تم کرو تو احسان، ہم کریں تو ذمہ داری

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ سنہری اصول مڈل کلاس یا لور مڈل کلاس کی لڑکیوں اور ان کا ایک بیٹا ورژن امیر کبیر لڑکیوں کو بھی سکھایا جاتا ہے

‏پاکستان میں اگر آپ خاتون ہیں اور اگر آپ کے ماں باپ آپ سے محبت کرتے ہیں تو یقیناً انھوں نے آپ کو زندگی کے چند آداب ضرور سکھائے ہوں گے۔

یہ وہ سنہری اصول ہیں جو ہر مڈل کلاس یا لور مڈل کلاس لڑکی کو ازبر کرواتے جاتے ہیں۔ ویسے تو ان اصولوں کا ایک بیٹا ورژن (انگریزی والا بیٹا-اردو والا بیٹا ورژن یہاں کس کام کا) امیر کبیر لڑکیوں کو بھی سکھایا جاتا ہے جو کچھ خاص مختلف نہیں ہوتا - کیونکہ غیرت تو ہر پاکستانی کا مسئلہ ہے۔

‏پہلا اصول ہوتا ہے چپ رہنا۔ زیادہ نہیں بولنا۔ زیادہ بولنے والی لڑکیاں تیز سمجھی جاتی ہیں۔ کم بولنے والیاں بھولی اور سیدھی سادھی سمجھی جاتی ہیں۔ ظاہر ہے سیدھی سادھی ہونے میں ہی بھلائی ہے۔ ایسی بیٹی یا بہن جو وراثت میں حق مانگ لے، اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک سے باہر جانا چاہے، اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہے، وہ بہو جو اپنا حق مانگے، یا ایسی بیوی جو نوکری کرنا چاہے یا مرد سے عزت اور تمیز کی درخواست کر بیٹھے ۔ بھلا ایسی لڑکیاں شریف تھوڑی ہوتی ہیں، توبہ کیجیے۔ ایسے آثار جس میں بہنیں بہو بیٹی میں نظر آئیں، اس کو فوراً دھمکی دے دیں کہ اس کی آخرت بگڑ سکتی ہے اور اس کی قبر میں کم از کم دس زہریلے کیکڑے ڈیوٹی دیں گے۔

مزید پڑھیئے

’اداکارہ نرگس سے میں معافی مانگتا ہوں‘

وزارتِ ہاسا مذاق ان لمیٹڈ!

انسان بنیں مرد نہ بنیں !

‏دوسرا اصول ہے کپڑوں کے معاملے میں ہوشیار رہنا۔ بہتر یہ ہے کہ ہر خاتون اپنی شکل نہ دکھائے، نہیں تو کم از کم سر پہ تو دوپٹہ ضرور رکھے۔ اچھا چلیں یہ نہیں کر سکتی تو بغیر دوپٹے کے رہنا تو بالکل ہی ناقابل قبول ہے، اور کھلے بازو؟ استغفار۔ یہ تو نری فحاشی ہے۔

سنا ہے اسی فحاشی سے مردوں کا دل و دماغ قابو میں نہیں رہتا اور وہ جانور بن جاتے ہیں، مگر سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ وہ جانور صفت مرد جو پردے میں رہنے والی خواتین کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں یا وہ درندے جو چھوٹی کمسن بچیوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں، ان کو کس نے بڑھاوا دیا ہوتا ہے؟ ویسے بھی، کتنی عجیب دلیل ہے نا کہ جو شخص یہ ظلم اور ستم کر رہا ہے، قصور اس کا نہیں بلکہ دوسروں کا ہے۔

