ضمنی انتخابات میں رشتہ دار ضروری ہیں یا مجبوری؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں ایک مرتبہ پھر انتخابات کی فضا ہے۔ اس مرتبہ ضمنی انتخابات میں ملک بھر سے قومی اسمبلی کی گیارہ جبکہ صوبائی اسمبلی کی 19 نشستوں کا فیصلہ ہو گا۔

یہ وہ نشستیں ہیں جن پر مختلف وجوہات کی بنا پر انتخابات ملتوی ہوئے یا پھر ایک سے زائد نشستوں سے کامیاب ہونے والے امیدواروں کو چھوڑنا پڑیں۔

کسی دوسری جماعت کو ان انتخابات میں ہار جیت سے زیادہ فرق پڑے یا نہیں، حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے لیے ان میں ہر ایک نشست انتہائی اہمیت کی حامل ہو گی۔ قومی اسمبلی کی وہ کم از کم 10 نشستیں جیتنے کے خواہاں ہوں گے۔

پنجاب کی کابینہ میں پرانا کون اور نیا کیا؟

ڈاکٹر عارف علوی پاکستان کے 13ویں صدر منتخب

کیا محمود خان عمران خان کا پہلا انتخاب تھے؟

عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف نے چھ نشستیں چھوڑیں جن میں وزیرِاعظم پاکستان عمران خان کی چار نشستیں شامل ہیں۔ ان کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی کے سپیکر پنجاب بننے پر دو مزید نشستیں خالی ہوئیں۔

این اے 60 راولپنڈی اور این اے 103 فیصل آباد پر انتخابات ملتوی ہو گئے تھے۔ گیارہویں نشست این اے 124 لاہور ہے جہاں سے ن لیگ کے رہنما حمزہ شہباز کامیاب ہوئے مگر بعد میں پنجاب اسمبلی چلے گئے تھے۔

اس پس منظر میں حکمراں جماعت ہونے کے ناتے تحریکِ انصاف کے ٹکٹوں کے حصول کی دوڑ میں جیتنے اور جیت کی امید رکھنے والے دونوں قسم کے امیدوار شامل ہیں۔ عام انتخابات میں ’جیتنے والے اور با اثر‘ شخصیات کا پلڑا بھاری دکھتا ہے اور اس پر جماعت کے کارکنان ناراض۔

کس کس کے رشتہ دار دوڑ میں ہیں؟

ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کی گیارہ میں سے آٹھ نشستیں صوبہ پنجاب سے ہیں۔ حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے تاہم ان میں زیادہ تر کے ٹکٹ جیتنے والوں کے رشتہ داروں یا با اثر شخصیات کو جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔

صوبہ پنجاب میں راولپنڈی سے ملحقہ ٹیکسلا کے حلقے این اے 63 سے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور وزیرِ پٹرولیم غلام سرور خان کامیاب ہوئے تھے جو انھوں نے چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹیکسلا سے جماعت کے ایک رہنما کرنل اجمل صابر راجہ سے ضمنی اتنخابات میں اس حلقے کا ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

’اب سننے میں آ رہا ہے کہ وہاں سے غلام سرور خان صاحب اپنے بیٹے کو الیکشن لڑوانا چاہتے ہیں۔‘ سرور خان کے بھائی اور بیٹا دونوں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا رکھے ہیں اور جماعت سے ٹکٹ کے حصول کے لیے درخواستیں بھی دے رکھی ہیں۔

اسی طرح قومی اسمبلی کی نشست این اے 56 اٹک سے پی ٹی آئی کے کرنل ریٹائرڈ طاہر صادق کامیاب ہوئے تھے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے وسطی پنجاب سے ایک مقامی رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے طاہر صادق کے داماد وسیم گلزار اور صاحبزادے زین الہی نے ٹکٹوں کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں سے وسیم گلزار ہی مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

رشتہ داری نہیں تو اثر و رُسوخ

عام انتخابات میں لاہور کی نشست این اے 131 سے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان محض چند سو ووٹوں کی برتری سے ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے تھے۔

تاہم پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کا ماننا ہے کہ مرکز اور صوبے میں حکمراں جماعت ہونے کی وجہ سے تحریکِ انصاف کے امیدوار کو یہاں فوقیت حاصل ہو گی۔

یہی وجہ ہے کہ لاہور کی اس نشست کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے کئی با اثر شخصیات دوڑ میں ہیں۔ تحریکِ انصاف کے رہنما کے مطابق ان میں سب سے نمایاں پنجاب کے وزیرِ بلدیات اور سینیئر وزیر عبد العلیم خان کی اہلیہ کرن علی کا نام ہے۔

علیم خان تحریکِ انصاف کے پنجاب کے صدر بھی ہیں اور وزیرِ اعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں تصور کیے جاتے ہیں۔

ان کے علاوہ سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں وفاقی وزیرِ تجارت رہنے والے ہمایوں اختر خان بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے خواہاں ہیں۔ عام انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے کئی نشستوں پر حصہ لیتے ہوئے وہ کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔

جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما کے مطابق ’چیئرمین عمران خان نے عام انتخابات کے موقع پر ضمنی انتخابات میں یہاں سے ٹکٹ دینے کا وعدہ ولید اقبال سے کر رکھا ہے۔‘

