’ہم وفا لکھتے رہے وہ جفا پڑھتے رہے‘

Image caption شاہ محمود قریشی نے خوشخبری سنا دی کہ اس بار امریکہ کی جانب سے ڈو مور نہیں کہا گیا

امریکہ کے وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے پاکستان کو شدت پسندوں کے خلاف ’ڈو مور‘ یعنی ’مزید کام‘ کا کہا یا نہیں یہ معاملہ بھی پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی غلط فہمی کا شکار ہو گیا ہے۔

مائیک پومپیو کے پاکستان میں چند گھنٹے قیام اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکہ نے اس بار پاکستان سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ نہیں کیا۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان سے روانہ ہوتے ہی اپنے جہاز سے بیان جاری کیا کہ انھوں نے پاکستانی حکام پر شدت پسندوں کے خلاف ٹھوس اور مستقل بنیادوں پر کارروائیاں کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’پاک امریکہ تعطل ختم، کوئی ڈو مور کا مطالبہ نہیں ہوا‘

پاکستان میں شدت پسند: ’امریکی بیان حقیقت کے منافی ہے‘

’پاکستان طالبان کو مذاکرات کے لیے تیار کرے یا افغانستان بھیجے‘

’پاکستان کی خارجہ پالیسی دفتر خارجہ ہی میں بنے گی‘

کیا یہ ’ڈو مور‘ ہے؟

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف تو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔

’یہ کوئی نیا مطالبہ نہیں ہے۔ امریکی حکام کافی عرصے سے اور کافی سخت لہجے میں یہی بات کر رہے ہیں۔ جب ستمبر میں میری امریکی حکام سے ملاقاتیں ہوئیں تھیں تو بھی اسی قسم کی باتیں ہو رہی تھیں۔ ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ امریکہ نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کر لی ہو۔‘

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستانی دفتر خارجہ میں بہت تجربہ کار لوگ ہیں اور یہ ممکن نہیں ہے کہ انھیں یہ پیغام سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو۔

انھوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اس سارے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرے تاکہ اس طرح کی غلط فہمی دوبارہ نہ ہو۔

لیکن ایسا دو بار نہیں تین بار ہو چکا ہے کہ سفارتی سطح پر آنے والے پیغامات یا تبادلۂ خیال کو حکومتِ پاکستان نے غلط معنی پہنا دیے ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان سے روانہ ہوتے ہی اپنے جہاز سے بیان جاری کیا کہ انھوں نے پاکستانی حکام پر شدت پسندوں کے خلاف ٹھوس اور مستقل بنیادوں پر کارروائیاں کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے

وفاقی کابینہ کے حلف اٹھانے کے فوراً بعد شاہ محمود قریشی نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ انڈین وزیر اعظم نے اپنے پاکستانی ہم منصب عمران خان کے نام مبارکباد کے پیغام میں انھیں مذاکرات بحال کرنے کی دعوت دی ہے تاہم انڈین حکومت نے فوراً کہہ دیا کہ پاکستانی وزیراعظم کے نام تہنیتی پیغام میں ایسا کچھ نہیں تھا۔

پھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی عمران خان کو فون کیا۔ اس کال کے بعد امریکی دفتر خارجہ نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خاتمے پر بات کی تاہم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

امریکی حکام اپنے بیان پر قائم رہے بلکہ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس فون کال کا مسودہ پاکستانی وزیر خارجہ کو بھیجا گیا جس کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس معاملے پر ’مٹی ڈالنے‘ کی درخواست کی۔

ایک ایسی فون کال بھی سفارتی غلط فہمی کا باعث بنی جو آئی ہی نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستانی دفتر خارجہ میں بہت تجربہ کار لوگ ہیں اور یہ ممکن نہیں ہے کہ انھیں یہ پیغام سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو: خواجہ آصف

عمران خان ملک کے ’چوٹی‘ کے ٹی وی میزبانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال میں مصروف تھے کہ انھیں سیکریٹری خارجہ نے بتایا کہ فرانسیسی صدر ان سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ان سے کہیں آدھے گھنٹے بعد فون کریں۔ آدھے گھنٹے بعد جوں ہی سیکریٹری خارجہ کمرے میں داخل ہوئیں وزیر اعظم نے بآواز بلند دریافت کیا، پھر فرانسیسی کا فون ہے کیا؟ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس پر ہلکا سا قہقہ بھی بلند ہوا۔

یہ ساری روداد جب ان میں سے بعض اینکر پرسنز نے سوشل میڈیا پر جاری کی تو اگلے دن فرانسیسی سفارت خانے نے ان اطلاعات کو ’جعلی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی صدر نے تو عمران خان کو کال کی ہی نہیں۔ وہ تو فرانسیسی سفارت خانے کے اہلکار وزیراعظم سے معلوم کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ فراسنسیسی صدر کے ساتھ فون پر بات کرنے کے لیے کون سا وقت مناسب رہے گا؟

یہ تو خیر معاملہ تھا پیغامات یا فون کالز کا لیکن امریکی وزیر خارجہ کے بدھ کے مختصر دورۂ پاکستان میں دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم نکتے یعنی ’ڈو مور‘ کے معاملے پر کیا بات ہوئی اس بارے میں پاکستانی قوم شام تک منتظر رہی کہ دیکھیں اس بار بھی امریکہ کی جانب سے شدت پسندی کے خلاف ’مزید کام‘ کرنے کا حکم ملتا ہے یا نہیں۔

امریکی وزیرخارجہ کی پاکستان سے روانگی کے ساتھ ہی پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خوشخبری سنا دی کہ اس بار امریکہ کی جانب سے ڈو مور نہیں کہا گیا۔ قوم نے ابھی خوشی کے شادیانے بجانے شروع بھی نہیں کیے تھے کہ امریکی وزیر خارجہ کا وضاحتی بیان آ گیا۔

جتنا حساس یہ معاملہ اور دیگر سفارتی معاملات ہیں اس بارے میں سابق وزیرخارجہ خواجہ آصف کی اس رائے میں وزن ہے کہ ان معاملات کی تفتیش ہونی چاہیے تاکہ مزید ممالک ہمارے بارے میں یا ہم ان کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہ بنیں۔

یہ معاملہ زیادہ دیر نہیں چلے گا کہ ’ہم وفا لکھتے رہیں اور وہ جفا پڑھتے رہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں