پاکستان تحریکِ انصاف کی کابینہ نہ لگے۔‘

علیم خان کو بلدیات یعنی لوکل گورنمنٹ اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کا قلمدان سونپنے کے ساتھ سینیئر وزیر بنایا گیا ہے۔ سہیل وڑائچ کے خیال میں ان کو یہ بڑی ذمہ داری سونپنے کی وجہ یہ ہے کہ ’عمران خان چاہیں گے کہ صوبہ پنجاب میں وہ بلدیاتی تجربہ ضرور کریں کیونکہ پاکستان مسلم لیگ ن جو پنجاب میں انتہائی مضبوط تصور کی جاتی ہے، اس کی بنیاد ہی بلدیاتی قیادت ہے۔‘

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریکِ انصاف یہ جانتی ہے کہ ’جس راستے سے یہ جماعت بنی تھی اسی راستے سے اس کا مقابلہ کیا جائے۔‘

علیم خان دوسری مرتبہ صوبائی اسمبلی کے ممبر کے طور پر منتخب ہوئے ہیں۔ پہلی مرتبہ سنہ 2002 میں وہ لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست ہارنے کے بعد ضمنی انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست جیتے تھے۔

انھیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا وزیر بنایا گیا تھا۔ حکومت ختم ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد انھوں نے پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کر لی اور وزیرِ اعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

صرف ایک خاتون، یاسمین راشد

پنجاب کی 23 رکنی کابینہ میں تاحال محض ایک خاتون شامل ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد تین مرتبہ پاکستان تحریکِ انصاف کے لیے لاہور میں ن لیگ کا گڑھ سمجھے جانے والے حلقہ سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑ چکی ہیں، تاہم تینوں مرتبہ سخت مقابلے کے بعد انھیں شکست ہوئی ہے۔

ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے نئی کابینہ میں انھیں صحت کی وزارت دی گئی ہے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد چونکہ ٹیکنو کریٹ بھی ہیں اس لیے انھیں خواتین کی نمائندگی کے لیے نہیں رکھنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک ایسی خاتون جو خواتین کے معاملات کو دیکھیں انہیں ضرور کابینہ میں شامل کرنا چاہیے۔‘

Image caption پنجاب میں دس سال کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہوئی ہے۔

لاہور کی حکمرانی

جہاں پنجاب کی نئی کابینہ میں جنوبی پنجاب کے نمائندگی پہلے سے زیادہ نظر آتی ہے وہیں اس پر لاہور کی چھاپ بدستور واضح ہے۔

جنوبی پنجاب کے علاقوں راجن پور، رحیم یار خان اور جھنگ سے تعلق رکھنے والے پانچ وزرا کابینہ میں شامل ہیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق جنوبی پنجاب ایک پسماندہ علاقہ ہے اور یہ اچھی بات ہے اگر اس کو زیادہ نمائندگی دی گئی ہے۔‘

دوسری جانب ایک ہی شہر یعنی دارالخلافہ لاہور سے پانچ وزرا کابینہ میں شامل ہیں۔

ان میں پاکستان تحریکِ انصاف کے پرانے رفیق اور سابقہ پنجاب اسمبلی کے قائدِ حزبِ اختلاف میاں محمود الرشید کے پاس ہاؤسنگ اور شہری ترقی کا شعبہ ہو گا۔

ڈاکٹر یاسمین راشد اور علیم خان کے علاوہ لاہور سے میاں اسلم اقبال کو صنعت اور سرمایہ کاری جبکہ سکولوں کی تعلیم کا شعبہ مراد راس کے پاس ہو گا۔

لاہور ہر بار ایک بڑا حصہ کیوں لے جاتا ہے؟

سہیل وڑائچ کے مطابق ہر سیاسی جماعت کے لیے پنجاب میں لاہور انتہائی اہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جو لوگ جیتے ہیں ان کو مضبوط کرنے کے لیے اور آگے چل کر ن لیگ کی جو اپوزیشن ہو گی اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف کو لاہور کی ضرورت ہو گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ق لیگ نے یہی غلطی کے تھی کہ وہ لاہور میں اپنا ووٹ بنک یا اپنے لیے نرم گوشہ قائم نہیں کر سکے تھے جس کا انھیں ہمیشہ نقصان ہوتا رہا۔

پہلا اقتدار اور روپے پیسے کا حساب کتاب

مخدوم ہاشم جواں بخت کو پنجاب کی وزارتِ خزانہ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ نوجوان ہاشم بخت کے لیے وزارت پہلا تجربہ ہے تاہم اس سے قبل وہ آزاد امیدوار کے طور پر سنہ 2013 کے انتخابات میں رحیم یار خان سے صوبائی اسمبلی کی نشست جیت چکے ہیں۔

بیرونِ ملک سے کامرس کی ڈگری رکھنے والے ہاشم بخت انتخابات سے قبل قائم ہونے والے اتحاد جنوبی صوبہ مخاذ کے سربراہ مخدوم خسرو بختیار کے چھوٹے بھائی ہیں۔

خسرو بختیار خود بھی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں۔ گذشتہ حکومت میں وہ ن لیگ کے ساتھ تھے تاہم اب پاکستان تحریکِ انصاف کا حصہ ہے۔

ان کے علاوہ نئے آنے والے نوجوان وزرا میں سرگودھا سے تعلق رکھنے والے افرادی قوت کے وزیر عنصر مجید نیازی اور چکوال سے اعلٰی تعلیم اور سیاحت کے شعبے کے وزیر یاسر ہمایوں بھی پنجاب کابینہ میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں