گرودوارہ کرتارپور:3 کلومیٹر کا فاصلہ،7 دہائیوں کی مسافت

گرودوارہ

کرتارپور میں واقع دربار صاحب گرودوارہ کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند کلومیٹر کا ہی ہے اور نارووال ضلع کی حدود میں واقع اس گرودوارہ تک پہنچنے میں لاہور سے 130 کلومیٹر اور تقریباً تین گھنٹے ہی لگتے ہیں لیکن پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدہ تعلقات کی تاریخ نے اس سفر کو مزید طویل بنا رکھا ہے۔

تحصیل شکرگڑھ میں واقع سکھوں کا یہ مقدس مقام پاکستان اور انڈیا کے درمیان آج کل خبروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’انڈیا سے مذاکرات کے لیے فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے‘

’جنرل باجوہ صرف ایک لائن میں مجھے اتنا کچھ دے گئے‘

پہلے وزیراعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں آرمی چیف کی جانب سے انڈین کرکٹر نوجوت سدھو سے اس بارے میں بات چیت اور اب بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے اس گرودوارے تک رسائی دیے جانے کے منصوبے نے انڈیا میں بسنے والے کروڑوں سکھوں کے ارمان جگا دیے ہیں۔

کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ یہیں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتے ہیں۔

گرودوارہ

یہ گرودوارہ تحصیل شکر گڑھ ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے، راوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی انڈین سرحد ہے۔

گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقام ہے۔ پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس یہ سرحد کے قریب ایک دور دراز گاؤں میں ہے۔

پکی سڑک یعنی شکر گڑھ روڈ سے نیچے اترتے ہی ایک دلفریب منظر آپ کا منتظر ہوتا ہے۔ سرسبز کھیت آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں، پگڈنڈیوں پر بھاگتے دوڑتے بچے اور ریگتی بیل گاڑیاں، دور درختوں کی چھاؤں میں چلتے ٹیوب ویلز اور کھیتوں کے بیچوں بیچ ایک سفید عمارت۔

بی بی سی

دھان کی فصل اور پرسکون دیہی ماحول میں گردوارے کی سنگِ مرمر کی عمارت دور سے نیلے آسمان تلے لہلاتے کھیتوں میں بیٹھے کسی سفید پرندے کی مانند دکھائی دیتی ہے۔

یہاں سے کھیتوں میں سے گزرتے ہوئے گردوارے تک کا سفر ایک خوشگوار تازگی کا احساس دلاتی ہے۔

گرودوارے کی عمارت کے باہر ایک کنواں ہے جسے گرو نانک دیو سے منسوب کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں سکھوں کا عقیدہ ہے کہ یہ گرو نانک کے زیر استعمال رہا۔ اسی مناسبت سے اسے 'سری کُھو صاحب' کہا جاتا ہے۔

کنواں
گولہ

کنویں کے ساتھ ہی ایک بم ٹکڑا بھی شیشے کے شو کیش میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے۔ اس پر درج تحریر کے مطابق یہ گولہ انڈین ایئر فورس نے سنہ 1971 کی انڈیا پاکستان جنگ کے دوران پھینکا تھا جسے کنویں نے ’اپنی گود میں لے لیا اور دربار تباہ ہونے سے محفوظ رہا۔‘

گردوارے کے داخلی دروازے کے باہر سر ڈھانپنے کے بارے میں ہدایت درج ہے اور ملک کے دیگر گردواروں کی طرح‌ یہاں داخل ہونے کے لیے آپ کی مذہبی شناخت نہیں پوچھی جاتی۔

گرنتھ صاحب

گردوارے کے خدمت گاروں میں سکھ اور مسلمان دونوں شامل ہیں اور ہر آنے والے کے لیے یہاں لنگر کا بھی اہتمام ہے۔

میں جب یہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ گرودوارے کے دالان میں قبر کے قریب ایک نوبیاہتا جوڑا فاتحہ پڑھ رہا تھا جبکہ سکھ نوجوان سماھ کے قریب کھڑے تھے۔

مقامی افراد کے مطابق یہاں مسلمان باقاعدگی سے فاتحہ خوانی کے لیے آتے ہیں۔

قبر
سمادھ

بابا گرو نانک کو مقامی مسلمان افراد ایک برگزیدہ ہستی کا درجہ دیتے ہیں جبکہ سکھ انھیں سکھ مذہب کا بانی سمجھتے ہیں۔

گردوارے کی مرکزی عمارت کے باہر کشادہ صحن ہے جہاں لنگر خانہ اور یاتریوں کے قیام کے کمرے موجود ہیں۔

گردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی میں آنے والی سیلاب میں تباہ ہوگئی تھی ۔ موجودہ عمارت سنہ 1920 سے 1929 کے درمیان 1,35,600 روپے کی لاگت سے پٹیالہ کے مہاراجہ سردار پھوبندر سنگھ نے دوبارہ تعمیر کروائی تھی۔ سنہ 1995 میں حکومت پاکستان نے بھی اس کے دوبارہ مرمت کی تھی۔

گرودوارہ

تقسیم ہند کے وقت یہ گردوارہ پاکستان کے حصے میں آیا لیکن قیامِ پاکستان کے بعد تقریباً 56 سال تک یہ گردوارہ ویران رہا۔ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں کے کشیدہ تعلقات کے سبب یہ گرودوارہ عرصہ دراز تک یاتریوں کا منتظر رہا۔

سرحد کے دوسری جانب سکھ یاتری گرودوارہ دربار صاحب کو دیکھنے کے لیے دوبینوں کا استعمال کرتے ہیں، اس حوالے سے انڈین بارڈر سکیورٹی فورسز نے خصوصی طور پر ’درشن ستھل‘ قائم کیے ہیں تاکہ وہ اس جانب واضح طور پر گردوارے کے درشن کر سکیں۔

گرودوارہ
لنگر

کرتار پور-ڈیرہ بابا نانک راہداری کے حوالے سے پہلی بار 1998 میں انڈیا اور پاکستان کے حوالے سے مشاورت کی گئی تھی، اب 20 برس بعد دوبارہ یہ خبروں کا موضوع بنا ہوا ہے۔

دونوں جانب سے امید کی جا رہی ہے کہ اب کی بار ماضی کی تلخیوں کو پس پشت ڈال کر سکھوں کے اس دیرینہ مطالبے پر شاید کچھ پیش رفت ہو جائے گی۔

بقول پنجابی شاعر سرجیت پاتر:

کل وارث شاہ نو ونڈیا سی، اج شیو کمار دی واری ہے

او زخم تہانوں بھل وی گئے، جے نیویاں دی ہور تیاری ہے

۔

اسی بارے میں