’پاکستان بحریہ کی جنگی مشق کے دوران حادثے کی تحقیقات شروع‘

سی کنگ ہیلی کاپٹر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستانی بحریہ کے ذرائع کے مطابق اس حادثے میں ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سمیت چار اہلکار ہلاک ہوئے

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستانی بحریہ کی جنگی مشق کے دوران پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات کے لیے بنائے جانے والے اعلیٰ سطح کے تحقیقاتی بورڈ نے کام شروع کر دیا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے اس حادثے میں بحریہ کے ایک اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اس بارے میں مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا۔

فوجی ترجمان کے مطابق اس واقعے کو فی الحال حادثے کے طور پر ہی لیا جا رہا ہے۔

تاہم بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ یہ حادثہ پاکستانی سمندری حدود میں جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب پاکستانی بحریہ کا ایک ’سی کنگ‘ ہیلی کاپٹر جنگی مشق کے دوران ’پی این ایس ذوالفقار‘ نامی جنگی بحری جہاز سے عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ایک مقامی ٹیلی وژن چینل کی ٹیم یہ منظر فلم بند بھی کر رہی تھی کہ اچانک ہیلی کاپٹر توازن کھونے کے بعد پی این ایس ذوالفقار سے جا ٹکرایا۔

پاکستانی بحریہ کے ذرائع کے مطابق اس حادثے میں ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سمیت چار اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ معاون پائلٹ سمیت تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

حادثے کے وقت ایک اور بحری جہاز ’پی این ایس ٹیپو‘ بھی حادثے کا شکار ہونے والے جنگی جہاز کے قریب موجود تھا۔

جنگی مشق کے وقت دونوں بحری جہاز زمین سے زمین اور زمین سے فضا تک مار کرنے والے میزائیلوں اور دیگر اسلحے سے لیس تھے۔ اس کے علاوہ دونوں بحری جہازوں پر ایندھن اور بہت سا اسلحہ بھی موجود تھا۔

پاکستانی بحریہ کی مشقوں میں شامل رہنے والے ایک ریٹائرڈ نیوی افسر نے حادثے کو سنگین نوعیت کا قرار دیتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ اس حادثے کی اعلیٰ ترین سطح پر تحقیقات ہونی چاہیے کیونکہ یہ نہ صرف انسانی زندگیوں بلکہ پاکستانی بحریہ کی ساکھ کا بھی معاملہ ہے۔

’یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں ہے۔ جنگی مشقوں کے دوران حادثات ناممکن نہیں ہوتے لیکن اس نوعیت کا حادثہ جس میں اتنی جانیں گئیں اس سے زیادہ سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا تھا کیونکہ بحری جنگی جہاز پر لائیو اسلحہ موجود تھا۔‘

خیال رہے کہ پی این ایس ذوالفقار وہی بحری جنگی جہاز ہے جس پر چار برس قبل شدت پسندوں نے حملہ کر کے اسے ’ہائی جیک‘ کرنے کی کوشش کی تھی۔

پاکستانی تفتیش کاروں کو بعد میں معلوم ہوا تھا کہ شدت پسند تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسند اس جنگی بحری جہاز پر کنٹرول حاصل کر کے اس کی مدد سے بحرِہند میں موجود امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں