’لوگ کہتے ہیں، اس کو بیٹی دیں گے یہ تو چپّل بناتا ہے‘

چپل
Image caption ہزارہ برادری میں موجود معتبر لوگوں کے بقول ان کا اصل ہُنر بلوچی چَوَٹ (بلوچی سینڈل) بنانے کا ہے

ہزارہ برادری آج بھی اپنے بلوچی چپّل بنانے کے ہنر کو سنبھالے ہوئے ہے لیکن کراچی کے علاقے منگھوپیر کے رہائشی عبداللہ صمد کو خدشہ ہے کہ یہ فن انہیں تک محدود رہ جائے گاـ

’ایک وقت تھا کہ ہماری برادری میں سب سے پڑھی لکھی لڑکی جوتے بنانے والے کو ملتی تھی، لیکن اب اس کام کے بارے میں خیالات بہت بدل گئے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کیا اس کو بیٹی دیں گے؟ یہ تو چپّل بناتا ہےـ‘

منگھوپیر گرم چشمہ کے پاس مغل ہزارہ گوٹھ میں ایک اندازے کے مطابق ہزارہ برادری کے پانچ ہزار افراد رہائش پذیر ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر افراد شہر کے مختلف علاقوں جیسے سفاری پارک، حسین ہزارہ گوٹھ اور گلستانِ جوہر اور آئی آئی چندریگر روڈ پر تازہ جُوس، درزی اور جوتے بنانے کا کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں!

پیروں میں چپل لیکن 500 لوگوں پر فتح

کراکس: ’اتنے بدصورت کہ اچھے لگنے لگتے ہیں‘

’میں ہزارہ ہوں تو کیا پاکستانی نہیں؟'

لیکن ہزارہ برادری میں موجود معتبر لوگوں کے بقول ان کا اصل ہُنر بلوچی چَوَٹ (بلوچی سینڈل) بنانے کا ہےـ

عبداللہ نے سنہ 1980 میں آٹھ سال کی عمر میں مچھ کے کاریگر استاد شبیر سے جوتے بنانے کا کام سیکھاـ ’میرے والد کوئلے کا کام کرتے تھے اور کام پر جاتے ہوئے مجھے کاریگر کے پاس چھوڑ دیتے تھےـ پہلے کوئٹہ میزان چوک حیدری مارکیٹ میں بہت کام کیا، لیکن پھر جب بلوچستان میں حالات خراب ہوئے تو میں کراچی آگیا۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
بلوچی چوَٹ بنانے کا زیادہ تر کام ہزارہ برادری کے لوگوں کے حصّے میں آتا ہے

حالات خراب ہوئے تو کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں جوتے بنانے کا کام ماند پڑگیا اور غریب کاریگر دیوالیہ ہوگئےـ جن کے پاس کچھ تھا وہ اب بھی ادھر ہیں۔ کچھ لوگوں نے تغاری اٹھانے کے کام کو ترجیح دی لیکن عبداللہ چونکہ تغاری اٹھانے کا کام نہیں کرسکتے تھے تو انھوں نے کراچی میں چاکیواڑہ بولان چپل ہاؤس میں کام سیکھا پھر منگھوپیر کا رُخ کیاـ

Image caption ہزارہ برادری میں اس کام کا آغاز سرکاری نوکریوں سے ملنے والی تنخواہ کے ناکافی ہونے کی وجہ سے مقبول ہوا

’اگر ایک شہر میں دس لاکھ لوگ رہتے ہیں اور اس میں آدھے لوگ چپل بنانے والے ہیں تو پھر خریدے کا کون؟ ہم مری آباد، کوئٹہ تک محدود ہوکر رہ گئے تھے اور خریدنے والے بھی ہمارے ہی لوگ تھےـ منافع نہیں مل رہا تھاـ‘

اسی طرح ہزارہ برادری میں اس کام کا آغاز سرکاری نوکریوں سے ملنے والی تنخواہ کے ناکافی ہونے کی وجہ سے مقبول ہواـ

’کام سیکھ کر دو چار شاگرد بنائے اور ان سے مزید اور تو اس سے فائدہ یہ ہوا کہ کام سیکھ کر خود اپنا سرمایہ بنانے کا موقع مل گیاـ اسی طرح سے ہمارا فن پھیل گیا۔ ہماری قوم میں اور آج بھی اچھی، مضبوط اور پائیدار بلوچی چپّل ہزارہ قوم بناتی ہےـ‘

چند سال پہلے تک منگھوپیر میں بھی طالبان کی موجودگی اور پھر رہائشیوں کو تنگ کرنے کی خبریں آتی رہیں، لیکن عبداللہ کہتے ہیں ان کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیاـ ’کراچی اس بارے میں اچھا ہے، یہاں مندر بھی ہے، مسجد بھی ہے، چرچ ہے، امام بارگاہ ہےـ یہاں مذہبی اعتبار سے مجھے کوئی تنگی نہیں محسوس ہوئی۔‘

Image caption عبداللہ کو خدشہ ہے کہ یہ کام آنے والی نسلوں کے کام نہیں آئے گا

بلوچی چَوَٹ کے بننے کے مختلف مراحل پر بات کرتے ہوئے عبداللہ نے بتایا کہ یہ ایک محنت طلب کام ہے جس کے لیے وقت مختص کتنا پڑتا ہےـ

’جن کے پاس دکان ہے تو وہ کاریگر ہونے کی وجہ سے ایک دن میں کئی جوتے مکمل کر لیتے ہیں۔ اُن دکانوں میں جوتے کا اوپر کا حصّہ اور تلوا بنانے کے لیے مختلف کاریگر ہوتے ہیں، لیکن مجھ جیسے دکاندار ایک دن میں ایک جوتا ہی بنا پاتے ہیں جس کے لیے 16 گھنٹے ایک جگہ بیٹھنا پڑتا ہے۔‘

جہاں تک ان چپلوں کی فروخت کی بات ہے تو عبداللہ کہتے ہیں کہ یہ چپل جتنے بناؤ اتنے بِک جاتے ہیں۔ ’میرے والد بتاتے تھے کہ بلوچی چَوَٹ جنگی جوتوں کے طور پر استعمال ہوتی تھی کیونکہ یہ مظبوط ہوتی ہے اور بہت سال چلتی ہے، لیکن اب یہ فیشن کے طور پر استعمال ہونے لگ گیا ہے۔ مجھے سیالکوٹ، گجرات اور اسلام آباد کے دیگر علاقوں سے بھی آرڈر آتے ہیں۔ یہ سب شوق کی بات ہے۔‘

لیکن عبداللہ کو خدشہ ہے کہ یہ کام آنے والی نسلوں کے کام نہیں آئے گاـ ’میرے تین بیٹے ہیں اور میں ان کو کہتا ہوں کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو یہ دکان سنبھال لو، لیکن وہ اس کام میں دلچسپی نہیں لیتے ہیں۔ ان کو برقعہ بنانے کا شوق ہے۔ میری بیوی بھی بلوچی پَشک (خواتین کا روایتی بلوچی لباس) کی کڑھائی کرنے کی شوقین ہے، لیکن آنے والی نسل کو مشکل ہے یہ کام ملےـ کیونکہ وہ اس کام سے ناخوش ہیں۔ چپل بنانے کو غلط سمجھتے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں