چیف صاحب کی چپیڑ

چیف جسٹس ثاقب نثار تصویر کے کاپی رائٹ SUPREME COURT OF PAKISTAN
Image caption سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے نجی ہسپتال کے دورے پر سوشل میڈیا میں بہت بحث ہو رہی ہے

زندگی کی بارے میں یار لوگوں نے کچھ رومانوی سی باتیں بنا رکھی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ پہلا پیار کبھی نہیں بھولتا۔ کوئی کہتا ہے ریل کا پہلا سفر ساری عمر یاد رہتا ہے۔ کسی کو اپنے گاؤں میں دیکھا ہوا پہلا میلہ ہمیشہ یاد رہتا ہے تو کسی کو گرمیوں کی پہلی چھٹیوں کا مزہ بڑھاپے میں یاد آتا ہے۔ ہمیں بھی اس طرح کی چیزیں کبھی کبھی یاد آتی ہیں لیکن جو چیز کبھی نہیں بھولتی وہ زندگی میں پڑنے والا پہلا تھپڑ ہے اور تھپڑ مارنے اور کھانے کے بارے میں بچپن میں سنا ہوا ایک لطیفہ۔

زندگی کا پہلا تھپڑ اس ویک اینڈ پر اور شدت سے یاد آیا جب چیف جسٹس صاحب کراچی تشریف لائے اور ایک سماعت کے دوران بچپن میں مار کھانے کا واقعہ سنایا۔ پہلا خیال تو یہ آیا کہ ہم ارائیں بچوں پر بہت ظلم ہوا ہے لیکن پھر ذات پات سے اوپر ہو کر سوچا اور دل کو لگا کہ چیف صاحب جب بھی کسی ویک اینڈ پر کراچی آتے ہیں تو رونق لگ جاتی ہے۔

محمد حنیف کے دیگر کالم پڑھیے

دوستووسکی اور خلیفہ ہارون رشید

عمران خان کا سفر

’وزیراعظم عمران خان‘

نیا نیب، پرانا ہیرا

باجوہ ان کنٹرول

صحافیوں سے ذرا بچ کے

عام طور پر ہم کراچی والوں کو شکایت رہتی ہے کہ یا تو ہمیں دیوار سے لگایا جاتا ہے یا ہمیں فراموش کر دیا جاتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو دیوار سے لگا کر فراموش کر دیا جاتا ہے لیکن چیف صاحب کی نظرِ کرم پڑتی ہے تو ہمارا بور اور بوسیدہ سا کراچی تھوڑی دیر کے لیے چہکنے لگتا ہے۔

یہاں کب ایسے ہوتا ہے کہ کوئی ضیاالدین ہسپتال کے کمرے پر دستک دے اور کہے ہائے شرجیل (شرجیل میمن نے سوچا ہو گا، ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں) اور کہاں ایسا ہوتا ہے کہ صبح ہی صبح ہر چینل پر گرے گوز ووڈکا کی بوتلیں نظر آنے لگیں۔ کچھ کراچی والے اتنے ترسے ہوئے ہیں کہ ٹی وی پر مہنگی شراب کی بوتلیں دیکھ کر ہی سرور میں آ جاتے ہیں۔

شرجیل میمن کی اچھی طرح عیادت کرنے کے بعد چیف صاحب نے پی ٹی آئی کے اس ایم پی اے کو بلا لیا جس کی پہلے تھپڑ مارنے والی ویڈیو مشہور ہوئی پھر معافی والی ویڈیو، پھر تھپڑ کھا کر معاف کرنے والے کی بےبسی کی ویڈیو۔ کوئی معاملہ وائرل چل رہا ہو اور چیف صاحب کی نظر سے بچ جائے، ہو ہی نہیں سکتا۔

