پاکستان کی تاریخ میں ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس

  • محمد کاظم
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان، سیدہ طاہرہ صفدر
،تصویر کا کیپشن

جسٹس سیدہ طاہرہ صفدر اس سپیشل کورٹ کی رکن بھی تھیں جسے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کے لیے 2013 میں قائم کیا گیا تھا

جسٹس سیدہ طاہرہ صفدر نے بلوچستان ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔

وہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی ہائی کورٹ کی بننے والی پہلی خاتون چیف جسٹس ہیں۔

سنیچر کو ایک سادہ تقریب میں گورنر ہاؤس کوئٹہ میں گورنر محمد خان جوگیزئی نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔

اس تقریب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے علاوہ ہائی کورٹ کے ججز اور وکلا نے شرکت کی۔

مزید پڑھیے

جسٹس طاہرہ صفدرپانچ اکتوبر1957 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئیں۔

وہ معروف قانون دان امیتاز حسین باقری حنفی کی صاحبزادی ہیں۔

حقوق انسانی کی علمبردار ہونے کے ناطے امیتاز حسین باقری حنفی مرحوم کو نہ صرف بلوچستان کے وکلا میں بلکہ سیاسی کارکنوں اور دانشوروں میں بھی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

جسٹس طاہرہ صفدر نے ابتدائی تعلیم کنٹونمنٹ پبلک سکول سے حاصل کی جبکہ گریجوایشن گورنمنٹ گرلز کالج کوئٹہ سے کیا۔

انھوں نے بلوچستان یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کرنے کے بعد 1980 میں ایل ایل بی کیا۔

جسٹس سیدہ طاہرہ صفدر نے22 اپریل 1982 کو بطور سول جج کیرئیر کا آغاز کیا۔

انہیں 17اکتوبر 1987 کو سینیئر سول جج کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

طاہرہ صفدر کی مارچ 1996 میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی حیثیت سے تقرری ہوئی۔

انھوں نے بلوچستان سروس ٹریبونل کی رکن کے علاوہ ٹریبونل کی چیئرمین کی حیثیت سے بھی کام کیا۔

سات ستمبر 2009 کو ان کی تقرری بلوچستان ہائی کورٹ کی جج کی حیثیت سے ہوئی اور11 مئی 2011 کو انھوں نے ہائی کورٹ کے مستقل جج کی حیثیت سے حلف لیا۔

،تصویر کا ذریعہBalochistan High Court

،تصویر کا کیپشن

جسٹس سیدہ طاہرہ صفدر کا استقبال گل پاشی سے کیا گیا

وہ اس سپیشل کورٹ کی رکن بھی تھیں جسے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کے لیے 2013 میں قائم کیا گیا تھا۔

بلوچستان ہائی کورٹ کی سینیئر ترین جج ہونے کے ناطے چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی تقرری چیف جسٹس کی حیثیت سے ہوئی۔