دیر: خواتین پولنگ سٹیشنز کے بعد اب سڑکوں پر

دیر تصویر کے کاپی رائٹ Shad Begum
Image caption ضلع لوئر دیر کے تاریخ میں ایسا پہلے مرتبہ ہوا ہے کہ خواتین سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق کی لیے مردوں کے شانہ بشانہ آواز بلند کر رہی تھیں

گذشتہ عید الاضحیٰ کے دوسرے دن خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے علاقے تالاش میں خواتین سڑکوں پر نکل کر لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں، اس طرح کا منظر اس علاقے بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ خواتین کی کسی احتجاج میں شرکت کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔

خواتین کے ساتھ علاقے کے مرد بھی موجود تھے اور وہ حکومت کے خلاف نعرہ بازی بھی کر رہے تھے۔

انہی مظاہرین نے سڑک کو بھی ٹریفک کے لیے بند کیا تھا۔ ضلع لوئر دیر کے تاریخ میں ایسا شاید پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ خواتین سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق کی لیے مردوں کے شانہ بشانہ آواز بلند کر رہی تھیں۔

یہی ضلع ماضی میں میڈیا کا مرکز رہا جب سال 2013 کے عام انتخابات میں ایک حلقے میں عورتوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کا تنازع سامنے آیا تھا۔

بعد میں جس حلقے میں مبینہ طور پر عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے منع کیا گیا تھا اسی حلقے کے نتائج کو عدالت میں چیلنج بھی کیا گیا تھا۔

مقامی صحافی شیر محمد نے اس احتجاج کا احوال بتاتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ تمام خواتین نے شٹل کاک برقع پہن رکھا تھا اور مردوں نے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر خواتین کے گرد دائرہ بنایا ہوا تھا تاکہ خواتین کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

یہ بھی پڑھیں!

’پہلے خواتین نے ووٹ ڈالا اب ایک قدم آگے جانا چاہتی ہوں‘

’خدشات کہ شاید خواتین ووٹ نہ ڈال سکیں‘

شیر محمد کے مطابق مظاہرے میں موجود مردوں نے میڈیا کو یہ اجازت نہیں دی تھی کہ وہ خواتین کے ساتھ بات کر سکیں۔ شیر محمد نے بتایا کہ وہاں پر موجود مردوں کا کہنا تھا کہ خواتین کی میڈیا سے بات کرنا ہمارے ہاں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ ان خواتین کا باہر نکلنا اورسال 2018 کے عام انتخابات میں بہت زیادہ تعداد میں عوارتیں باہر آنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ خواتین کو احساس ہوگیا ہے کہ وہ خود حقوق مانگنے کے لیے باہر نکلیں۔

اسی علاقے میں جہاں خواتین احتجاج کے لیے باہر نکلی تھیں وہاں کی رہائشی اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنی والی کارکن شاد بیگم نے بی بی سی کو بتایا کہ دو سال پہلے تقریباً دس خواتین نے اسی طرح کا ایک احتجاج بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ حالیہ احتجاج اور پہلے والے احتجاج میں فرق یہ تھا کہ اس دفعہ خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔

’مجھے لگ رہا ہے کہ اب خواتین کو اس بات کا احساس ہوا ہے کہ وہ خود ان مسائل کے لیے آواز بلند کریں جن کے لیے ماضی میں صرف مرد آواز اٹھاتے تھے۔‘

شاد بیگم نے بتایا کہ اس کی مثال یہی ہے کہ لوڈشیڈنگ سے مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہے کیونکہ وہ گھر میں زیادہ تر وقت گزارتی ہیں جہاں بجلی ضروری ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shad Begum
Image caption مظاہرے میں موجود مردوں نے میڈیا کو یہ اجازت نہیں دی تھی کہ وہ خواتین کے ساتھ بات کر سکیں

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسا تو نہیں ہے کہ مردوں نے ان خواتین کو باہر نکلنے پر مجبور کیا ہوں، تو اس کے جواب میں شاد بیگم نے بتایا کہ جہاں تک انھوں نے احتجاج میں حصہ لینے والوں سے بات کی ہے تو ایسا بالکل نہیں ہے۔

’میں نے خود چند خواتین سے جو احتجاج میں حصہ لے رہے تھیں سے بات کی ہے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ خود لوڈشیڈنگ سے تنگ آکر باہر نکل آئی ہیں۔‘

اسی احتجاج میں حصہ لینے والے ایک خاتون نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے خود گاؤں کی دوسرے خواتین سے بات کر کے یہ پلان کیا تھا کہ مردوں کے ساتھ وہ بھی باہر نکل کر احتجاج کریں گی۔

’اس میں کوئی شک نہیں کہ گھر کے مردوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے۔ ہم جتنی خواتین بھی نکلی تھیں ان کے ساتھ گھر کے مرد بھی احتجاج میں کھڑے تھے۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ واقعی خواتین نے اب اس بات کو محسوس کیا ہے کہ وہ خود اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں، تو اس کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ’ظاہری بات ہے کہ جب گھر میں بجلی نہ ہو اور گھر کے سارے کام ٹھپ پڑے ہوں تو ہم ضرور باہر نکل کر احتجاج کریں گے۔‘

شاد بیگم کے مطابق مرد بھی اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ جس مسئلے میں خواتین کو شریک کیا جائے تو اس کے حل کے لیے حکومت جلد ہی اقدامات اٹھاتی ہے۔

’مرد کبھی کبھار ایسا بھی کرتے ہیں کہ جب ایسا مسئلہ جو مرد حل نہیں کر سکتے تو اس کے لیے وہ خواتین کو باہر نکالتے ہیں۔ لیکن اس میں کوئی برائی نہیں ہے کیونکہ اسی سے خواتین کو اپنی اہمیت کا احساس ہوجاتا ہے کہ مسائل اکیلے مرد نہیں بلکہ خواتین کے ساتھ مل کر حل ہوسکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں