ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے کا معاملہ: ’آئی جی پنجاب نے محکمے کا دفاع کیوں نہیں کیا؟‘

سپریم کورٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا کی بیٹی سے پولیس اہلکاروں کی مبینہ بدتمیزی اور پولیس حکام کے تبادلوں میں سیاسی مداخلت کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پیر کو اسلام آباد میں صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر پاکپتن کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر رضوان گوندل کے تبادلے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

اسی بارے میں

پاکپتن ڈی پی او تبادلہ: خاور مانیکا عدالت میں طلب

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا کہ پنجاب پولیس کے سربراہ کلیم امام وزیرِ اعلی پنجاب اور ان کے دوست کی جانب سے ڈی پی او پاکپتن سے معافی مانگنے کو کہنے اور ان کے تبادلے کے لیے اثروروسوخ استعمال کرنے کے واقعات کی تحقیقات کریں۔

خاور مانیکا اور بشریٰ بی بی کی بیٹی کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی مبینہ بدکلامی کے معاملے کی تحقیقات ایڈیشنل آئی جی کریں گے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ خاور مانیکا کی صاحبزادی سے مبینہ بدکلامی اور معاملے میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی مداخلت سمیت تمام پہلوؤں کی تحقیقات کے بعد ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کی جائے۔

سپریم کورٹ نے اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران یہ عندیہ بھی دیا کے وزیرِ اعلی پنجاب کو 62 ون ایف کے تحت شوکاز نوٹس بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔

’زبانی احکامات کیوں دیے‘

سماعت کے دوران عدالت نے آئی جی پنجاب کلیم امام سے استفسار کیا کہ ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے کے احکامات زبانی کیوں دیے جس پر آئی جی پنجاب کا جواب تھا کہ وہ اسلام آباد میں تھے اس لیے زبانی احکامات دیے گئے۔

عدالت نے سوال کیا کہ ’ایسی کیا مجبوری آ گئی تھی کہ رات کے دو بجے زبانی احکامات جاری کرنا پڑے۔‘

عدالت نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے کے لیے دباؤ ڈالنے والے وزیرِ اعلی کے دوست احسن جمیل گجر کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

احسن گجر کی جانب سے ڈی پی او سے خاور مانیکا سے معافی مانگنے یا ان کے تبادلے کے لیے دباؤ ڈالنے کی صورت میں اپنے محکمے کا دفاع نہ کرنے پر عدالت نے آئی جی پنجاب پولیس کی سرزنش بھی کی۔

عدالت نے آئی جی پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’آپ نے ادارے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔‘

وزیر اعلی ’صادق اور امین نہیں رہے‘

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے کہا کہ وہ وضاحت دیں کہ وزیرِ اعلی پنجاب نے اداروں پر سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کیوں کی۔

عدالت نے عندیہ دیا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی بنا پر وزیرِ اعلی صادق اور امین نہیں رہے اور ان کے خلاف 62 ون ایف کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ ’کیا وزیر اعلی کے خلاف صادق اور امین نہ ہونے کی بنا پر کوئی عدالتی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔‘

’احسن جمیل نے کس حیثیت میں دباؤ ڈالا‘

عدالت نے وزیر اعلی کے دوست احسن جمیل گجر سے استفسار کیا کہ انھوں نے کس حیثیت میں ڈی پی او سے خاور مانیکا سے معافی مانگنے کو کہا؟

تاہم انھوں نے اس الزام سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ ’آپ کی باڈی لینگویج آپ کے الفاظ کاساتھ نہیں دے رہی۔‘

سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی کے کرنل طارق کو بھی طلب کیا اور کہا ’کیا آئی ایس آئی کا یہ کام ہے کہ وہ تبادلوں کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے؟‘ عدالت نے کہا کہ وہ آئندہ محتاط رہیں بصورتِ دیگر ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خاور مانیکا نے عدالت کو بتایا کہ انھیں ان کی بیٹی نے بتایا کہ بابا فرید کے مزار کی جانب جاتے ہوئے جب پولیس اہلکاروں نے انھیں روکا انھوں نے شراب پی رکھی تھی۔

عدالت نے خاور مانیکا سے کہا کہ ان کی بیٹی کے ساتھ جو ہوا وہ اس کے لیے وہ معذرت خواہ ہے اور اس میں کوئی بھی پولیس اہکار ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ عنوانات