’ہیلی کاپٹر پچاس روپے کلو'

تصویر کے کاپی رائٹ Augusta westland
Image caption آگسٹا ویسٹ لینڈ کمپنی کا اے ڈبلیو 139 ہیلی کاپٹر وزیر اعظم عمران خان کے زیر استعمال ہے

جب سے تحریک انصاف نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ہے، جماعت کے رہنما اور حکومتی اراکین نے مسلسل اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کفایت شعاری سے کام لیں گے اور غیر ضروری خرچے کم کریں گے۔

اس بابت وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پہلے عوامی خطاب میں اعلان کیا تھا کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس میں رہائش اختیار نہیں کریں گے، بلٹ پروف گاڑیاں فروخت کر دیں گے اور اپنے لیے پروٹوکول میں کمی کریں گے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

بنی گالہ تک وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کا کتنا خرچ؟

’ٹیکس دیں، آپ کے پیسوں کی حفاظت میں خود کروں گا‘

کفایت شعاری اور خرچے کم کرنے کی بحث نے زور اس وقت پکڑا جب خبر سامنے آئی کہ وزیر اعظم اپنی ذاتی رہائش گاہ بنی گالا سے اپنے دفتر تک سفر کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کر رہے ہیں جس پر ایک طوفان برپا ہو گیا کہ یہ کیسی کفایت شعاری ہے۔

وزیرِاطلاعات فواد چوہدری نے اپنے تئیں بات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی اور پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ معمولی بات ہے اور ہیلی کاپٹر کے اس سفر پر 'ہیلی کاپٹر کا خرچ 50 سے 55 روپے فی کلومیٹر ہے ' لیکن اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر میمز کی بھرمار ہو گئی جس میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر لوگوں نے کافی دلچسپ تبصرے کیے۔

پاکستان کے ٹاپ ٹرینڈز میں سے ایک، 'ہیلی کاپٹر' کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے گذشتہ حکومت میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 'میں سوچ رہا ہوں کہ اپنے خاندان کے زیر استعمال کرولا گاڑی بیچ دوں اور ٹرانسپورٹ کا زیادہ سستا اور قابل اعتماد ذریعہ اپناؤں۔ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ میں سوزوکی لوں یا ہیلی کاپٹر۔'

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی فیصل رضا عابدی نے ٹویٹ میں عمران خان کو اس جھنجھٹ سے بچنے کے لیے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ' خان صاحب اگر ہیلی کاپٹر چلانا سیکھ لیں اور جہانگیر ترین انھیں ذاتی استعمال کے لیے ایک ہیلی کاپٹر تحفتاً دے دیں تو سب شور شرابہ ختم ہو جائے گا۔'

فواد چوہدری کے بیان کے بعد کئی لوگوں نے تبصرہ کیا کہ ہیلی کاپٹر کا خرچہ تو ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والی ایپ 'کریم' سے بھی کم ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ 'کریم اور اووبر کو چاہیے کہ وہ عام عوام کے لیے ہیلی کاپٹر سروس شروع کریں کیونکہ وہ سستی ہے اور اس میں ٹریفک کی رکاوٹ بھی نہیں ہوتی اور ہمیں بس ٹرانزٹ کے بجائے ہیلی کاپٹر سروس کی ضرورت ہے۔'

ایسے کئی تبصروں کے سامنے آنے کے بعد 'کریم' نے بھی اسی بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ 'کیا آپ لوگوں نے ہماری نئی سروس استعمال کی ہے؟' جس میں گاڑی اور بائیک کے علاوہ ایک ہیلی کاپٹر کی بھی تصویر تھی۔

صارف حسن چیمہ نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ 'وہ کہہ سکتے تھے کہ وزیر اعظم کا وقت بہت قیمتی ہوتا ہے اور وقت بچا کر ہم زیادہ موثر طریقے سے کام کر رہے ہیں جس کی پاکستان کو فوری ضرورت ہے۔۔۔ لیکن انھوں نے کہا، ہیلی کاپٹر پچاس روپے کلو۔'

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’جب دفتر سےنکلا تو تھک چکا تھا، سوچا رکشہ کرلوں۔ جیب میں ہاتھ ڈالا تو صرف بیس روپے تھ جو رکشے کے لئے ناکافی تھے۔ خیال آیا کہ ہیلی کاپٹر میں فیول کم لگتا پے۔ ایک ہیلی کاپٹر روکا اور 3 منٹ میں گھر پہنچ گیا۔ ڈرائیور کو 20 روپے دئے تو اس نے دس کا نوٹ واپس کردیا۔‘

اسی بارے میں