اس کیس کی سماعت کے دوران چیف صاحب نے اپنے بچپن کا واقعہ سنایا کہ انھوں نے اپنے ایک نوکر کو تھپڑ مارا تھا جس کے بعد ان کے والد نے پہلے نوکر سے کہا کہ اس کو مارو اور جب نوکر مار مار کر تھک گیا تو اس کے بعد والد صاحب نے خود مارا۔ دل کمزور ہے۔ بچوں کو مار پڑنے کے بارے میں پڑھ کر یا سن کر بھی دل تھوڑا سا لرز جاتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ اگر بچپن میں والد صاحب نے چھوٹے چیف صاحب کو وہ پھینٹی نہ لگائی ہوتی تو کیا وہ بڑے ہو کر اتنے دبنگ قاضی بن سکتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@IMRANALISHAH
Image caption عمران علی شاہ کو چیف جسٹس نے 30 لاکھ روپے ڈیم فنڈ میں جمع کروانے کا حکم دیا ہے

نہ صرف دبنگ بلکہ فیصلہ بھی ایسا جس سے سارے فریق مطمئن۔ پی ٹی آئی والے بھائی کی تھوڑی بےعزتی ہوئی لیکن سیٹ بچ گئی اور صرف 30 لاکھ جرمانہ دینا پڑا۔ جس کو تھپڑ پڑا تھا اس کی بھی تسلی ہو گئی اور قوم کا مستقبل بھی محفوظ ہو گیا یعنی ڈیم کے لیے ڈونیشن بھی مل گیا۔

یہ بھی پڑھیے

چیف جسٹس کا چھاپہ اور زرداری کا جملہ

'اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے'

جب چیف صاحب پچھلی مرتبہ کراچی آئے تھے تو اس سے بھی زیادہ دبنگ کام کر گئے تھے۔ مسنگ پرسنز کے خاندان والوں کو بلا لیا تھا۔ ان کا رونا پیٹا دیکھ کر کچھ پریشان ہوئے اور چیمبر میں چلے گئے۔ پھر دوبارہ عدالت لگی تو اپنے بیٹے کو برسوں سے ڈھونڈتی ایک ماں روسٹرم پر چڑھ دوڑی اور بےادبی کرنے لگی۔ آپ نے فرمایا اگر تو عورت نہ ہوتی تو ہتکِ عدالت میں جیل بھجوا دیتا۔ اس سے بھی ثابت ہوا کہ بچپن کی پٹائی سے نہ صرف انسان دبنگ ہو جاتا ہے بلکہ اس کا دل بھی گداز ہو جاتا ہے۔

اب بس اس دن کا انتظار ہے کہ چیف صاحب مسنگ پرسنز والے کسی تہہ خانے پر چھاپہ ماریں گے اور ہمارے اداروں کو سمجھائیں گے کہ قومی سلامتی کے مسائل کو بندے اٹھا کر، انھیں غائب کر کے اور انھیں چپیڑیں مار کر حل کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

چیف صاحب کی بچپن کی پٹائی کا سن کر اپنے بچپن کا تھپڑ حقیر سا لگا۔ وجہ یاد کرنے کی کوشش کی۔ گھر میں نوکر نہیں تھا بلکہ ہمارے گھروں میں تو بچوں کو ہی نوکر سمجھا جاتا تھا تو یقیناً کسی نوکر کو نہیں مارا تھا۔ نماز کا کہہ کر گلی میں گلّی ڈنڈا کھیلنے چلا گیا ہوں گا یا ہمسائی کے گھر لگی بیری پر وٹہ مارا ہو گا۔

اس پہلے تھپڑ کی گونج آج تک باقی ہے لیکن اس تھپڑ کو برداشت کرنے میں ایک لطیفے نے مدد دی جو بچوں کے رسالے نونہال میں پڑھا تھا۔ باپ بیٹے کی پٹائی کرنے لگتا ہے تو بیٹا کہتا ہے، ابو آپ مجھے کیوں مار رہے ہیں، باپ نے کہا کیونکہ میرا باپ بھی مجھے مارتا تھا۔ بیٹے نے پوچھا، ابو آپ کے والد آپ کو کیوں مارتے تھے، جواب ملا کیونکہ ان کے باپ ان کو مارا کرتے تھے۔ اس پر بیٹا بولا ابو کیا خیال ہے، اب ہمیں اپنے خاندان میں نسل در نسل ہونے والی اس بدمعاشی کو بند نہیں کر دینا چاہیے؟

اسی بارے میں