ثاقب نثار: ’کیا کسی ملک کی فوج کاروبار کرتی ہے‘

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan
Image caption چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے اربوں روپے کہاں جاتے ہیں؟

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بل بورڈز سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ کیا دنیا میں کسی ملک کی فوج پیسہ کمانے کے لیے کاروبار کرتی ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال اُٹھایا ہے کہ کیا یہ ملک کی فوج کا کام ہے کہ وہ ہاؤسنگ سکیمیں بنائے۔

مزید پڑھیئے

’کیا مجبوری تھی کہ رات دو بجے زبانی احکامات دینے پڑے‘

چیف جسٹس کا چھاپہ اور زرداری کا جملہ

چیف صاحب کی چپیڑ

اُنھوں نے کہا کہ اگر پاکستانی فوج نے ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانی ہیں تو وہ اپنے ملازمین اور شہدا کے لیے بنائے نہ کہ اس کو کاروبار کے طور پر چلایا جائے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس از خود نوٹس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹی بنا کر پلاٹ عام لوگوں کو بیچنا شروع کر دیے جاتے ہیں جس میں الاٹمنٹ اور ٹرانسفر کی مد میں اربوں روپے کمائے جاتے ہیں۔

اُنھوں نے استفسار کیا کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے اربوں روپے کہاں جاتے ہیں تاہم اس ضمن میں عدالت کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ لاہور میں بل بورڈز نیشنل لاجسٹک سیل’ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی نے لگا رکھے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لاہور کے ہر کھمبے پر پاکستان تحریک انصاف اور پنجاب کے نامزد گورنر چوہدری سرور کے بینر لگے ہیں، کیا انہیں یہ بینرز لگانے کی اجازت پی ایچ اے یا کسی دوسرے متعقہ ادارے نے دی ہے۔ اس پر پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ناہید گل بلوچ نے عدالت کو بتایا کہ ادارے سے بل بورڈز لگانے کی منظور نہیں لی گئی بلکہ جب انھیں ہٹانے کی کوشش کی گئی تو ملازمین کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے۔

کنٹونمنٹ بورڈ کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ کینٹ کے عوام کو سہولیات دینے پر خرچ آتا ہے اور کینٹ کو صوبائی حکومتوں سے کوئی فنڈ نہیں ملتے اس لیے کینٹ آمدن کا بڑا حصہ بل بورڈز کی مد میں ہی آتا ہے۔

اُنھوں نے عدالت کو بتایا کہ کنٹونمنٹ ہسپتال کے 25 فیصد اخراجات بل بورڈز کی آمدن سے پورے کیے جاتے ہیں جس پر بینچ کے سربراہ نے سردار لطیف کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا خرچہ پورا کرنے کے لیے کسینو (جوا خانہ) کھولا جا سکتا ہے؟

عدالت نے کمشنر لاہور کو تمام علاقوں سے بل بورڈ ہٹانے کا حکم جاری کرتے ہوئے ریلوے، این ایل سی اور کنٹونمنٹ سے 10 روز میں جواب طلب کیا ہے۔ اس از خود نوٹس کی سماعت ستمبر کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں