’میڈیا نگرانی کا ایک ادارہ بنانے سے آسانیاں پیدا ہوں گی‘

پاکستان

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سابق چئیرمین ابصار عالم نے کہا ہے کہ پاکستان میں تمام میڈیا کی نگرانی کے لیے ایک نیا ادارہ قائم کرنے سے صارفین اور میڈیا ہاؤسز کے مالکان کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔

ابصار عالم نے کہا کہ عام صارف کو اس کا فائدہ ہوگا کیونکہ وہ ایک ہی جگہ پر اپنی شکایت درج کرا سکیں گے اور ساتھ ساتھ میڈیا ہاؤسز کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ وہ اپنے لائسنس کے لیے اور شکایت کے لیے ایک ہی جگہ جا سکیں گے۔

بدھ کو پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ملک میں اخبارات اور الیکڑانک میڈیا کے الگ الگ نگران اداروں کو ختم کر کے ایک نئی ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا جس کے تناظر میں بات کرتے ہوئے ابصار عالم نے کہا کہ پیمرا نے اس حوالے سے کام ڈھائی سال سے شروع کیا ہوا تھا۔

'پیمرا نے برطانوی میڈیا کے نگران ادارے آفکام کے تعاون سے اس حوالے سے ایک تحقیق کرائی تھی کیونکہ اُن کا ماڈل پاکستان کے میڈیا کے لیے مناسب ہے۔ اس کی ضرورت اس لیے آئی کیونکہ پاکستان میں میڈیا ہاؤسز کے پاس نشریات کے مختلف ذرائع ہیں۔ ایک ہی ہاؤس کے پاس ٹی وی چینل، اخبار اور آن لائن ویب سائٹ ہے۔'

انھوں نے کہا کہ اس تضاد کو ختم کرنے کے لیے ان کے دور میں پیمرا نے یہ کام شروع کیا تھا اور کمیٹی بنائی تھی جس میں پیمرا، پی ٹی اے اور پاکستان پریس کونسل کے لوگ شامل تھے جنھوں نے اس ادغام کے لیے کام کیا تھا۔ میرے خیال میں اس کی بہت ضرورت ہے اور یہ کافی فائدہ مند ثابت ہوگا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ملک میں میڈیا کی نگرانی کے لیے نیا ادارہ بنانے سے آزادی صحافت پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں پیمران کے سابق چیئرمین نے کہا کہ اگر حکومت اور حکومتی اداروں کی نیت صاف ہو اور وہ میڈیا کی آزادی سلب نہ کرنا چاہیں تو میڈیا آزاد رہے گا۔

'میں جو نیت کی بات کرتا ہوں، اگر ریاست کے تین ستون اور ان کے ذیلی ادارے ، ان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے یا نہیں اور کیا اس چوتھے ستون کو اس کے حقوق دینے چاہیے یا نہیں۔'

سینسرشپ: ’حساس موضوعات کو ہاتھ نہ لگائیں‘

خاموش رہنے میں ہی سب کا بھلا ہے؟

'اگر میڈیا ہاؤسز کے مالکان نہیں چاہیں کہ آزادی سلب ہو، تو وہ نہیں ہوگی، لیکن بدقسمتی سے اب ایسا نہیں ہے۔ اب تمام معاملات مالکان کے ہاتھ میں ہیں اور وہ مالکان جس وقت چاہیں پالیسی لے جائیں، اور حکومتیں چاہتی ہیں کہ انھیں دوستانہ میڈیا ملے اور اگر نہ ملے تو اسے دوستانہ بنا لیا جائے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں یہ پارلیمان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے کہ میڈیا کی آزادی پر ضرب نہ آئے۔

حکومتی کنٹرول کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ابصار عالم نے کہا کہ میڈیا پر کنٹرول کرنا ابھی بھی حکومت کے لیے آسان ہے کیونکہ ان کے پاس ایسا کرنے کے ذرائع ہیں جس سے وہ آزادی صحافت کو روک سکتے ہیں۔

اسی بارے میں