عارف علوی پاکستان کے 13ویں صدر منتخب، ’صرف پی ٹی آئی کا نہیں پوری قوم کا صدر ہوں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
صدارتی انتخاب: صدر کے الیکشن کے لیے ووٹ کیسے گنے جاتے ہیں؟

پاکستان میں صدر کے انتخابات کے لیے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی پاکستان کے 13 ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

عہدہ صدارت کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے ڈاکٹرعارف علوی، مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ مولانا فضل الرحمان اور پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن کے درمیان مقابلہ تھا۔

صدر کے انتخاب کے لیے چاروں صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین نے ووٹ ڈالے۔

یہ بھی پڑھیں!

پاکستان کی نئی وفاقی کابینہ کے 16 وزیروں نے حلف اٹھا لیا

’ن لیگ دیکھ لے کہ عمران کا امیدوار سوٹ کرتا ہے یا اعتزاز احسن‘

’اپوزیشن کا مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر اتفاق‘

غیر سرکاری اور غیر حتمیٰ نتائج کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کو مجموعی طور پر 352 ووٹ ملے جبکہ مولانا فضل الرحمان کو 185 اور پیپلز پارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن کو 123 ووٹ ملے۔

اس موقعے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نو منتخب صدر عارف علوی نے کہا کہ وہ کسی ایک جماعت کے نہیں بلکہ پوری قوم کے صدر بنیں گے۔

پنجاب کے 65 ووٹوں میں ڈاکٹر عارف علوی کو 32.5، سندھ سے 21.6 بلوچستان سے 45 اور خیبر پختوانخو سے تقریباً 41 ووٹ ملے ہیں۔

قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں جب پولنگ ہوئی تو ہائی کورٹس کے ججوں نے پریزائڈنگ افسران کی خدمات سر انجام دیں۔

حزب اختلاف میں مشترکہ امیدوار پر اختلاف

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عارف علوی کو صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا تھا جبکہ متحدہ حزب اختلاف تمام تر کوششوں کے بعد بھی مشترکہ امیدوار لانے میں ناکام رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اعتزاز احسن اور مسلم لیگ ن سمیت دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن صدارتی امیدوار تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان مسلم لیگ ن اور متحدہ مجلس عمل سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار اعتزاز احسن کے حق میں نہیں ہیں

اسی سلسلے میں پیر کو پاکستان مسلم ن کے حمایت یافتہ امیدوار مولانا فضل الرحمان نے صدارتی انتخاب سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے اسلام آباد میں ملاقات کی تھی۔ تاہم ان کی آصف زرداری سے ملاقات بے نتیجہ ہی اختتام کو پہنچی اور کسی ایک متفقہ امیدوار پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

گذشتہ ماہ مری میں بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی دعوت پر پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں ایک متففہ امیدوار لانے پر بات چیت کی گئی تاہم اس کے باوجود تمام جماعتیں کسی ایک امیدوار پر متفق نہ ہو سکیں۔

’تمام جماعتوں کا صدر ہوں‘

انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ’میں اپنی کامیابی پر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں اور میں عمران خان کا بھی شکرگزار ہوں جنھوں نے مجھ پر اتنی بڑی ذمہ داری عائد کی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں آج سے صرف تحریک انصاف کا نامزد کردہ صدر نہیں ہوں بلکہ میں تمام جماعتوں اور پوری قوم کا صدر ہوں۔ ہر جماعت کا مجھ پر برابر حصہ ہے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی دو مرتبہ کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ سنہ 2018 کے انتخابات میں بھی عارف علوی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

اسی بارے میں