‏تیسرا اصول ہے مسکراتے رہنا۔ یقین نہیں آتا؟ وہ دیکھیے بسکٹ کا ایڈ، مکھن کا اشتہار، کچھ نہیں تو فلاں فلاں ہاؤسنگ سکیم میں بھی کسی خاتون کا چہرہ غور سے دیکھیے۔ مسکراتے مسکراتے کہیں گال پتھر کے ہوگئے ہیں۔ مسکراتی ہوئی عورت ہی بہتر ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایسے آثار جو بہن بہو بیٹی میں نظر آئیں، اس کو فوراً دھمکی دے دیں کہ اس کی آخرت بگڑ سکتی ہے اور اس کی قبر میں کم از کم دس زہریلے کیکڑے ڈیوٹی دیں گے

ہاں ایک اور تاثر ہے جسے بہت پسند کیا جاتا ہے: رونا۔ عورتیں ٹی وی پہ جتنا زیادہ روتی ہیں، ڈرامے کی اتنی زیادہ ریٹنگ آتی ہے۔ عورت پٹ جائے تو اور بھی اچھا ہے۔ طلاق کی دھمکی ہو تو کیا ہی کہنے۔ یوٹیوب میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیو کے مطابق ویسے بھی 'بہترین پاکستانی ڈرامہ ڈائیلاگ' میں عورت کی عزت اور اس کی عظمت اس میں ہی بیان کی جاتی ہے کہ جو عورت 'حیا' کی پتلی ہے وہی کامیاب ہے، باقی سب تو بس ….‏

چوتھا اصول ہے کام کاج۔ لڑکیوں کی ذمہ داری ہے کھانا پکانا، بچوں کی دیکھ بھال کرنا اور یہ سب کام مسکراتے ہوئے کرنا۔ کیونکہ وہ مکھن بیچنے والی لڑکی بھی تو مسکرا مسکرا کے ڈبل روٹی پہ مکھن لگا کے دے رہی تھی۔ برتن دھونے کا صابن بیچتی ہوئی ماڈل بھی اتنی خوشی سے برتن دھو رہی تھی جیسے برتن میں اس کو اپنا کوئی ناپید روشن مستقبل نظر آگیا ہو۔ جو گھر کے کام کاج کے بارے میں زیادہ شور مچائے ایسی عورت کو تو ناشکری کے جرم میں سارا دن ایسے ڈرامے دکھانے چاہییں جس میں ہر وقت طلاق کی تلوار عورت کی گردن پہ لٹکی رہتی ہے۔

‏ویسے تو اور بھی اصول ہیں لیکن آج یہ روداد لکھنے کا مقصد بحیثیت خاتون اپنے ماضی کو تازہ کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک سوال کرنا تھا۔ کیا یہی تدریس ہمارے یہاں مردوں کو سکھائی جاتی ہے؟

نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ روداد لکھنے کا مقصد بحیثیت خاتون اپنے ماضی کو تازہ کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک سوال کرنا تھا۔ کیا یہ تدریس ہمارے مردوں کو بھی سکھائی جاتی ہے؟

‏مردوں کو سکھایا جانے والا پہلا اصول ہوتا ہے ڈٹ کر بولنا۔ اگر کوئی ان کی نہیں سن رہا تو ان کو اس بات کی ہمت دلوانا کہ ان کی بات فی الفور سنی جائے۔ یہ تو خاص کر ناقابل قبول ہے کہ ایک مرد بول رہا ہو اور عورت اس کی بات بیچ میں کاٹ دے اور اپنی بات شروع کر دے۔ کیونکہ جو مرد تحمل سے بات سن لے، اس سے ہر چیز کی توقع کی جا سکتی ہے سوائے مردانگی کی۔

‏مردوں کو سکھایا جانے والا دوسرا اصول ہوتا ہے فوقیت۔ ان کی سوچ کو، ان کے حق کو، ان کی آزادی کو ہر حال میں سمجھا جائے اور مانا جائے۔

