عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کمیٹی کی رکنیت سے ہٹانے کا فیصلہ

عاطف میاں تصویر کے کاپی رائٹ World Economic Forum
Image caption حکومت نے اس سے قبل عاطف میاں کی تقرری کی مخالفت کرنے والوں کو انتھاپسند قرار دیا تھا

وفاقی حکومت نے ماہر معاشیات عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کمیٹی کی رکنیت سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کی نامزدگی پر کچھ حلقوں سے اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ ان کا تعلق جماعتِ احمدیہ سے ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے جمعے کی صبح سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’حکومت علما اور تمام معاشرتی طبقات کو ساتھ لے کر ہی آگے بڑھنا چاہتی ہے اور اگر ایک نامزدگی سے مختلف تاثر پیدا ہوتا ہے تو یہ مناسب نہیں۔‘

اس سے قبل پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے بھی اپنی ٹویٹ میں یہ خبر دی تھی اور کہا تھا کہ عاطف میاں نے ای اے سی سے اپنا عہدہ چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور ان کی جگہ ہونے والی تعیناتی کا بعد میں اعلان کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

خیال رہے کہ عاطف میاں کی مذہبی حیثیت کی وجہ سے ان کی نامزدگی کے بعد حکومت کو چند سیاسی جماعتوں سمیت مختلف حلقوں کی جانب سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ تاہم ابتدا میں حکومت نے اس نامزدگی کا دفاع کیا تھا۔

وزیر اطلاعات چوہدری فواد نے رواں ہفتے کے دوران ایک پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کیا پاکستان میں اقلیتوں کے کسی کردار کے اوپر پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ کیا پاکستان میں جو اقلیتیں ہیں انھیں اٹھا کر باہر پھینک دینا چاہیے۔ ایک آدمی ہے کہ جس کے بارے میں پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ اگلے پانچ سال میں اسے نوبل انعام ملنے والا ہے۔ اسے اکنامگ ایڈوائزی کونسل میں لگایا ہے اسلامی نظریاتی کونسل میں تو نہیں لگا دیا۔‘

مزید پڑھیے

لاہور: احمدی خاتون پروفیسر کا قتل، تین ملزمان گرفتار

قیامِ پاکستان سے اب تک احمدیوں کا ریکارڈ طلب

’فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز احمدی ملک کے لیے خطرہ ہیں‘

ان کا کہنا تھا جو میاں عاطف کی تقرری کی مخالفت کر رہے ہیں وہ انتہاپسند ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اقلیتوں کا بھی اتنا ہی ہے جتنا پاکستان اکثریت والوں کا ہے۔ مجھے نہیں لگتا اس پر کسی کو بھی اعتراض کرنا چاہیے اور جو اعتراض کر رہے ہیں وہ انتہاپسند ہیں۔۔۔ ہر مسلمان کا یہ مذہبی فریضہ ہے کہ وہ اقلیتوں کی حفاظت کرے یہ صرف حکومت کا کام نہیں ہے۔‘

سینیئر تجزیہ نگار امتیاز گل نے اس خبر کے بعد اپنے ردعمل میں لکھا کہ اب وقت آگیا مساوی شہری حقوق کے آرٹیکل 25 کو ختم کر دیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

کالم نگار زاہد حسین نے لکھا کہ حکومت انتہا پسندوں کے سامنے جھک گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

لیکن پی ٹی آئی کے مخالفین اسے سابقہ دور حکومت میں پی ٹی آئی کی ختم نبوت کے معاملے پر اپنائی گئی پالیسی کی ایک کڑی بھی قرار دے رہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے ٹوئٹ کی کہ ’میرٹ کو مذہب کے ساتھ مکس نہیں کرنا چاہیے۔ اسلام میرٹ کو مقدم رکھتا ہے۔‘

ایک صارف فرزانہ نے لکھا کہ یہ انصافیوں کی جیت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

سینیئر کالم نویس انصار عباسی نے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

لیکن ٹوئٹر پر اسی فیصلے کے بعد نئے پاکستان کے نعرے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ٹوئٹر صارف رشید نے لکھا ’ہا ہا ہا، وہی پرانا پاکستان، پی ٹی آئی بھی انتہاپسندی اور ’ملائزم‘ کے سامنے کھڑی نہیں ہو سکی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

صارف ایمل خان کاکڑ نے لکھا کہ یہ وقت ہے کہ اب خادم حسین رضوی یا پھر فضل الرحمن کو اقتصادی کونسل کی رکنیت دی جائے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر آج کے دن کا تاریخی حوالہ بھی دیا جا رہا ہے جب سات ستمبر 1974 کو سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں