’پاکستانی حکومت اور فوج دونوں ہی خطے میں امن کے لیے انڈیا سے بات چیت کے خواہشمند‘

فواد چوہدری
Image caption فواد چوہدری نے بتایا کہ انڈیا کو مذاکرات شروع کرنے اور تعلقات میں بہتری کے جو اشارے دیے گئے ہیں

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت اور فوج دونوں ہی خطے میں امن کے لیے انڈیا سے بات چیت کے خواہشمند ہیں لیکن انڈیا کی جانب سے نئی حکومت کو اس سلسلے میں مثبت جوابی اشارے نہیں ملے ہیں۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان اس سلسلے میں جلد ہی انڈیا سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے کرتار پور بارڈر کھول دے گا جس کے بعد یاتری ویزے کے بغیر گرودوارہ دربار صاحب کے درشن کر سکیں گے۔

انڈیا کی سرحد کے قریب ضلع نارووال میں واقع کرتارپور کا یہ گرودوارہ سکھ مذہب میں خاص اہمیت رکھتا ہے اور سکھوں کے عقیدے کے مطابق بابا گرو نانک دیو کی وفات بھی یہیں ہوئی تھی۔

گرودوارہ دربار صاحب دریائے راوی کے کنارے واقع ہے اور یہاں سے انڈیا کے ڈیرہ صاحب ریلوے سٹیشن کا فاصلہ تقریباً چار کلومیٹر ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ یاتریوں کے لیے سرحد کھولنے کے حوالے سے ایک نظام وضع کیا گیا ہے اور جلد ہی اس پر عملی پیشرفت ہو گی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’پاکستان کی خارجہ پالیسی دفتر خارجہ ہی میں بنے گی‘

عمران خان کی کیرالہ سیلاب متاثرین کے لیے امداد کی پیشکش

’مذاکرات سے تنازعات کا حل، تجارت عوام کی زندگیوں میں بہتری کا آسان نسخہ‘

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت اور فوج دونوں ہی خطے میں امن کے لیے انڈیا سے بات چیت کرنے کی خواہشمند ہیں اور عمران خان کی جانب سے دہلی کو اس کے کئی اشارے بھی دیے جا چکے ہیں لیکن ابھی تک ان کا مثبت جواب نہیں ملا۔

’عمران خان نے وزیراعظم بنتے ہی انڈین کھلاڑیوں کو دعوت دی۔ انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ دہلی ایک قدم بڑھائے تو ہم دو بڑھائیں گے۔ انھوں نے بھارت کے وزیراعظم سے بات چیت بھی کی۔‘

تاہم فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے ان مثبت اشاروں کا ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

’انڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ نریندر مودی نے جس طرح پاکستان مخالفت پر اپنی الیکشن مہم چلائی ہے اب بی جے پی آنے والے اس سوچ میں پھنسی ہوئی ہے کہ کہیں پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے ان کے ووٹرز پر کوئی فرق نہ پڑ جائے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ پی ٹی آئی کی انڈیا پالیسی گذشتہ حکومت سے کس طرح مختلف ہے، فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ اس میں تمام ادارے ایک صفحے اور ایک سوچ پر جمع ہیں اور یہ نوازشریف کی طرح عمران خان کی خارجہ پالیسی نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے۔

’ماضی میں امریکہ اور مغرب کو یہ شکایت بھی کہ سیاسی قیادت ایک بات کرتی ہے اور عسکری قیادت دوسری۔ لیکن اب یہ شکایت دور ہو گئی ہے۔ ہم اداروں کے ساتھ ہیں اور ادارے ہمارے ساتھ ہیں۔‘

فواد چوہدری نے بتایا کہ انڈیا کو مذاکرات شروع کرنے اور تعلقات میں بہتری کے جو اشارے دیے گئے ہیں اسے فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

’عمران خان اور جنرل باجوہ دونوں سمجھتے ہیں کہ ایک ملک اکیلا ترقی نہیں کرتا بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں۔ اور وہ دونوں ہی سمجھتے ہیں کہ اگر خطے میں مکمل امن نہیں ہو گا تو سب ہی پیچھے رہ جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکی وفد سے ملاقاتیں بہت خوشگوار ماحول میں ہوئیں: فواد چوہدری

مائیک پومپیو کے دورے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے بیانات میں تضاد کے سوال پر فواد چوہدری نے بتایا کہ امریکی وفد سے ملاقاتیں بہت خوشگوار ماحول میں ہوئیں۔

’وزیراعظم نے مجھے خود بتایا کہ ماحول توقع سے بالکل برعکس تھا۔ ملاقاتیں بہت اچھی رہیں اور کھل کر بات چیت ہوئی اور ہماری اور امریکی وفد کی سوچ میں اتنا فرق نہیں تھا جنتا کہ انھیں پہلے لگ رہا تھا۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

نئے پاکستان کے پہلے سو دن کیسے ہوں گے؟

’جنرل باجوہ صرف ایک لائن میں مجھے اتنا کچھ دے گئے‘

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان کسی بھی دوسرے وزیراعظم کی نسبت افغانستان اور پشتون کلچر کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور ان کی مقبولیت بھی کافی مدد گار ہو سکتی ہے۔ اور عمران خان سمجھتے ہیں کہ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہونا چاہیے اور اب امریکہ میں بھی یہ سوچ پیدا ہوئی ہے۔ جو مفید ثابت ہوگی۔

اس سوال پر کہ کیا اپوزیشن کا انتخابات میں دھاندلی کے الزام پر پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ پورا کیا جائے گا وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ عمران خان یہ یقین دہانی پہلے ہی کروا چکے ہیں لیکن لگتا ایسا ہے کہ اپوزیشن اپنے اس مطالبے میں سنجیدہ ہی نہیں ہے۔ اور وہ اس پر زور ہی نہیں دے رہی۔

پہلے چند روز میں اپنی حکومت سے متعلق پیدا ہونے والے تنازعات سے متعلق فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ لگتا ایسا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف 11 برس سے حکومت میں ہے۔ یہ سب میڈیا کی مہربانی ہے۔ لیکن اتنی بیداری اور حکومت کے اقدامات پر گہری نظر ملک کے لیے اچھی ثابت ہو گی۔

اسی بارے میں