اگر تپتی گرمی میں بنیان پہنے تو اس کی مرضی۔ اگر وہ بنیان نہ بھی پہنے اور سمندر میں غوطہ لگا کے اپنے جیسے دس ہوشیار دوستوں کی تصویر فیس بک پہ لگائے تو کوئی اسے آ کے بے غیرت ہونے کا طعنہ نہیں دے گا، بلکہ اسے رشک بھری نگاہوں سے دیکھیے گا اور کہا جائے گا، ’واہ یار، بڑے مزے کر رہا ہے آجکل!‘

تصویر کے کاپی رائٹ @GOPUNJABPK
Image caption چوہان صاحب نے ہم سب کے سامنے بچپن سے لے کے آج تک سیکھے ہوئے اصولوں کو عملی جامہ پہنا دیا ہے جس کے لیے ہم سب ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں

‏تیسرا اصول ہے جاہ و جلال۔ اس سے معاشرہ بہت صحتمند رہتا ہے۔ چلتے پھرتے کسی کو بھی تھپڑ رسید کر دیں، اس سے آپ کی مردانگی کا گریڈ بڑھ جاتا ہے اور آپ ثابت کرتے ہیں کہ آپ کو بہادری کی سند بھی مل گئی ہے، جو چاہے اگلے کے گال پہ ہی کیوں نہ چھپی ہو۔ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، آپ اپنا غصہ کسی بھی عورت پہ بھی بنا کسی ڈر و خوف کے نکال سکتے ہیں۔ بس جاہ و جلال ماند نہ پڑے۔

‏چوتھا اصول ہے گھر کے کام اور بچوں کی دیکھ بھال۔ اب تک تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ بچوں سے مردوں کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ باپ تو ویسے ہی چودھویں کے چاند کی طرح ہونا چاہیے جو کبھی کبھی نمودار ہو اور اس کو تکنے ہی برکت سمجھی جائے. اس کے علاوہ کسی مرد سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنا کھانا خود گرم کر لے گستاخی کے زمرے میں آتا ہے۔ مزید یہ کہ کوئی بھی باپ اپنے بچے کے گندے ڈائپر بدلنے کو اپنی توہین سمجھے تو مان لیجیے کہ اس کی تربیت میں کوئی کمی نہیں رہ گئی۔

‏پاکستان نیا نیا بنا ہے لہٰذا ان اصولوں پہ نظر ثانی بھی ضروری ہو چلی تھی۔ پنجاب کے وزیر ثقافت جناب فیاض الحسن چوہان نے ایک تقریب میں واضح الفاظ میں فرمایا کہ فحش بورڈ لگانے پہ پابندی ہوگی، اور نرگس کو انھوں نے حاجن بھی بنانا ہے۔ فیاض چوہان صاحب نے ہم سب کے دل کی بات چھین لی ہے۔ نہ صرف وہ ہمارے معاشرے میں موجود روایت کی تصدیق کرتے ہیں بلکہ فحاشی کے خلاف جس کھلی جنگ کا انھوں نے اعلان کیا ہے اس کو تو ہم نجانے کب سے پروان چڑھا رہے ہیں۔ بس چوہان صاحب نے ہم سب کے سامنے بچپن سے لے کے آج تک سیکھے ہوئے اصولوں کو عملی جامہ پہنا دیا ہے جس کے لیے ہم سب ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔

حالانکہ فیاض چوہان نے معافی مانگ لی ہے اور نرگس اور باقی سٹیج کی اداکارائیں سراپا احتجاج ہیں، لیکن سچ تو یہ ہے کہ فیاض چوہان نے اپنے الفاظ کی معافی مانگی ہے، اپنی سوچ کی نہیں۔ کیونکہ فیاض صاحب ایک سوچ اور فکر کی عکاسی ہی تو کر رہے تھے۔ وہ سوچ جو کسی 'سٹیج' والی عورت کو ہراساں کرنا اپنا حق سمجھتی ہے اور وہ فکر جو ہر غیرت مند مرد کو لاحق رہتی ہے کہ کہیں اس کی بہن کا دوپٹہ اس کے سر سے پھسل نہ جائے۔

اسی بارے میں