گستاخانہ خاکے: پاکستان وزیرخارجہ کا او آئی سی کے جنرل سیکریٹری کو خط

شاہ محمود قریشی

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے جنرل سیکریٹری کو ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر غور کرنے کے لیے فوری طرر پر تنظیم کے مستقل رکن ملکوں کا اجلاس طلب کرنے کا کہا ہے۔

منگل کو پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’پیغمبر اسلام کی بے حرمتی کی حرکات کو اگر نہ روکا گیا تو دنیا میں مذہہی انتہا پسندی بڑھنے کا خطرہ ہے‘۔

یاد رہے کہ سینیٹ نے گذشتہ روز نیدرلینڈز میں گستاخانہ خاکوں کا مقابلے کرنے کے معاملے پر ایک مذمتی قرار داد منظور کی تھی اور وزیر اعظم عمران خان نے تقریر کرتے ہوئے اس معاملے کو اقوام متحدہ اور او آئی سی میں اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ اگلے ماہ نیویارک میں ہونے والے اقوام محتدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی اس معاملے کو اٹھائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں اس طرح کے واقعات کے بعد او آئی سی نے خبردار کیا تھا کہ جن ملکوں میں اس طرح کی شر انگیزی کی جائے گی ان ملکوں سے تجارتی تعلقات منقطع کر لیے جائیں گے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین سے بھی وہ اس سلسلے میں بات کریں گے۔

پاکستان کی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اُن کے مطابق 32 ہزار ایسی ویب سائٹس کو بلاک کیا ہے جن پر توہین مذہب کا مواد موجود ہے۔

شاہ محمود قریشی نے اس ضمن میں آزادی اظہار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس آزادی کی بھی کچھ حدود و قیود متعین ہیں اور ان سے باہر نہیں جایا جا سکتا جس طرح یورپ میں یہودیوں کے ہولوکاسٹ کے خلاف بات کرنا قابل تعزیر جرم ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

خیال رہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی نے بھی اسی معاملے پر لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کی کال دے رکھی ہے۔

جماعت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ 29 اگست کو لاہور میں داتا دربار سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے اور تب تک سڑکوں پر رہیں گے جب تک نیدرلینڈز کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت بند نہ کر دی جائے یا پاکستان نیدرلینڈز کے ساتھ اپنے تمام سفارتی تعلقات ختم نہ کر دے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر اور مینمار کے حوالے سے بھی سینیٹ میں بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی صورتحال سب کے سامنے ہے کہ ’وہاں کس طرح سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔‘

انھوں نے مینمار کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی تمام تر ہمدردیاں میانمار کے مسلمان پناہ گزینوں کے ساتھ ہیں کیونکہ یہ ایک انسانی مسلہ ہے۔