علامہ اقبال کے پوتے ولید اقبال پہلے ہی سے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا چکے ہیں اور اب ٹکٹ کے منتظر ہیں۔ نارووال سے عام انتخابات میں ہارنے والے تحریکِ انصاف کے رہنما ابرار الحق نے بھی ٹکٹ کے حصول کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔

ان نشستوں کے علاوہ این اے 65 چکوال اور این اے 69 گجرات سے ق لیگ کے چوہدری پرویز الٰہی کامیاب ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی کے رہنما کے مطابق ’ان نشستوں پر ٹکٹ ق لیگ ہی طے کرے گی۔‘ وہ بھی پی ٹی آئی کے کارکنان کو ملنے کی توقع کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

خیبر پختونخواہ میں موروثی سیاست

صوبہ خیبر پختونخواہ سے مقامی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے مطابق سابق وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک کی خالی کردہ صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں پر ان کے بیٹے اور بھائی نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا رکھے ہیں اور پارٹی ٹکٹ کے خواہاں ہیں۔

اگر وہ ٹکٹ حاصل کرنے اور پھر نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو حالیہ اسمبلیوں میں بیٹھا ان کا خاندان سب سے بڑا ہو گا۔ وفاقی وزیرِ دفاع پرویز خٹک کے داماد ڈاکٹر عمران خٹک پہلے ہی سے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہو چکے ہیں۔

خیبر پختونخواہ سے جن پی ٹی آئی رہنماؤں کے بھائی ٹکٹ کے حصول کی دوڑ میں ہیں ان میں قومی اسمبلی کے نو منتخب سپیکر اسد قیصر، گورنر خیبر پختونخواہ شاہ فرمان، ڈیرہ اسماعیل خان سے علی امین گنڈہ پور اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پحتونخواہ محمود خان شامل ہیں۔

کارکنان ناراض کیوں؟

تحریکِ انصاف کے اندر کارکنان میں اس پر ناراضگی پائی جاتی ہے۔ اس کا اظہار اس وقت دیکھنے میں آیا جب این اے 60 راولپنڈی سے وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد کے بھتیجے شیخ رشید شفیق کو چند روز قبل تحریکِ انصاف کا ٹکٹ دینے کی خبریں سامنے آئیں۔

یاد رہے کہ اس حلقے سے شیخ رشید عام انتخابات میں امیدوار تھے تاہم الیکشن سے محض چند روز قبل ان کے حریف ن لیگ کے حنیف عباسی کو ایک عدالتی فیصلے میں سزا سنائے جانے پر نا اہل ہونے کی صورت میں یہاں انتخاب ملتوی کر دیا گیا تھا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے راولپنڈی سے مقامی رہنما اور مرکزی انضباطی کمیٹی کے ممبر برگیڈیئر ریٹائرڈ ٹیپو سلطان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جماعت کے کارکنان میں اس حوالے سے غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

’چیئرمین عمران خان بذاتِ خود موروثی سیاست کے بہت زیادہ خلاف ہیں۔ جماعت کی دوسرے درجے کی قیادت جو ہے وہ انہیں گمراہ کر رہی ہے۔‘

’این اے 60 راولپنڈی سے پی ٹی آئی کا کوئی بھی کارکن کھڑا کر دیں وہ شیخ رشید کے بھتیجے سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہو گا۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین عمران خان خود اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ عام انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم پر ان سے غلطیاں ہوئیں ہیں۔

انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ جماعت کے کئی کارکنان نے اس حلقے سے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا رکھے ہیں۔ تحریکِ انصاف کی جانب سے شیخ رشید شفیق کو ٹکٹ دینے کی خبر کی تردید تاحال نہیں آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

رشتہ دار مجبوری ہیں

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں غیر سرکاری ادارہ برائے پارلیمانی ترقی پِلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ ’رشتہ داروں کو ٹکٹ دینے کی ایک بڑی وجہ ان کا خاندانی اثر و رسوخ یا مالی حیثیت ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ امیدوار انتحابات پر آنے والا خرچ خود برداشت کر سکتا ہے یا نہیں۔ چند برادریوں کا یا کچھ افراد کا ذاتی شخصی ووٹ بینک بھی ہوتا ہے۔

تاہم چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان ماضی میں خود موروثی بنیادوں پر سیاست کی مخالفت کرتے آئے ہیں، اس سوال پر احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ حالیہ صورتحال میں معلوم ہوتا ہے کہ ’وہ مجبور ہیں۔‘

’اس میں غلطی بھی ان کی ہی ہے۔ ان کے پاس موقع تھا کہ اپنی جماعت کو مقامی سطح پر اس قدر منظم اور مضبوط کرتے کہ وہ اپنے امیدواروں کے انتخابی اخراجات برداشت کرنے کے لیے فنڈ اکٹھا کر پاتی۔‘

احمد بلال کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ جیسی جماعتیں ماضی قریب تک ایسا کرتی آئی ہیں۔

’اب بھی موقع ہے کہ مستقبل کے لیے جماعت کی مؤثر تنظیم سازی کی جائے، مگر اب کے لیے رشتہ داروں کو ٹکٹ دینا ان کی مجبوری نظر آتا ہے۔‘

اسی بارے میں