از خود نوٹس، عدالت کا اختیار ہے کیا: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی پر منتج ہونے والے مقدمہ کی بنیاد بننے والے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت سپیریم کورٹ کو حاصل اختیارات کی تشریح کے لیے سپیریم کورٹ آف پاکستان نے ملک میں وکلا کی مقتدر تنظیموں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے جن تنظیموں کو نوٹس جاری کیے ہیں ان میں پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شامل ہیں۔ سپریم کورٹ نے ابھی یہ طے نہیں کیا کہ اس اہم معاملے کی سماعت کب ہوگی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے از خود نوٹس سے متعلق متعدد درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا کہ عدالت عظمیٰ چاہتی ہے کہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ اُسے ائین کے ارٹیکل 184 کے سب سیکشن 3 کے تحت کیا اختیارات حاصل ہیں اور آئین کے اس سیکشن کے تحت ان کے اختیارات کا دائرہ کار کہاں تک ہے۔

واضح رہے کہ آئین میں یہ لکھا ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کو کسی بھی ایسے واقعے سے متعلق از خود نوٹس لینے کا اختیار حاصل ہے جو مفاد عامہ کا معاملہ ہو یا پھر جہاں پر بنیادی انسانی حقوق پامال ہو رہے ہوں۔

سپریم کورٹ کی تاریخ میں ایک شراب کی بوتل پر بھی از خود نوٹس لیا گیا ہے جبکہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس کا معاملہ جس کے بارے میں پہلے تو سپریم کورٹ نے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کو غیر ضروری قرار دیکر مسترد کردیا گیا تھا، لیکن بعد میں ان درخواستوں کو از خودنوٹس میں تبدیل کردیا تھا۔

سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے خلاف جعلی بینک اکاونٹس کے مقدمے کو بھی از خود نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنا دی جس میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ایک افسر بھی شامل ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کامران مرتضی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ادارے نے متعدد بار سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ وہ اپنے از خود نوٹس لینے کے اختیارات کا از سر نو جائزہ لے۔ اُنھوں نے کہا کہ بہت سے ایسے از خود نوٹس ہیں جو ذاتی پسند اور ناپسند کے تحت لیے گئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ از خود نوٹس کی اگر واضح طور پر تشریح نہ کی گئی تو پھر لوگوں کا سپریم کورٹ پر اعتماد میں کمی آئے گی۔

کامران مرتضی کا کہنا تھا کہ 10 ستمبر کو نیا عدالتی سال شروع ہو رہا ہے اور اس ضمن میں سپریم کورٹ کا فل کورٹ ریفرنس ہوگا جس میں از خود نوٹس پر عدالتی اختیار کا معاملہ بھی اُٹھایا جائے گا۔

واضح رہے کہ انصاف سے متعلق بین الاقوامی عدالتی کمیشن نے سنہ 2015 کی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لینے سے متعلق احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ آئین کے اس ارٹیکل کا ضرورت سے زیادہ استعمال سے قانون کی حکمرانی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

اسی بارے میں